پاکستان کا بیانیے کا مسئلہ

پاکستان کا بیانیے کا مسئلہ
پاکستان کا بیانیے کا مسئلہ
سورس: Twitter

  

سالوں کے پراپیگنڈے نے پاکستانیوں کو اس بات کا غیر حقیقت پسندانہ فہم دیا ہے کہ ان کے ملک کو کیا مرض لاحق ہے۔

اگرچہ پاکستان بحرانوں کا شکار رہنے والے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، مگر اس وقت یہ ایک خاص طور پر مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ جب سے سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان پارلیمانی عدم اعتماد کا ووٹ ہار گئے اور اپریل میں عہدے سے برطرف ہو گئے، کرکٹر سے سیاست دان بننے والے یہ سابق وزیراعظم قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج جاری رکھنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

قوم تقسیم ہے – عمران خان کے حامیوں اور پاکستان کی روایتی سیاسی جماعتوں کے پیروکاروں کے درمیان، اسلام پسندوں اور مغربی جمہوریت کے حامیوں کے درمیان، اور فوج کے حامیوں اور اس کے مخالفوں کے درمیان۔ عمران خان کے مخالفین انہیں ایک خطرناک مقبولیت پسند قرار دیتے ہیں جو جمہوری اصولوں پر عمل کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے حامی انہیں کرپشن مخالف مسیحا کے طور پر دیکھتے ہیں جنہیں امریکی حمایت یافتہ سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

عمران خان نے اپنے پیروکاروں کو اپنے مخالفین سے اس طرح لڑنے کی ترغیب دی ہے جیسے ابتدائی زمانے میں مسلمان کافروں سے لڑتے تھے۔ اُن کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (جسے پی ٹی آئی کے نام سے جانا جاتا ہے) کے اراکین نے ریستورانوں اور عوامی مقامات پر ان کے مخالف سیاستدانوں کے ساتھ بدسلوکی کی، جس سے جھگڑا ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف، جنہیں اپریل میں عمران خان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا، سے سعودی عرب میں اسلام کے مقدس ترین مقامات کی زیارت کے دوران پی ٹی آئی کے حامیوں نے بدتمیزی کی۔

پارلیمانی انتخابات اگلے سال تک نہیں ہونے والے ہیں، اور شہباز شریف اکتوبر 2023 تک عہدے پر رہ سکتے ہیں جب تک کہ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت کی حمایت برقرار رکھتے ہیں۔ سیاسی کشمکش کے ساتھ ساتھ معاشی بدحالی کا آسیب حکومت کو پریشان کر رہا ہے۔ عمران خان بھی مکمل طور پر محفوظ زمین پر نہیں ہیں۔ انہیں اور ان کی جماعت کو سیاست سے نااہلی کے امکانات کا سامنا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کے خلاف غیر قانونی طور پر غیر ملکی افراد اور کارپوریشنز سے فنڈنگ حاصل کرنے کے الزام میں آٹھ سالہ تحقیقات مکمل کی ہیں۔

دریں اثنا، پاکستان کی معیشت تیزی سے زوال پزیر ہے۔ پاکستانی روپیہ، جو عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 121 پر تجارت کرتا تھا، اس سال اپریل میں ان کے اقتدار چھوڑنے سے پہلے ہی ڈالر کے مقابلے میں 186 سے اوپر پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد یہ مزید گر گیا اور ایک ڈالر کے مقابلے میں 240 پر پہنچا۔ پاکستان کو راستے پر واپس آنے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس وقت رکے ہوئے پروگرام کی شدید ضرورت ہے۔ ماضی کے برعکس، پاکستان کا کوئی بھی غیر ملکی دوست آئی ایم ایف کی شرائط کے نظم و ضبط کے بغیر اس کی مدد کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔

حکومت میں رہتے ہوئے عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات اور اقتدار کھونے کے بعد سے ان کے بے لچک رویے کے باوجود خیال کیا جاتا ہے کہ اُن کی سیاسی بنیاد برقرار ہے۔ اگر کچھ ہے بھی تو یہ کہ پاکستان کے لیے کھڑے ہونے اور مغربی طاقتوں کی ڈکٹیشن کی مزاحمت کے لئے تیار رہنما کے طور پر انہیں کچھ حمایت حاصل ہوئی ہے۔ عمران خان کی پی ٹی آئی پارٹی نے پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اپنی علاقائی حکومت کا کنٹرول برقرار رکھا۔

عمران خان کے پیروکاروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد سے امریکہ اور مغرب کو پاکستان میں کچھ خاص دلچسپی نہیں۔ وہ اپنے رہنما پر یقین کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں جب وہ انہیں بتاتا ہے،غلط طور پر، کہ پاکستان کو روس کے ساتھ قریبی تعلقات سے فائدہ ہوگا اور یہ کہ ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ کے اتحاد سے پاکستان کی خودمختاری کو خطرہ ہے۔

عمران خان کی بیان بازی کی نسبتاً کامیابی کی وجہ اس قومی بیانیے میں تلاش کی جا سکتی ہے جو پاکستانیوں کو کئی دہائیوں سے مسلسل سویلین اور فوجی حکومتوں کے تحت دیا جاتا رہا ہے۔ پاکستانیوں کو عموماً دہشت گردی سے متعلق پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ یا ملک کی نسبتاً عالمی تنہائی سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کا بلند آہنگ میڈیا اس کی کم شرح خواندگی، ٹیکسوں کی ناکافی وصولی، اعلیٰ تعلیم کا خراب معیار، کم زرعی اور صنعتی پیداوار، اور بیرونی امداد اور قرضوں پر انتہائی انحصار کی بجائے سیاسی بدعنوانی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتا ہے۔

پاکستانی قومی بیانیہ، جسے سکول کے نصاب اور میڈیا کے ذریعے تقویت ملتی ہے، زیادہ تر تنخواہ دار پاکستانی مانتے ہیں، جو عمران خان کی بنیادی حمایت کی اساس ہیں۔ اس میں فوجی ملازمین، سرکاری ملازمین، اور پیشہ ور افراد (جیسے ڈاکٹر اور انجینئر جو اکثر حکومت کے ملازم ہوتے ہیں) شامل ہیں، جو زیادہ تر سرکاری رہائش گاہوں میں رہتے ہیں اور اپنے بچوں کو سرکاری رعایت والے سکولوں میں بھیجتے ہیں۔

پاکستان کو اپنی اندرونی گفتگو میں اسلام کے گڑھ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ایک خاص ملک جسے خدا نے قدرتی دولت اور پیداواری لوگوں سے نوازا ہے۔ اس کی خراب معاشی کارکردگی کی وجہ بدعنوان سیاستدانوں کی لوٹ مار ہے، جن کی دولت مبینہ طور پر بیرون ملک بینک کھاتوں میں چھپی ہوئی ہے۔ اگرچہ تمام پارٹیوں کے سیاستدانوں سمیت بہت سے بااثر پاکستانیوں کے پاس آف شور کمپنیاں اور غیر ملکی بینک اکاؤنٹس ہیں، وہ بعض اوقات بدعنوانی سے ہونے والی آمدنی کو چھپاتے ہیں، لیکن ملک کی معاشی ناکامی کی متعدد وجوہات ہیں۔ تقریباً 4 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کی شرحوں میں سے ایک رکھتا ہے اور ٹیکس وصولی میں پیچھے ہے، لیکن پیچیدہ معاشی مسائل کو سادہ لوحی کے ساتھ سیاست دانوں کی بدعنوانی سے منسوب کیا جاتا ہے۔

عمران خان اب بھی پاکستانیوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ بیرون ملک اکاؤنٹس میں "چوری" کی "اربوں" ڈالر کی دولت واپس لائیں گے، حالانکہ وہ اپنی ساڑھے تین سالہ حکومت کے دوران ایسی کوئی بھی دولت واپس لانے میں ناکام رہے ۔

عقائد کے نظام کا دوسرا عنصر جو عمران خان کی بیان بازی کو ہوا دیتا ہے وہ غیر ملکی تعلقات سے متعلق ہے۔ پاکستانی رہنما طویل عرصے سے پاکستان کو بین الاقوامی سازشوں کا شکار قرار دیتے رہے ہیں۔ ’’بھارت پاکستان کا مستقل دشمن ہے،‘‘ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ "اسرائیل اور امریکہ پاکستان کو پسند نہیں کرتے کیونکہ یہ دنیا کا واحد ایٹمی ہتھیاروں سے لیس مسلم ملک ہے۔ پاکستان کو غیر روایتی جنگ (یعنی جہادی عسکریت پسندی) کے ذریعے بیرونی سازشوں سے خود کو بچانا چاہیے۔‘‘

پاکستانی بیانیے کی گہرائی کا اندازہ اس فیصلے سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ قرار دیئے جانے والے ساجد میر کو جون میں حراست میں لے کر جو بڑا قدم اٹھایا، اسے عام نہیں کیا گیا۔ برسوں تک پاکستانی حکام نے ساجد میر کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ اگر وہ موجود تھے بھی تو وہ پہلے ہی مر چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری بیرون ملک دہشت گردی کے ذمہ دار پاکستانیوں کو جوابدہ ٹھہرانے کے ایک دیرینہ بین الاقوامی مطالبے کو پورا کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان کے اقدامات کی فوری وجہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے مطالبات کو پورا کرنا تھا۔ پاکستان 2018 سے اس گروپ کی واچ لسٹ پر ہے، اور میر سے متعلقہ کارروائی پاکستان کو فہرست سے نکالنے کے لیے گروپ کے مطالبات میں سے ایک تھی۔ پاکستان پہلے بھی دو مرتبہ واچ لسٹ میں شامل رہا ہے: 2008 اور 2012 میں۔ یہ مطالبات پورے کرنے کے بعد 2010 اور 2015 میں فہرست سے نکلا، مگر پھر واپس اس کا نام فہرست میں شامل ہوا۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے، جیسا کہ واچ لسٹ کو کہا جاتا ہے، پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی لین دین میں مشکلات تھیں۔ لیکن جب کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ایک اہم شرط پوری کر دی ہے، اس کے رہنماؤں نے ملک کے اندر جہادی عسکریت پسندوں کے حامیوں کے ردعمل کے خوف سے اس کا اعلان نہیں کیا۔ پاکستانی نژاد ایک نڈر صحافی کی جانب سے نکی ایشیا میں خبر بریک کرنے کے بعد ہی اس کا انکشاف ہوا۔

برسوں سے پاکستانی دہشت گردوں کے بارے میں ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی اندرونی گفتگو نے ہندوستان کے خلاف جہادی عسکریت پسندوں کو "آزادی کے جنگجو" کے طور پر پیش کیا ہے جو جموں اور کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے کے لیے ہندوستان سے "آزادی" چاہتے ہیں۔ پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے کھلے عام تسلیم کیا کہ پاکستان نے کشمیر کے عسکریت پسندوں کو تربیت دی اور باقی دنیا نے جن لوگوں کو دہشت گرد سمجھا وہ پاکستانیوں کے ہیرو تھے۔

نائن الیون کے بعد القاعدہ کے کئی سو دہشت گردوں کو گرفتار کرنے اور امریکہ کے حوالے کرنے میں تعاون کرنے پر مشرف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ القاعدہ کے خلاف اپنے تمام تعاون کے باوجود، مشرف کی انتظامیہ نے افغانستان میں طالبان اور ہندوستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کی حمایت جاری رکھ کر دوہری پالیسی اپنائی۔

ابھی حال ہی میں، عمران خان نے القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کو "شہید" اور افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتح کو "غلامی کا طوق" توڑنے کے طور پر بیان کر کے دنیا کو چونکا دیا۔ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد، عمران خان نے پاکستان کو مغربی اثر و رسوخ سے نجات دلانے کے لیے ایک نئی جدوجہد آزادی اور جہاد پر زور دیا۔

کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے ایک جزو کے طور پر ممبئی حملوں کو جواز فراہم کرنے والے گروپ کی ایک اہم شخصیت کی گرفتاری کا اعلان عمران خان کی جانب سے مغربی دباؤ کے سامنے جھک جانا قرار دیا جا سکتا تھا۔ عمران خان نے بارہا یہ دلیل دی ہے کہ پاکستانی حکام جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف صرف مغرب کو خوش کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہیں، اور وہ غیر ملکی قابضین کو نکال باہر کرنے کے لیے لڑنے والے گروہوں کی طرف سے شہریوں پر حملوں پر تنقید کرنے سے بڑی حد تک ہچکچاتے ہیں۔ عمران خان کی دلیل، جس کی تائید بہت سے ریٹائرڈ فوجی افسران نے کی ہے (بشمول کئی جو پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسی میں خدمات انجام دے چکے ہیں)، یہ ہے کہ پاکستان کو غیر منصفانہ طور پر ان اقدامات پر نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ بہت سے ممالک قومی سلامتی کے مفاد میں کرتے ہیں۔

عمران خان کے سیاسی مخالفین ابھی بھی انہیں اگلے عام انتخابات جیتنے اور اقتدار میں واپس آنے سے روک سکتے ہیں، لیکن وہ برسوں کے پراپیگنڈے کو ختم نہیں کر سکتے جس نے پاکستانیوں کو سازشی نظریات کا شکار بنا دیا ہے اور انہیں اس بات کی غیر حقیقی تفہیم دی ہے کہ ان کے ملک کو کیا مسئلہ درپیش ہے۔

پاکستان کا اندرونی بیانیہ ہی وہ وجہ ہے کہ جس باعث یہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی میں ہمیشہ ایک قدم آگے، ایک قدم پیچھے رہا ہے، حالانکہ اس نے نائن الیون کے بعد سے ایسا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کی حمایت پاکستان کو بھاری امریکی امداد سے محروم کرنے کا ایک بڑا عنصر رہا ہے اور یہ اُن وجوہات میں سے ایک ہے جن کے باعث ملک کی معیشت کو آسانی سے پٹری پر نہیں لایا جا سکتا۔ ایسے ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا امکان نہیں ہے جہاں دہشت گردوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کے الزامات لگاتار نظر آتے ہیں۔

حسین حقانی ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ 2008 سے 2011 تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہے۔ فارن پالیسی میں شائع ہونے والے اس آرٹیکل کا اردو زبان میں ڈیلی پاکستان کیلئے عطاء مصطفیٰ نے ترجمہ کیا ہے،  یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -