آئی ایم ایف کے ٹیکے

  آئی ایم ایف کے ٹیکے
  آئی ایم ایف کے ٹیکے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اس حکومت نے جاتے جاتے عوام کو پٹرول کا ٹیکہ لگادیا ہے، جب آئی تھی تب بھی لگایا تھا۔ اس وقت اس لئے لگایا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینا تھا، اب اس لئے لگادیا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض مل گیا ہے۔یہ پٹرول کے نہیں آئی ایم ایف کے ٹیکے ہیں جو پوری قوم کو لگ رہے ہیں۔ پچھلی حکومت بھی عوام کو اسی طرح ٹیکے لگارہی تھی جس طرح مرغی کے بچوں کو مرغی خانے میں ہاتھ سے دبوچ کر سوئی چبوئی جاتی ہے۔ پاکستانی عوام کو اب تک اتنے ٹیکے لگ چکے ہیں کہ اب ہماری عورتوں میں مردانہ اور مردوں میں زنانہ اوصاف ہویدا ہوتے جا رہے ہیں، یہ ان ٹیکوں کا ری ایکشن ہے جو کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی سیاسی رہنما ترقی کے نام پر عوام کو لگاتے رہے ہیں۔ 
عمران خان نے تو طفل تسلیوں کے ایسے ٹیکے لگائے کہ ان کے ظلے شاہ فوجی تنصیبات پر چڑھ دوڑے۔ یہ ان ٹیکوں کا کمال تھا جو عمران خان نے خود کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے لگنے والے ٹیکے کے ری ایکشن کے طور پر اپنے فالوئرز کو لگایا تھا۔ اس کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ ایک ایک شرپسند کو پکڑ کر ٹیکے لگارہی ہے اور سپریم کورٹ ویکسی نیشن کو کپڑوں والی الماری میں چھپانے کے جتن کرتی نظر آرہی ہے۔ اس پر ہمیں ایک ناول ’ماہی ماہی کوکدی‘یاد آگیا جس میں جاگیردار باپ کو جب پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیٹی سائس کو دل دے بیٹھی ہے تو اسے کمرے میں لے جا کر الماری میں شیشی نکال کر دو گھونٹ پلادیتا ہے تو بیٹی کی حالت غیر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ اسے آرام سے بستر پر لٹا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے روتا ہے تو بیٹی کہتی ہے بابا ایک بات پوچھوں، کیا پھوپھو کو بھی اسی شیشی سے دواپلائی تھی!
خیر پٹرول کی قیمت میں 20روپے اضافہ کیا ہوا پی ٹی آئی کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر مریم اورنگ زیب، شہباز شریف اور مریم نواز کی فوٹیج چلائی گئی جس میں وہ عمران حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافے پر سیخ پا ہوتے پائے گئے۔ کہیں مریم اورنگ کہہ رہی تھیں کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آئی اور کہیں شہباز شریف عوام کے دکھ میں اپنا دکھ گھولتے پائے گئے۔ غرض یہ کہ جیسے تیسے ہو سکا پی ٹی آئی کے حامیوں نے نون لیگیوں کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ’ہور چوپو‘۔ یہی نہیں بلکہ جہاں کہیں کوئی نون لیگیا نظر آیا جھٹ سے فقرہ کستے پائے گئے کہ ’ہن آرام اے‘!


ہم اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں سے بس اتنا پوچھنا چاہیں گے کہ جب اسحٰق ڈار نے پٹرول کی قیمت میں 23روپے کی ایک دفعہ اور دس بارہ روپے کی ایک دفعہ کمی کی تھی تب تو آپ نے سوشل میڈیا پر کوئی شور نہیں مچایا تھا، تب تو پتہ نہیں آپ کو کیا موت پڑگئی تھی کہ کوئی کسکنے کو تیار نہ تھا۔ گویا ثابت ہوا کہ خالی عمران خان نہیں ان کے حواری بھی غضب کے لوگ ہیں، لگتا ہے کہ انہیں پٹرول کے بڑھنے کم ہونے سے اتنا فرق نہیں پڑتا،ان کی چیخیں نہیں نکلتیں، ان کا کلیجہ منہ کو نہیں آتا جتنا یہ بات سوچ کر ان کو غشی کے دورے پڑنے  لگتے ہیں کہ نواز شریف چوتھی مرتبہ ملک کا وزیر اعظم بننے جا رہا ہے۔ کیا کمال کا دکھ پایا ہے ہماے پی ٹی آئی کے دوستوں نے کہ اس دکھ کے سامنے اپنا ہر دکھ بھول گئے ہیں۔ 
اس صورت حال کو کوئی اور اپنے فائدے کے لئے استعمال کرے نہ کرے، ہماری اسٹیبلشمنٹ نے خوب کیا ہے جس نے پہلے عمران خان کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور اب شہبازشریف کے صدقے واری جا رہی ہے۔ یہ ہماری آپسی اناؤں کی جنگ ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ کوچھاجانے کی ہمت عطا کی ہے۔ وہ دن کب آئے گا جب عوام اپنے لیڈروں سے آگے نکلیں گے اور اسٹیبلشمنٹ واپس بیرکوں میں جائے گی۔ 


کہا جاتا ہے کہ نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو میثاق جمہوریت کرنے کی سزا دی گئی تھی جبکہ حالات بتاتے ہیں کہ عمران خان کومیثاق معیشت نہ کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ گویا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے معیار پر وہ پورے اترے تھے نہ عمران خان اترے ہیں۔ خیر سے عمران خان نے چڑھائی خوب کی ہوئی ہے، ایسی ہی چڑھائی کبھی نوازشریف نے کی ہوئی تھی جب وہ ووٹ کو عزت دو کا ورد کیا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ وہی کچھ ہو جو کچھ ان کے ساتھ ہوا تھا تو ہی لیول پلیئنگ فیلڈ ہوگی۔ نواز شریف نے تو ایک مرتبہ بھی ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا لیکن ان کے نام پر جو کچھ عمران خان اور ان کے حواریوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر نواز شریف نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور خاموشی کو نیم رضامندی سمجھا جاتا ہے۔ 
خیر بات ہو رہی تھی پٹرول کے ٹیکے کی جو پی ڈی ایم حکومت کے ماتھے کا ٹیکہ بن گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اس سے جان چھڑواسکتی ہے یا پھر اگلے عام انتخابات کے آتے آتے عمران خان پھر سے اپنے آپ کو کسی طاقت کا ٹیکہ لگوانے کے قابل بنا چکے ہوں گے!

مزید :

رائے -کالم -