وزیر اعظم آزاد کشمیر کے انتخاب میں علم الاعداد کا کتنا عمل دخل ہے؟ بڑا دعویٰ

وزیر اعظم آزاد کشمیر کے انتخاب میں علم الاعداد کا کتنا عمل دخل ہے؟ بڑا دعویٰ
وزیر اعظم آزاد کشمیر کے انتخاب میں علم الاعداد کا کتنا عمل دخل ہے؟ بڑا دعویٰ

  

مظفر آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سردار عبدالقیوم نیازی آزاد کشمیر کے 13 ویں وزیر اعظم منتخب ہوچکے ہیں۔ ان کے بارے میں اب یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ان کا انتخاب علم الاعداد کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عبدالقیوم نیازی وزیر اعظم کے امیدواروں کی فہرست میں ہی شامل نہیں تھے۔ عمران خان تو انہیں جانتے تک نہیں تھے جس کا ثبوت عباس پور جلسے میں سامنے آیا جب عمران خان نے کسی نیازی کے آزاد کشمیر میں موجود ہونے پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔

 وزارت عظمیٰ کیلئے سردار تنویر الیاس، بیرسٹر سلطان، ، خواجہ فاروق اور اظہر صادق کا انٹرویو ہوا تھا جبکہ عبدالقیوم نیازی کا وزارت عظمیٰ کیلئے کوئی رسمی انٹرویو بھی نہیں ہوا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی آپس کی کھینچا تانی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے زائچے اور استخارے کی مدد لینے کا فیصلہ کیا جس میں ضلع پونچھ کا نام سامنے آیا۔ اس کے بعد مشاورت سے حلقہ ایل اے 18 پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے انتخاب سے پہلے ہی کچھ صحافیوں نے سوشل میڈیا پر یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ علم الاعداد کی روشنی میں 13 اور 18 کے ہندسے سامنے آئے ہیں اور انہی حلقوں کا کوئی نو منتخب رکن وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھے گا۔

عبدالقیوم نیازی کے وزیر اعظم آزاد کشمیر بننے کے بعد یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کو ایک اور "ع" مل گیا ہے۔ عارف علوی، عمران خان، عثمان بزدار کے بعد عبدالقیوم نیازی موجودہ سسٹم کے چوتھے "ع" ہیں۔

مزید :

علاقائی -آزاد کشمیر -مظفرآباد -