ادھر سید کے ہاتھ اٹھے،ادھرکرم ہو گیا....!!

 ادھر سید کے ہاتھ اٹھے،ادھرکرم ہو گیا....!!
 ادھر سید کے ہاتھ اٹھے،ادھرکرم ہو گیا....!!

  

اکیسویں صدی کی "جدید دنیا "کے "مادی فلسفے" اپنی جگہ "پرکشش" مگر دینی مدارس کا "روحانی نظام "بھی بڑا ہی" سحر انگیز" ہے...ادھر قال قال رسول اللہ ﷺکی "صدا "لگانے والے کسی "درویش" نے آسمانوں والے رب کی طرف دیکھا،ادھر خزانوں کے مالک نے اپنے فضل و کرم کی بارش کردی.....

کچھ مہینے پہلے لاہور کے ایک بڑے دینی ادارے میں کئی کئی مہینے سے اپنی "ننھی منی تنخواہوں "کو ترستے "مفلوک الحال" اساتذہ کرام کی "کسمپرسی "کا احوال سنا تو  دل خون کے آنسو رو دیا ...."قدیم اور جدید زمانے" کی "شش و پنج "میں تھا کہ اپنے وقت کے سب سے بڑے خطیب مولانا ضیا القاسمیؒ کے ایک "گوہر پارے "نے "ڈھارس" بندھائی کہ مسجد نبوی شریف میں قائم پہلی اسلامی درسگاہ" اصحابؓ صفہ" سے روحانی طور پر ملحق قرآن و حدیث کی یہ دانش گاہیں کیسے ایمان افروز نظام کے تحت چلتی ہیں... !!!

مولانامرحوم جتنے بڑےخطیب اتنےبڑے ادیب بھی تھے...بولتےتو پھول جھڑتےلکھتے توموتی بکھرتے ... مکہ میں مقیم انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر ڈاکٹر سعید عنایت اللہ بتاتے ہیں کہ مرشد عبدالحفیظ مکی رحمتہ اللہ علیہ کہا کرتے قاسمیؒ صاحب ہمارا چہرہ اور زبان ہیں....

خطیب ایشیا و یورپ اپنی کتاب"میرے دور کے علما اور مشائخ، جنہیں میں نے قریب سے دیکھا" میں اپنے مرشد حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک دعا سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ کس درد ناک انداز میں اس مستجاب الدعوات سید نے ایک شب بارگاہ خداوندی میں ہاتھ اٹھائے اور کس طرح راتوں رات رحمت کا دریا ٹھاٹھیں مار اٹھا....مولانا قاسمیؒ لکھتے ہیں: جامعہ اشرفیہ لاہور میں خانوادہ نانوتوی کے عظیم فرزند قاری محمد طیب قاسمیؒ کے قدموں میں بیٹھا تھا،دارالعلوم دیوبند کے وہی سابق مہتمم کہ والی افغانستان نے جن کے لیے تخت شاہی چھوڑ دیا اور خود قدموں میں بیٹھ کر کہا یہ میری بادشاہت کے لیے اعزاز ہے ... میرے خاندان کے بڑے آپ کے بڑوں کے شاگرد تھے،ہمیں سب کچھ اسی نسبت سے عطا ہوا...

مولانا قاسمیؒ لکھتے ہیں کہ قاری صاحب سے آخری سوال پوچھنے کی اجازت چاہتے ہوئے عرض کیا : حضرت آپ کے دور اہتتمام میں شیخ العرب و العجم مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے 35برس حدیث رسول ﷺ پڑھائی ...طویل عرصہ دیوبند کے صدر مدرس اور شیخ الحدیث رہے.....اس دور میں حضرت مدنی کا کوئی ایسا واقعہ جسے "ناقابل فراموش" قرار دیا جا سکے؟حضرت قاری صاحب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے پھر فرمایا:ایک مرتبہ دارالعلوم دیوبند میں اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے ختم ہوگئے....مجھے بے حد تشویش ہوئی کہ یہ میری ذمہ داری تھی...میں اسی اضطراب میں حضرت مدنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا . ....انہوں نے میری افسردگی دیکھ کر فرمایا کہ آپ پریشان نظر آرہے ہیں خیر تو ہے ؟میں نے پریشانی کی وجہ عرض کر دی.....حضرت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک اس مسئلے کا حل کیا ہے؟میں نے عرض کیا آپ دعا فرمائیں تو اللہ کوئی نہ کوئی حل پیدا کردینگے... حضرت نے فرمایا کہ عشا کے بعد کتب خانہ دارالعلوم میں فلاں فلاں بزرگ اور فلاں فلاں ملازم کو جمع کرلیں...اللہ سے مانگیں گے وہ کریم ہیں ضرور ہماری مدد فرمائینگے...یہ اسی کا کام ہے اور ہم سب اسی کے بندے اور محتاج ہیں...رات کو حضرت مدنیؒ نے اس سوز وگداز اور گریہ زاری سے دعا فرمائی کہ لگتا تھا کہ اللہ کریم نے تمام مجلس کو آغوش رحمت میں لے لیا اور رحمت کی بارش ہونے لگی ہے...دعا کے بعد سب گھروں کو رخصت ہو گئے.....میں صبح فجر سےپہلے ابھی بستر استراحت پر ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی...خادم نے دروازہ کھولا تو ایک مہمان کھڑے تھے ...کہا میں دہلی سے آیا ہوں اور اسی وقت قاری طیبؒ صاحب سے ملنا چاہتا ہوں... خادم نے کہا ابھی تو مشکل ہے ...آپ کو فجر کی نماز تک انتظار کرنا پڑے گا...انہوں نے کہا کہ مجھے بہت ضروری کام ہے..میں ایک بڑی شخصیت کا پیغام لے کر آیا ہوں...اس میں تاخیر نہیں کر سکتا... آپ مہربانی فرماکر قاری صاحب کو جگادیں... خادم نے ان کا اصرار دیکھ کر میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور نامعلوم مہمان بارے آگاہ کیا...میں نے باہر آکر دیکھا تو وہ دہلی کے ایک تاجر تھے...کہنے لگے آپ سے ضروری بات کرنی ہے...میں نے انہیں بیٹھک میں بٹھایا اور کہا فرمائیے...انہوں نے کہا کہ میں عشا کے بعد جلدی سونےکاعادی ہوں...مجھےرات خواب میں رسول کریمﷺ کی زیارت ہوئی...آقا کریم ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کا خزانہ خالی ہو گیا ہے...صبح مدرسین اور طلبا کے لیے اخراجات کا انتظام نہیں...تم فوری دیوبند جاؤ اور دارالعلوم کی ضرورت کا فنڈ دےکر آؤ....گھر میں اس وقت پچاس ہزار کی رقم تھی ...مجھے فوری پہنچنے کا حکم تھا...اس لیے پچاس ہزار ہی لیکر تعمیلِ ارشاد کے لیے حاضر ہو گیا...باقی جس قدر ضرورت ہے بتادیں، دہلی پہنچ کر بھیج دوں گا...

قاسمیؒ صاحب لکھتے ہیں کہ قاری صاحب جب یہ واقعہ سنا رہے تھے تو ان کی آنکھیں نم اور لہجہ رقت آمیز تھا...پھر فرمانے لگے ایسے کئی واقعات ہیں جن سے حضرت مدنیؒ کے بلند مقام کا پتہ چلتا ہے...

یہ وہی سید حسین احمد مدنیؒ ہیں جن کی توہین کرنے والے "نشان عبرت" بن گئے...شاعر ختم نبوت جناب سید سلمان گیلانی اپنی یادداشتوں میں  لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنیؒ نے اغیار تو اغیار اپنوں کی سختیاں بھی ہنس ہنس کر جھیلیں... ہر الزام خندہ پیشانی سےبرداشت کیا... ماتھے پر ایک شکن بھی نہیں آنے دی...صبر اورحوصلے کے ساتھ ہر تکلیف گوارا کی...

اپنا انتقام اللہ تعالی کی ذات پر چھوڑ دیا... اپنے بدترین مذہبی و سیاسی مخالفین کو معاف کر دیا ،البتہ جن کو معاف نہیں کیا تھا ان سے پھر اللہ تعالی نے انتقام لیا... جب حضرت کے ساتھ جالندھر سٹیشن والا واقعہ ہوا تو امیرشریعتؒ تڑپ اٹھے اور رات کو ایک تقریرکی جس میں فرمایا کہ جن غنڈوں نے شیخ کی دستار پہ ہاتھ ڈالا ،میں دیکھ رہا ہوں ان کی لاشیں گدھ ،چیلیں اور کوّے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں... واقعہ یوں ہے کہ مولانا حسین احمد مدنیؒ سرحد کے دورہ سے واپس جا  رہے تھے...جالندھر سٹیشن پر بعض لیگی نوجوانوں نے اپنے ایک ساتھی شمس الحق کی معیت میں مولانا مدنیؒ کو بے عزت کِیا ...ان کی پگڑی اتار لی، رِیش مبارک میں شراب انڈیلی... طمانچہ مارا اور گالیاں دی تھیں.

سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ نے امرتسر کے" چوک فرید" میں جلسہ سے خطاب کیا...پہلا موقع تھا کہ شاہ جیؒ کِسی جلسہ میں ننگے سر آئے اور فرمایا:جب سے میری قوم نے حسین احمدؒ کی پگڑی اتاری ہے،میں نے عہد کیا ہے آج سے سر پر ٹوپی نہیں رکھوں گا..... ڈاکٹر اکرام الحق قریشی جالندھر میں مسلم لِیگ کے پُرجوش کارکن تھے... حمید نظامی مرحوم کے کلاس فیلو رہے... اُن کا بیان تھا  کہ شمس الحق اپنے اِس کارنامہ کا مزے لے لے کر ذکر کرتا تھا... اس واقعہ کے بعد مولانا عظامی کے ہاں پہنچا ....وہ اُن دنوں مقامی  مسلم لیگ کے نائب صدر تھے.... مولانا عظامی واقعہ سُن کر کانپنے لگے.... بار بار پوچھتے واقعی تم نے یہی کیا ہے؟ وہ فخر سے سینہ پُھلا کے بولا جی میں نے یہی کیا ہے...کہنے لگے میاں جس نے حسین احمد مدنیؒ  کے ساتھ یہ کیا ہے اُس کی تو لاش بھی نہیں ملے گی...پھر زمانے نے دیکھا کہ شمس الحق پاکستان آ کر قتل ہوگیا..... اس کی نعش تک نہیں ملی بلکہ معمہ ہی رہا....مقتول کا دوسرا ساتھی ہجرت کے وقت دریائے بیاس میں ڈوب مرا تھا.....

حسن اتفاق دیکھیے کہ جب صبح سویرے یہ کالم لکھ رہا تھا تو شہر رسول ﷺ سے" فقیر مدینہ "عزت مآب ڈاکٹر احمد علی سراج کا فون آیا کہ روضہ اطہرﷺ پر درود و سلام پیش کرنے جا رہا ہوں،لکھتے لکھتے رک گیا کہ ادب کا  اعلی مقام آگیا...رشک آیا کہ علمائے کرام  قسمت کے کیسے سکندر ہیں کہ گنبد خضریﷺ کی انہی چھاؤں تلے سید حسین احمد مدنیؒ نے بھی 16سال درس حدیث دیا تھا.....زہے نصیب!!!!

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -