امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کے پیچھے پڑ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کے پیچھے پڑ گئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کے پیچھے پڑ گئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبول ترین چینی سوشل میڈیا ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ پر امریکہ میں پابندی عائد کیے جانے کے بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’مائیکروسافٹ‘ نے اسے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر دی ہے اور اس حوالے سے امریکی حکومت اور ٹک ٹاک کی ملکیت رکھنے والی کمپنی ’بائٹ ڈانس‘ (ByteDance)کے ساتھ مائیکروسافٹ کے مذاکرات جاری ہیں۔ مائیکروسافٹ کی طرف سے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بلاگ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ٹک ٹاک خریدنے کے لیے امریکی حکومت اور بائٹ ڈانس کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم صدر ڈونلڈٹرمپ اور امریکی حکومت کے ٹک ٹاک کے متعلق خدشات سے مکمل آگاہ ہیں اور انہیں دور کرنے کے لیے ہماری حکومت اور صدر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

ٹک ٹاک پر امریکی حکومت کی طرف سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ ایپلی کیشن امریکی شہریوں کا ڈیٹا چوری کر رہی ہے جو کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹک ٹاک کی انتظامیہ امریکی حکومت کو اس حوالے سے مطمئن کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اب اس مسئلے کا متبادل حل یہ سامنے آیا ہے کہ مائیکروسافٹ ٹک ٹاک کو خرید لے۔ مائیکروسافٹ کی طرف سے بلاگ میں بتایا گیا ہے کہ ”مائیکروسافٹ ٹک ٹاک کو خریدنے اور سکیورٹی کے معاملات پر نظرثانی کرنے کے لیے پرعزم ہے اور امریکہ کو مناسب اقتصادی فوائد بھی فراہم کرنا چاہتی ہے۔ بائٹ ڈانس کے ساتھ مائیکرسافٹ کے مذاکرات ممکنہ طور پر 15ستمبر 2020ءتک مکمل ہو جائیں گے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو گئے تو مائیکروسافٹ امریکہ سمیت چند مخصوص مارکیٹس میں ٹک ٹاک کے آپریشنز خرید لے گی۔ ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ ساتھ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی ٹک ٹاک کی سروس چلانے کی ذمہ داری مائیکروسافٹ کے پاس آ جائے گی، جبکہ باقی مارکیٹ (ممالک) میں ٹک ٹاک کی ملکیت چینی کمپنی ’بائٹ ڈانس‘ ہی کے پاس رہے گی۔ “ واضح رہے کہ ٹک ٹاک کی امریکی شاخ کی مالی وقعت 15سے 30ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ اگر مائیکروسافٹ کو ان مذاکرات میں کامیابی مل جاتی ہے تو اسے ایک بار پھر سوشل نیٹ ورکس کی دنیا میں قدم رکھنے کا بھی موقع مل جائے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -