کلبھوشن یادیو کیلئے وکیل تقرر، حکومت بھارت سے دوبارہ رابطہ کرے: اسلام آباد ہائیکورٹ 

  کلبھوشن یادیو کیلئے وکیل تقرر، حکومت بھارت سے دوبارہ رابطہ کرے: اسلام آباد ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو بھارت سے دوبارہ رابطے کی ہدایت کر تے ہوئے سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ گزشتہ روز کلبھوشن یادیو کیلئے وکیل مقرر کرنے سے متعلق کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل خالد جاو ید خان نے دلائل دیئے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکو ر ٹ نے استفسار کیا کہ، ہمیں کلبھوشن کیس کا پس منظر بتائیں، عدالت کو یہ بھی بتائیں کہ آرڈیننس کیوں جاری کیا گیا۔ اٹار نی جنرل نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 ء کو غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہونے پر گرفتار کیا، کلبھوشن یادیو نے ”را“کے ایما پر دہشتگرد کارروا ئیوں میں ملوث ہونے کا ا عتر اف کیا، بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان میں جاسوسی کا بھی اعتراف کیا۔ کلبھوشن یادیو کو ملٹری کورٹ نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کر کے سزا سنائی، 8 مئی 2017 ء کو بھارت نے عالمی عدالت انصا ف سے رجوع کیا اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کرنے اور قونصلر رسائی نہ دینے الزام لگایا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کلبھوشن یادیو اور بھارت نے وکیل کی سہولت لینے سے انکار کیا، بھارت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے بھاگ رہا ہے، عالمی عدالت کی ہدایت پر ہی کلبھوشن یادیو کو دو مرتبہ قونصلر رسائی دی گئی۔ عالمی عدالت انصاف نے سزائے موت پر حکم امتناع جاری کیا جو آج بھی موجود ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سزائے موت پر عملدرآمد کیخلاف سٹے آرڈر اب بھی موجود ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا سزائے موت پر عالمی عدالت انصاف کا سٹے آرڈر موجود ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملد ر آمد کیلئے آرڈیننس جاری کروا کے سزا کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کرنے کا موقع دیا گیا۔عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت کو بھارت سے دوبارہ رابطے کی ہدایت کرتے ہو ئے ریمار کس دیئے کہ چاہتے ہیں کہ کلبھوشن یادیو یا بھارتی حکومت اس کیس کا حصہ بنیں۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دو سے تین ہفتے کا وقت مانگ لیا جس پر چیف جسٹس ا طہر من اللہ نے سماعت3 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -