ہولوکاسٹ کی کہانی (2)

ہولوکاسٹ کی کہانی (2)

  

اس ضمن میں شائم وائزمین کا نام بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ وائزمین ورلڈز ایونسٹ آرگنائزیشن کا دوسرا سربراہ اور ریاست اسرائیل کا پہلا صدر تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہر ملک اپنی استطاعت کے مطابق ہی یہودی آباد کاروں کو کھپا سکتا ہے اور جرمنی میں یہودیوں کی تعداد پہلے ہی خاصی زیادہ ہو چکی ہے۔ سو اب انہیں ارض مقدس (فلسطین) کو روانگی اختیار کرنی چاہئے۔ نازیوں اور رد سامیت کے حامیوں کے مابین یہ اتحاد ہٹلر کے اس بیان سے عیاں ہے:”ہم اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک آخری یہودی اس جرمن سلطنت سے نہ نکل جائے“ اور پھر جب 1933ءمیں نازی برسر اقتدار آئے تو انہوں نے 1929ءمیں شروع ہونے والے عالمی معاشی بحران (The Great Depression) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور نازی، صہیونی اتحاد کے نتیجے میں یہودیوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا۔ بدنام زمانہ جرمن خفیہ پولیس گسٹاپو نے مہاجرت کے اس عمل کو تیز تر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔نازیوں کے پروپیگنڈے کے وزیر گوئبلز نے بھی اپنی چرب زبانی سے ارض مقدس کا نقشہ بہت خوب صورت الفاظ میں کھینچا اور نازی مطبوعات میں اس سے متعلق مضامین بھی چھپوائے۔ نازی، صہیونی اتحاد نے اس امر کو بھی دشوار تر بنا دیا کہ جرمنی سے ہجرت کرنے والے یہودی ارض فلسطین کے علاوہ کسی اور مقام پر رہائش پذیر ہو سکیں۔ بقول مصنف:

"It is not hard to understand why the radical Zionists presented Jews from escaping the Nazis. Had the doors of America or England been opend to the Jews, many of the skilled Jewish technicians and qualified specialists whom racist Zionists needed for Palestine would have headed to those countries instead to insure the immigration of the targeted Jews to Palestine, they condemned other unqualified German jews to Nazi oppression.

اس مقام پر ہارون یحییٰ نے مسولینی، اطالوی فاشزم اورانقلاب پسند صہیونیت کے گٹھ جوڑ کی قلعی بھی کھولی ہے۔ مصنف کے مطابق دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین بھیجنے کے منصوبے پر عمل کی غرض سے صہیونیوں نے تیس اور چالیس کی دہائی میں دیگر کئی ممالک کی فاشسٹ طاقتوں سے خفیہ معاہدے کئے اور ان تمام ممالک کے بااثر افراد میں اٹلی کا آمر مسولینی سب سے اہم تھا۔ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں خاص دلچسپی رکھتا تھا۔ چونکہ فلسطین اس کی دلچسپی کا مرکز تھا، اس لئے اس نے اپنی حمایت صہیونیوں سے وابستہ کر دی اور عملی کوشش شروع کر دی کہ انتہا پسند صہیونی، تاج برطانیہ کے اثر و رسوخ سے چھٹکارا پا کر اس کے زیر سرپرستی آجائیں۔ اس غرض سے مسولینی نے اپنی پارٹی کے اہم عہدے بھی صہیونیوں کو دینے شروع کر دئیے اور حکومت میں بھی ان کو دخیل کیا گیا۔ مسولینی اور شائم وائزمین کے تعلقات بھی خاصے خوشگوار تھے۔ مسولینی صہیونیوں کو "Fascists of Zion" کہا کرتا تھا۔ جلد ہی مسولینی اور ہٹلر کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ صہیونیوں کو ایک تیسری فاشسٹ طاقت کی سرپرستی بھی میسر آگئی اور یہ تھا ہسپانیہ کا آمر مطلق جنرل فرانکو۔ یوں سپین سے آسٹریا اور پولینڈ سے رومانیہ تک کئی فاشسٹ تحریکوں کو مسولینی اور ہٹلر کی سرپرستی مل گئی اور نتیجے کے طور پر صہیونی قوتیں مضبوط تر ہوتی گئیں۔

جاپان کی وسعت پسندانہ مہمات میں نہ صرف اضافہ ہوا، بلکہ جاپان نے ہٹلر اور مسولینی کے ساتھ اتحاد بھی کر لیا۔ جاپانی سلطنت اور نازیوں کے مابین تعلقات اس قدر خوشگوار ہوگئے تھے کہ ہٹلر نے مشرق بعید کی اس قوم کو ”اعزازی آریاو¿ں“ (Honorary Aryans) کا درجہ بھی دے ڈالا۔ جاپان میں منچوکو کی کٹھ پتلی ریاست قائم ہوئی اور بالآخر انہی تعلقات کے نتیجے میں منچوریہ سے بھی کچھ یہودیوں نے فلسطین کو رختِ سفر باندھا۔ اسی دوران ردِ سامی ہونے کے سبب پولینڈ کے ڈکٹیٹر جوزف پلسودکی کی حمایت بھی صہیونی گروہ کو میسر آگئی اور دونوں کے مابین جرمن ریخ (The German Reich) کی ترقی کے حوالے سے کئی معاہدے بھی ہوئے۔

ہارون یحییٰ نے اپنی کتاب کے چوتھے اور آخری باب کو ”اسرائیل کی ردِ سامیت کی پالیسی“ کا نام دیا ہے۔ اس باب میں وہ 1948ءمیں ریاست اسرائیل کے قیام کا تذکرہ بہت تفصیل سے کرتے ہیں اور 1967ءکی عرب اسرائیل جنگ کا تفصیلی حوالہ بھی دیتے ہیں۔ یہودی ریاست کا قیام اور یہ جنگ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ریاست اسرائیل ایک نظریاتی مملکت کے طور پر وجود میں آئی۔ ”عظیم تر اسرائیل“ کے منصوبے اس کے پارلیمینٹ ہاو¿س کی پیشانی پر کندہ ہیں۔ ”حدودک یا اسرائیل من الفرات الی النیل“ اور اس منصوبے پر عمل ہی کا ایک حصہ عرب اسرائیل جنگ تھی، جس میں تمام تر فلسطین بشمول غزہ کی پٹی، مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم، جولان کی پہاڑیاں (جن کا کچھ حصہ سرزمین شام میں شامل ہے) اور مصر کے صحرائے سینا پر قبضہ تھا۔ 1982ءمیں لبنان پر حملہ کر دیا گیا اور صابرہ اور شتیلہ کے کیمپوں میں وحشیانہ قتل و خون برپا کیا گیا۔ یہ صہیونی انقلاب پسند جو یہودیوں کے جبری انخلاءکا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے، کس قدر بے رحمی سے فلسطین کے اصل باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرتے ہیں اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بننے کا حق بھی تفویض نہیں کرتے۔ اس ضمن میں بھارتی مصنفہ آرون دھتی رائے کا حوالہ دینا قطعی برمحل ہوگا۔ وہ اپنی کتاب"An ordinary persons guide to empire " کے دوسرے باب بعنوان "Come september" میں صہونیت کے بڑے اہم ناموں کے حوالے سے لکھتی ہے:

"In 1969, Israeli Prime Minister Golda Meir said, "Palestinians do not exist": Where are Palestinians? When I came here (to Palestine) there were 250,000 non- Jews, mainly Arabs and Bedouins. It was desert....Prime Minister Menachem Begin called Palestinians "two- legged beasts." Prime Minister Yitzhak Shemir called them"grass hoppers" who could be crushed. This is the languages of heads of State not the ordinary people."

)جاری ہے)  ٭

ہارون یحییٰ نے بہت تفصیل سے صہیونی یہودیوں نوہم گولڈ مین، ڈیوڈبن گوریان، اسرائیل گولڈ سٹائین، جوزف کلوسز اور دیگر انتہا پسند انقلابی صہیونی رہنماو¿ں کا تذکرہ کیا ہے جو کسی قیمت پر ہولوکاسٹ کے سانحے کو فراموش نہیں ہونے دینا چاہتے تھے اور ہر قیمت پر دنیا بھر کے یہودیوں کا انخلاءفلسطین کی سمت چاہتے تھے۔ تمام یہود کی ارض مقدس کی طرف مہاجرت صہیونی رہنماو¿ں کا دیرینہ خواب تھا۔ کتاب کے صفحہ 156 پر مصنف ایک اہم دستاویز کا عکس پیش کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ 3 جولائی 1948ءکو تحریر کی گئی۔ اس کا عنوان ہے ”دہشت گردی کے حربے“۔ یہ رپورٹ دہشت گرد صہیونی تنظیم Irgun کے ان حربوں کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے یہود کے جبری انخلاءکے ضمن میں استعمال کئے۔ ان جبری حربوں میں وہ آپریشن بھی شامل ہیں جو ان صہیونی طاقتوں نے مختلف خطوں سے یہودیوں کے انخلاءکے لئے کئے مثلاً:

-1 آپریشن میجک کارپٹ (1949ء۔1950ئ): اس آپریشن کے نتیجے میں پچاس ہزار یمنی یہودیوں کو اسرائیل جانے پر مجبور کیا۔

-2 آپریشن علی بابا (1950ئ۔1959ئ): اس آپریشن میں ایک لاکھ بیس ہزار عراقی یہودیوں کا جبراً انخلاءہوا۔

-3 آپریشن موسیٰ (1984ئ): اس آپریشن کے نتیجے میں سات ہزار حبشی یہودیوں کو مشرقی سوڈان سے اسرائیل بھیجا گیا۔

-4 آپریشن سلمان (1991): اس آپریشن میں مزید پندرہ ہزار حبشی یہودیوں کو ایتھوپیا کی حکومت سے غلاموں کی حیثیت میں خریدا گیا اور اسرائیل منتقل کیا گیا“۔

ان آپریشنوں کے دوران دہشت گردی کا ہر ممکن اور مو¿ثر حربہ استعمال کیا گیا کہ حتیٰ کہ عراق میں یہودیوں کے مقدس مقامات (Synagogues) پر بموں سے بھی حملے کئے گئے تاکہ یہودیوں کو ہراساں کر کے ان میں ارضِ وطن کی طرف مراجعت کی خواہش پیدا کی جاسکے۔ یہ واقعہ یہودی دہشت گرد خفیہ تنظیم موساد کی تاریخ پر مبنی کتاب "Every Spy a Prince" میں بھی بیان کیا گیا ہے“۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -