سندھ کی طرح کراچی کی تقسیم بھی قابل قبول نہیں: سید مصطفی کمال 

سندھ کی طرح کراچی کی تقسیم بھی قابل قبول نہیں: سید مصطفی کمال 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی صوبائی حکومت کو طول دینے کیلئے سندھ کی تقسیم نامنظور کا نعرہ لگاتی ہے، جبکہ سندھ کے دارالخلافہ کراچی کو 6 ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے، جس طرح سندھ کی تقسیم نامنظور ہے اسی طرح سندھ کے دارالخلافہ کراچی کی تقسیم بھی نا منظور ہے۔ چونکہ پیپلز پارٹی کو کراچی سے ووٹ نہیں ملتا لحاظہ کراچی کے قبضے کیلئے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے تعصب کا چشمہ لگا کر انتظامی بنیادوں پر کراچی کو چھ ڈسٹرکٹ میں تقسیم کردیا ہے۔ اختیارات اور وسائل کو نچلی ترین سطح پر منتقل کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ان پر قابض ہوگئی ہے۔ کراچی ہمیشہ سے ایک ڈسٹرکٹ تھا اور انتظامی لحاظ سے ایک ڈسٹرکٹ ہی رہنا چاہیے جس کے نیچے 18 ٹاؤن تھے جسکا ایک مئیر تھا۔ ایک مئیر کے نیچے 18 ٹانز ڈی سینٹرلائیزیشن کی بہترین مثال تھے۔ پیپلز پارٹی نے اختیارات اور وسائل پر قبضے کی خاطر ایک ڈسٹرکٹ کو چھ ڈسٹرکٹ میں تقسیم کر کہ ایک ہی شہر میں چھ مئیر بنا دیے ہیں جسکی وجہ سے شہر کا مربوط نظام تحس نحس ہوگیا ہے۔ ہمیں کراچی کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں۔ مصطفی کمال نے این ڈی ایم اے کی جانب سے نالوں کی صفائی پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزیراعظم کی نیک نیتی پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں لیکن برساتی نالوں کی صفائی کا کام سال بھر ہونے والا کام ہے،  ایک مرتبہ کی صفائی سے کراچی والوں کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا، برساتی نالوں کی صفائی منصوبہ بندی کے تحت مستقل بنیادوں پر ہونے والا کام ہے جو ایک سال میں کئی بار کی جاتی ہے، جسکے لیے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین اور مستقل مشینری موجود ہے جسے بہتر انداز میں فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے، جب تک بلدیاتی نظام درست طور پر کام نا کر رہا ہو، این ڈی ایم اے سارا سال روزانہ 12 ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھا سکتی۔ صفائی کی کوئی بھی مہم چلا کر ختم کر دی گئی تو چند ہی دنوں میں صورتحال پہلے جیسی ہوجائے گی۔ کراچی کے مسائل کو عارضی طور پر حل  کرنے کے بجائے مستقل حل سوچنے کی ضرورت ہے اور مستقل حل یہ ہے کہ بلدیاتی حکومت کے اختیارات کو مستقل کرنے کی ضرورت ہے اور اگر اختیارات نہیں ہیں تو حکومت کو آئینی قانون سازی کے زریعے اختیارات دینے چاہیے۔

مزید :

صفحہ آخر -