پٹرول اور بجلی کے نرخوں کا گورکھ دھندہ

پٹرول اور بجلی کے نرخوں کا گورکھ دھندہ
پٹرول اور بجلی کے نرخوں کا گورکھ دھندہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


آٹھ دن کی مہمان حکومت کی طرف سے اچانک پٹرول مصنوعات میں 20روپے تک قیمتوں میں اضافے پر ملک بھر کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور حیرت زدہ بھی،احتجاج کرنا ان کا فطری حق ہے اور وہ رونا دھونا کر  رہے ہیں۔حیران اس بات پر ہیں کوئی بھی جمہوری حکومت جس نے60 دن یا90دن بعد عوام کے پاس ووٹ کے لئے جانا ہو وہ ایسا فیصلہ جو عوام کا معاشی قتل کا باعث بنے نہیں کر سکتی۔ سوشل میڈیا کے ایک دانشور نے لکھا ہے ایسے وقت میں ایسا فیصلہ صرف وہی حکومت کر سکتی ہے جسے اس بات کا یقین ہو کہ ہم نہ پہلے عوام کے ووٹ سے آئے ہیں اور نہ آئندہ عوام کے ووٹ کی ضرورت ہے۔
ایک اور دانشور کا فرمان سامنے آیا ہے ہمارے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے حکمران ہمارے ساتھ بہتر سلوک کر رہے ہیں ہم اسی قابل ہیں ہمیں جوتے کھانے سے نہیں بلکہ جوتے کھانے والی لمبی قطار سے مسئلہ ہوتا ہے ہم اسی قابل ہیں تین دفعہ دھوکہ کھانے اور آزمانے کے بعد چوتھی مرتبہ اس شخصیت کو دوبارہ وزیراعظم دیکھنے کے خواہاں ہیں جو اپنے وزیراعظم بھائی پر بھی اعتبار کر کے واپس آنے کے لئے تیار نہیں ہے جس کی گارنٹی پر علاج کے لئے باہر گئے تھے۔وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا ان دنوں سوشل میڈیا پر چلنے والا ایک فقرہ ٹاپ ٹرینڈ نظر آ رہا ہے جس میں وہ کہتے نظر آتے ہیں ہم نے ملک کو مشکلات سے نکال لیا ہے اب عوام مشکل سے نکل کر دکھائے۔


وفاقی وزیر اطلاعات محترمہ مریم اورنگزیب کا تحریک انصاف حکومت کی طرف سے ایک ساتھ12روپے پٹرول مہنگا کرنے پر ردعمل بھی سوشل میڈیا پر خوب چل رہا ہے،19روپے 95پیسے اضافے پر وزیر اطلاعات نے تو عوام کے زخموں پر مرہم اس انداز میں رکھا ہے پٹرول مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا آئی ایم ایف کی شرط، سیاست چمکانا بند کریں حکومتی ترجمان کی طرف سے حوصلہ دینے کی بجائے شٹ اَپ کہنا بھی مہنگائی سے تنگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔وزیر پٹرولیم مصدق ملک جو گزشتہ چھ ماہ سے روسی تیل آنے اور100روپے تک قیمتیں کم کرنے کی خوشخبریاں دے رہے تھے ان کے حامد میر کے پروگرام میں موقف نے تو کم از کم مجھے حیران ہی کر دیا۔ مصدق ملک نے وزیر خزانہ کے قیمتوں میں اضافے کو جمہوری قرار دینے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا حصہ قرار دینے کے بیان کے برعکس19روپے95 پیسے اضافے کو عالمی منڈی میں پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مشروط کر کے نئی رام کہانی سنا ڈالی، حالانکہ ڈیجیٹل دور میں ہر فرد آگاہ ہے15دنوں میں عالمی منڈی میں پٹرول مصنوعات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، اندھیر نگری ہے اب تک 125 فیصد تک پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ 86رکنی کابینہ کی پی ڈی ایم کی حکومت کی بچت مہم سے بھی عوام پوری طرح آگاہ ہیں،عوامی مشکلات کا درد رکھنے والی حکومت کے وزیر خارجہ، وزیراعظم اور آرمی چیف تین دن علیحدہ علیحدہ دبئی تعزیت کے لئے گئے اور علیحدہ علیحدہ جہاز لے کر گئے،اب کس کس کا رونا رویا جائے،86وزیر وفاق کے اور کے پی کے اور پنجاب کے نگران، عوام کا رونا دھونا سننے اور ریلیف پیکیج دینے کی بجائے فساد کی جڑ اور تمام مشکلات کا ذمہ دار قاسم کے ابا اور ان کی حکومت کو قرار دے کر جان چھڑاتے نظر آتے ہیں، گزشتہ تین ماہ میں پٹرول سستا ہوا کرائے کم نہیں ہوئے، کسی چیز کی قیمت میں کمی نہیں ہوئی،اب پٹرول مہنگا ہوا تو ٹرانسپورٹرز نے فوری طور پر کرائے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے،ہر چیز مہنگی کر دی گئی ہے،بچوں کو سکول اور کالج لے جانے والے رکشے،ویگنوں نے نوٹس دے دیئے ہیں، والدین اتنا کرایا بڑھانے کے لئے تیار ہو جائیں،سٹی اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹر کا اعلان بھی سامنے آ چکا ہے وفاق، صوبے اور ان کے نمائندے خاموش ہیں۔پٹرول بم نے رشتوں کو محدود کر دیا ہے حکومتی اور سرکاری اداروں کے افسروں کی عیاشیوں اور مفت پٹرول کی سہولیات نے عوام کو مزید دکھی کر دیا ہے، رہی سہی کسر بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ہر سال یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے لاکھوں طلبہ و طالبات نے پوری کر دی ہے، جو مہنگائی کے ستائے ہوئے والدین کے سامنے اپنی ڈگریاں لہرا کر ملک سے باہر بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں کے گورکھ دھندے سے پٹرول پمپوں کی لوٹ مار کا سامنا کرنے والی عوام کو بجلی کے بلوں اور لوڈشیڈنگ نے ذہنی مریض بنا دیا ہے۔پٹرول کی بجلی کی قیمتوں کو آئی ایم ایف نے خود مانیٹر کرنا شروع کیا ہے، عوام سوال کر رہے ہیں آئی ایم ایف حکمرانوں کو عیاشیاں کم کرنے کا کیوں نہیں کہتی، حکومت پٹرول پمپ مالکان کے سامنے24گھنٹے بھی ہڑتال کی دھمکی کے آگے نہیں ٹھہر سکی، افسوس عوام کا24گھنٹے دن رات رونا کام نہیں آ رہا، بجلی کا بنیادی ٹیرف7روپے50پیسے مزید اضافے کا نوٹیفکیشن کر دیا گیا،ماہانہ50یونٹ لائف لائن صارفین کے لئے فی یونٹ 3روپے 95پیسے ہو گا،ماہانہ51 سے 100یونٹ تک7روپے74پیسے ہو گا، ماہانہ ایک سے 100 یونٹ تک 7 روپے74 پیسے قیمت برقرار رہے گی۔


ماہانہ101سے200 تک پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے فی یونٹ 10روپے6پیسے قیمت ہو گی،نئے ٹیرٹ کے مطابق101 سے 200 یونٹ تک22روپے95پیسے کر دیا گیا ہے۔201 سے 300 یونٹ تک کا ٹیرف32 روپے3پیسے ہو گیا ہے۔ ماہانہ 400 سے500 یونٹ کا ٹیرف7روپے50پیسے اضافے کے بعد 35 روپے24 پیسے کا ہو گیا ہے،ماہانہ501 سے600 یونٹ کا ٹیرف 7روپے50پیسے اضافے کے بعد36 روپے 86 پیسے کا ہو گیا ہے۔ماہانہ600 سے700 یونٹ کا ٹیرف 17روپے 50 پیسے اضافے کے بعد37 روپے8پیسے کا ہو گیا ہے، ماہانہ 700 سے زائد یونٹ کا نیا ٹیرف42 روپے72پیسے ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے دیگر ٹیکسز اس کے علاوہ ہیں۔ حکومتی وزیروں کی طرف سے دیگر ممالک سے بجلی اور پٹرول سستا ہونے کی کہانی بھی سنی ہے۔ بھارت میں یونٹ بجلی2.30 روپے، بنگلہ دیش2.25 روپے، افغانستان11.70روپے۔ ایران8.90روپے (مقامی کرنسی) کے حساب سے وصول کیا جا رہا ہے اور ہمارے ہاں اگست سے53.20روپے یونٹ کے حساب سے بل آئے گا۔ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کے گورکھ دھندہ نے عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیئے ہیں،حکمرانوں کے اقدامات سے عوام جمہوریت سے لبریز ہو رہے ہیں اور لاوا پک رہا ہے الیکشن ہوتے ہیں یا نہیں ایک بات طے ہے عوام نے سوشل میڈیا پر غصہ نکال لیا ہے، ووٹ کی پرچی کے ذریعے بدلہ لینے کے لئے بے تاب ہیں۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -