’جس کو بھی شادی کا انوائٹ چاہیے پہلے مجھے اس موضو ع پر مضمون لکھ کر دکھائے‘ شادی کا دعوت نامہ دینے کے لیے دلہن کی مہمانوں سے انوکھی فرمائش

’جس کو بھی شادی کا انوائٹ چاہیے پہلے مجھے اس موضو ع پر مضمون لکھ کر دکھائے‘ ...
’جس کو بھی شادی کا انوائٹ چاہیے پہلے مجھے اس موضو ع پر مضمون لکھ کر دکھائے‘ شادی کا دعوت نامہ دینے کے لیے دلہن کی مہمانوں سے انوکھی فرمائش

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں ایک دلہن نے شادی میں شرکت کے لیے اپنے والدین اور دیگر مہمانوں سے ایسا مطالبہ کر دیا کہ بات انٹرنیٹ پر آئی تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور لوگ اس دلہن پر برس پڑے۔ میل آن لائن کے مطابق اس دلہن کی بہن نے بحث و مباحثے کی ویب سائٹ Redditپر ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ اس کی بہن نے دوست احباب، رشتہ داروں اور حتیٰ کہ اپنے ماں باپ سے بھی مطالبہ کر دیا ہے کہ جو بھی اس کی شادی میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ اس سے شادی کا دعوت نامہ بھیجنے کی ’بھیک‘ مانگے۔ 

لڑکی نے لکھا ہے کہ ”میری بہن نے شرط رکھ دی ہے کہ جو لوگ اس کی شادی میں آنا چاہتے ہیں وہ پانچ سو الفاظ کے دو دو مضامین لکھیں جن میں وہ اس سے التجا کریں کہ وہ انہیں شادی کا دعوت نامہ بھیج دے۔ لوگوں میں سے جس جس نے اپنے مضامین میں ٹھیک سے التجا کی انہیں وہ دعوت نامے بھیجے گی، باقی کو نہیں۔ “ لڑکی کا کہنا تھا کہ ”میری بہن کا یہ مطالبہ ایسا ہی ہے جیسے ہم نے اس کی شادی میں شریک نہیں ہونا بلکہ کسی ملازمت کے لیے باس کو درخواست لکھنی ہے۔“ اس پوسٹ پر کمنٹس میں اکثریت کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی اس لڑکی کی شادی میں شریک نہیں ہونا چاہیے، جب کوئی شریک نہیں ہو گا تو الٹا خود وہ التجا کرے گی۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ ”دلہن کے گھروالوں اور رشتہ داروں کو شرط رکھ دینی چاہیے کہ اب وہ اپنا شادی کا دعوت نامہ ایک التجائیہ مضمون کی صورت میں انہیں بھیجے، جن اچھا لگے وہ شادی میں چلے جائیں، باقی مسترد کر دیں۔“میل آن لائن نے بھی اس معاملے پر ایک سروے کیا جس میں سوال پوچھا گیا کہ ’کیا اس دلہن پر اس کے رشتہ داروں اور گھر والوں کا غصہ بجا ہے؟‘ اس کے جواب میں 96فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا دلہن پر غصہ بالکل جائز ہے کیونکہ اس نے شرط ہی ایسی بیہودہ رکھی ہے۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -