”لاہور سے لاپتا ہونے والی چاروں بچیوں کو رکشہ ڈرائیور نے جسم فروشی کے اڈے پر فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا اور۔۔“کیس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی 

”لاہور سے لاپتا ہونے والی چاروں بچیوں کو رکشہ ڈرائیور نے جسم فروشی کے اڈے پر ...
”لاہور سے لاپتا ہونے والی چاروں بچیوں کو رکشہ ڈرائیور نے جسم فروشی کے اڈے پر فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا اور۔۔“کیس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ہنجروال سے لاپتا ہونے والی بچیاں ساہیوال سے مل گئیں ہیں ،پولیس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاروں بچیوں کو دلدل میں جانے سے بچا لیا ، رکشہ ڈرائیور انہیں جسم فروشی کے اڈے پر فروخت کرنا چاہتا تھا ،دو خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ۔

نجی ٹی وی جیونیوز نے پولیس ذرائع سے بتایا ہے کہ چاروں بچیوں نے سہانے مستقبل کیلئے گھر چھوڑا تھا ، کنزہ اور انعم سوتیلی بہنیں ہیں اور وہ اپنے والد کے پاس رہتی تھیں جس نے اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دیدی تھی ، بچیوں کا والد عرفان نشے کا عادی ہے ، بچیاں اپنے باپ کی نشے کی عادت اور حالات سے تنگ تھیں دونوں سوتیلی بہنوں نے ہمسائے اکرم کی بیٹیوں عائشہ اور سمرین کو اپنے ساتھ ملایا اور سہانے مستقبل کیلئے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی قدم اٹھایا ۔

بچیاں چاہتی تھیں کہ ان کے پاس ڈھیر سارا پیسہ آجائے اور ان کی مشکلات ختم ہوں ، بچیاں گھر سے بھاگنے کے بعد گلشن راوی پہنچیں جہاں ایک بچی نے اپنے محلے دار عمر نامی لڑکے کو فون کر کے بلایا اور انہیں اپنا پلان بتایا جس پر وہ گھبرا گیا اور اس نے واپس جا کر ان کے والدین کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاپتا ہو گئی ہیں ۔یہ بچیاں راسلان نامی رکشہ ڈرائیور کے ہتھے چڑھ گئیں اور وہ انہیں رات بھر اپنے ساتھی کے ساتھ لے کر گھومتا رہا ، پھر اس کے بعد یہ بچیاں ایک اور رکشہ ڈرائیور کے نرغے میں آ گئیں جو انہیں اپنے اپنی بیوی اور ایک دوست کے ہمراہ ساہیوال لے کر پہنچا۔پولیس کا کہناہے کہ یہ ڈرائیور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اس نے چاروں بچیوں کو جسم فروشی کے اڈے پر فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ ساہیوال میں جرائم پیشہ افراد سے رابطے میں بھی تھا تاہم پولیس نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے چاروں بچیوں کو بازیاب کروالیا ۔

مزید :

قومی -