”محبت زمانہ ساز نہیں “

”محبت زمانہ ساز نہیں “
”محبت زمانہ ساز نہیں “

  


ممتاز مبصر اور قلمکار ڈاکٹر انور سدید1999ءمیں شائع ہونے والے شعری مجموعے ”بگولے رقص کرتے ہیں“ کی تقریظ میں رقمطراز ہیں کہ ”کنجاہ کی سر زمین بھی کیسی سخن خیز ہے کہ اس زمین میں ہر دور میں کسی نہ کسی شاعر کی تخلیقی کلبہ رانی ہوتی رہتی ہے اور کیوں نہ ہو، اس خطے پر حضرت غنیمت کنجاہی سایہ فگن ہیں۔ اور وہ لکھنے والوں کو ہر وقت شاعری کی طرف بلاتے رہتے ہیں ۔ اب اس علاقے سے اکرم کنجاہی کا ظہور ہوا ہے تو مجھے بے پایاں خوشی ہوئی کہ غنیمت کنجاہی نے جو چراغ جلایا تھا اس سے بیسویں صدی نے بھی فیض اٹھایا اور اب اسکی روشنی سے اکیسویں صدی کو منور کرنے والے لوگ منظر عام پر آگئے ہیں۔ اکرم کنجاہی کا شمار انہی لوگوں میں کیجیے“۔

سخنوروں کی بستی کنجاہ کے محمد عبداﷲ بٹ اور محترمہ حمیدہ بیگم کے ہاں جنم لینے والے ہونہار سپوت محمد اکرم بٹ نے ابتدائی تعلیم کنجاہ سے حاصل کی جہاں قاضی رحیم بخش جیسے شفیق استادوں نے ان کے ادبی ذوق کی آبیاری کی۔ وہ مزید تعلیم کے لیے زمیندار کالج گجرات پہنچے تو کالج کے ادبی و علمی ماحول بالخصوص پروفیسر سیف الرحمن سیفی جیسے خوش گفتار شاعر کی صحبت نے ان کے شعر و ادب کے شوق کو نکھارا ۔ جامعہ پنجاب سے ایم بی اے کرنے کے بعد وہ بسلسلہ روزگار کراچی جا پہنچے۔ بینکنگ جیسے خشک مزاج پیشے سے منسلک ہونے کے باوجود ان کے اندر کا مقرر، ادیب اور شاعر بیدار رہا۔ وہ خود کہتے ہیں:

حصول رزق کی خاطر سحر سے شام ہو جائے

دلوں پر شب کو لیکن یورش آلام ہو جائے

کراچی میں ممتاز شاعر راغب مراد آبادی نے ان کے حسن تکلم کو سلیقہ عطا کیا اور پھر ان کے قلمی سفر کا کتابی ظہور 1996 میں انکی پہلی کتاب ”فن خطابت“ سے ہوا۔ 1996 میں ہی پہلا شعری مجموعہ’ہجر کی چتا‘ کے نام سے شائع ہوا تو اکرم بٹ کو اکرم کنجاہی کے نام سے شہرت و مقبولیت دے گیا ۔ 1997ءمیں ان کے اندر کے مقرر نے پھر انگڑائی لی او ران کی ایک اور کتاب ”اصول تقریر“ کے عنوان سے شائع ہوئی ۔ 1999ءمیں چوتھی کتاب شعری مجموعہ ”بگولے رقص کرتے ہیں“ کے عنوان سے شائع ہوئی تو ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے اسے دورحاضر کے نوجوانوں کے لیے منشور حیات قرار دیتے ہوئے لکھا کہ موضوع، اسلوب اور زبان کے اعتبار سے یہ عام شاعرانہ تکلفات سے عاری ہے۔ ان کی سادگی ، تازگی اور پرکاری اس امر کی غماز ہے کہ شاعر ابھی شہر کا خوگر نہیں ہوا ہے اور اس کے مزاج اور تصور میں آج بھی وسعت صحرا موجود ہے ۔ ایسے ہی بگولہ صفت لوگ کچھ کر جانے کا حوصلہ اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ کتاب نئی نسل کو آگے بڑھنے اور اپنے بازو پر بھروسہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ یہ اقبال کے اس آفاقی پیغام کا اعادہ ہے کہ :”اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے“۔

 2001ءمیں اکرم کنجاہی کا ایک اور روپ قارئین کے سامنے آیا ان کی کتاب ”راغب مراد آبادی، چند جہتیں“ شائع ہوئی یہ کتاب ان کی محققانہ مہارت اور ناقدانہ ذوق کی آئینہ دار بھی ہے ۔ 2003 میں ”امن و امان، قومی یکجہتی“ نظموں کا انتخاب شائع ہوئی۔ مارچ 2004ءمیں راغب مراد آبادی، اکیڈمی کراچی کی جانب سے اکرم کنجاہی کا تیسرا شعری مجموعہ”محبت زمانہ ساز نہیں“ چھپ کر سامنے آیا۔

اکرم کنجاہی نے سہ ماہی”غنیمت“ کی کراچی سے دوبارہ اشاعت شروع کر کے ادب کی خدمت کی ہے ادب سے گہرے تعلق کے باوجود ان میں ایک فرض شناس اور کہنہ مشق بینکار بھی ترقی کے زینے طے کر رہا ہے ۔ اکتوبر2012 میں انکی پیشہ وارانہ مہارتوں کی عکاس منفرد کتاب "Internal Audit in Banks" کے نام سے شائع ہوئی اور بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ماہرین سے خوب داد وصول کی۔ گذشتہ دنوں برادرم محمد اکرم کنجاہی کی عنایت خاص سے ان کی چند کتب وصول ہوئیں تو سب سے پہلے نظر ان کے شعری مجموعے”محبت زمانہ ساز نہیں“ پر رک گئی۔ شعری مجموعے کا نام ایک ابدی اور آفاقی حقیقت ہے ۔ عنوان پرکشش اور پرخیال ہے۔ محبت کائنات کا ایک لطیف جذبہ ہے اور کائنات کے گلشن کے کاروبار میں یہی جذبہ موجزن ہے۔ بعض زعماءکے نزدیک تخلیق کائنات کا سبب بھی یہی جذبہ ہے جو خالق اور مخلوق کے ہاں پایا جاتا ہے ، علت و محلول کے نحوی تجزیے سے بھی اس فکر کو تقویت ملتی ہے ۔

تسلیم کہ ”محبت زمانہ ساز نہیں“ تاہم ہمارے معاشرے میں محبت کرنے والے زمانہ ساز ضرور ہیں۔ کئی ممالک میں محبت کرنے والے اس جذبے کا اظہار باعث فخر سمجھتے ہیں لیکن ہمارے ہاں سماج کی فضا کچھ ایسی ہے کہ لو گ اظہار محبت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ محمد اکرم کنجاہی نے بھی اس کا اظہار ایک خوبصورت مصرعہ میں کیا ہے کہ:

نہ کام آئے تعلق تو دکھ بھرا سماج کیسا

یہ مصرعہ ان کی فکری اساس اور تصور حیات کے بارے میں ان کے شاعرانہ رویے کا بڑی حد تک پتہ دیتا ہے۔ ہمارے شاعر نے اپنے عنوان کو نبھانے کے لیے دکھوں کی کوکھ سے جنم لینے والے سماجی مسائل کو ہی شعری پیرائے میں تخلیق کیا ہے۔ محبت کا اظہار رنج و غم ،فاقہ کشی، سماج میں کشا کشی،عہد پُر آشوب، سماجی رویوں میں پیچ و خم ہمارے شاعر کے ذہن پر پوری طرح چھائے ہیں۔یہ احساس ان کی ہر غزل میں بجلی کی طرح کوند رہا ہے چند اشعار دیکھئے:

انجیل میں قرآں میں صحیفوں میں پڑھا کیا

انساں کی محبت مری تو رات کو دیکھو

حقیقت ہے نہ ہو دل آشنائے سوز الفت جب

نزاکت ہو کہ خوشبو پھول کی اچھی نہیں لگتی

محبت کی زباں کچھ قطرہ شبنم عطا کر دے

یقینا سرد پڑ جائیں گے نفرت کے شرارے تو

محمد اکرم کنجاہی کی سماجی نا ہمواریوں ، ارتکازِ دولت کے گنجلک روپ، عہد پُرآشوب کی اٹھکیلیاں، فاقہ کشی اور فاقہ کشی میں ملبوس اجسام کی تعبیر پر گہری نظر ہے۔ شاعر نے ان موضوعات کی عکاسی دلنشیں انداز میں کی ہے۔ فاقہ کشی کااظہار صرف اجسام کی ضعیفی سے ہی نہیں بلکہ چہروں کے خدوخال سے بھی واضح ہوتا ہے بقول جون ایلیا:

یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بد صورت نظر آتی

اس ضمن میں اکرم کنجاہی رقمطراز ہیں :

حقیر بستی کے ہم مکینوں میں رسم کیسی ، رواج کیسا

جہاں ہو فاقے سے جاں لبوں پر غریب بیٹی کا داج کیسا

اور پھر کہتے ہیں:

فاقوں کے سوا اس کا صلہ کچھ بھی نہیں

جلسوں میں کسی طور بھی نعرے نہ لگا تو

ہمارے شاعر کے شعور و تحت الشعور میں یہ ادراک بھی جاگزیں ہے کہ دیدئہ افلاس تو خواب دیکھنے سے بھی محروم رہتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیر بھی غیر ممکن اور ناپید ہوتی ہے کہتے ہیں:

منظر کسی گلی میں نہ تعبیر کا ملا

دیدوں کی کھڑکیوں میں بھی رکھے سجا کے خواب

دھڑکتے دل کی حساس رگوں میں جو تہ در تہ گنگ جذبے موجزن ہوتے ہیں انھیں اظہار کی تحریک درکار ہو تو وہ سچے قلمکار کی نوک قلم کی چبھن کے محتاج ہوتے ہیں ایسے میں شاعر کے منصب کا تقاضا ہے کہ نسل در نسل ان جذبوں کی امانتیں سونپتا چلا جائے کہ وقت اپنی تخریبی دوڑمیں ان خاموش جذبوں کو روند ڈالے۔ ”محبت زمانہ ساز نہیں“ دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا شاعر اس منصب سے انصاف کر تا ہوا نظر آتا ہے۔

محمد اکرم کنجاہی کی شاعری صرف روایتی اور رسمی رنگ سے آلودہ نہیں ہے بلکہ بعض اشعار میں ایسی دمک ہے کہ نگاہ خیرہ ہو جاتی ہے ۔ اکرم کنجاہی کے خیال کا تانا بانا جمالیاتی سے کہیں زیادہ فکری ہے جس کا اندازہ ان کے اس مجموعہ کلام سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ سچی شاعری وہی ہے جو آفاقی سطح پر انسان کے درد وکرب ،یاس و اُمید،مراحل و منازل، دھوپ چھاﺅں، تحیرو تاثیر، تجربہ و مشاہدہ، نفرت و محبت اور لمحہ لمحہ بدلنے والی کیفیت و ماہیئت کا مشاہدہ کرنے اور تخلیق کے روپ میں اس کا حل تلاش کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کی شاعری احساس کے داخلی و خارجی دونوں تجربوں کے درمیان سے گذرتی ہے۔ ”محبت زمانہ ساز نہیں“ کا شاعر معاشرے کے پیچ و خم کے اظہار کے لیے اپنے پیرائیہ اظہار میں رجزخوانی کو بھی بروئے کا لاتا ہے شعر دیکھئے:

اب فکر نہیں کوئی بھی ٹوٹے ہوئے پر کی

سر کرنا تھی منزل تو باانداز دگر کی

چلتی ہیں اس وقت وہیں تند ہواہیں

اکرم جو کہیں ہم نے کبھی خواہش پر کی

ان کے ہاں رومانیت ضرور ہے تا ہم ان میں ہوس اور تلذت پر ستی نہیں بلکہ ایک لطیف جذبہ پنہاں ہے ۔ اس جذبے میں خوبصورت اور خوشگوار احساس اور نرم ونازک سی زیریں لہر ہے جو عشق کی خودداری کو برقرار رکھتے ہوئے من کی عظمت کی بھی آئینہ دار ہے۔ سفر محبت میں درپیش آلام و کرب شاعر کے دل و دماغ میں رچ بس گئے ہیں شاید اس لیے محبت کے سفر میں ان کے تجربات حیات حوصلہ شکن نظر آتے ہیں۔

محمد اکرم کنجاہی ان کی نعت رسمی طور پر اور بطور تبرک نہیں بلکہ ان کے نعتیہ اشعار میں ان کے جذبات، عقیدت، عشق مصطفی ، نعت اور مقام مصطفے سے والہانہ وابستگی نمایاں ہے:

محمد کے ہیں ہم عاشق مگر اتنی سی خواہش ہے

خداوند! محمد کو ہمارا لکھ دیا جائے

اچھے شاعر کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے فکری سانچے اور اسلوبِ اظہار پر تقلید کی چھاپ نہ لگنے دے۔ اس کی ذہنی تعمیر خود اس کی تعمیر دکھائی دے اور اس کے لہجے پر کسی دوسرے کا گمان نہ ہو۔ محمد اکرم کنجاہی کی شاعری میں یہ اوصاف نمایاں نظر آتے ہیں وہ کسی کے مقلد نظر نہیں آتے اور نہ کسی محضوص ادبی گروہ سے وابستہ لگتے ہیں۔ ان کا شعری لب و لہجہ ان کا اپنا اور ان کے خیال کا زاویہ جداگانہ ہے مگر ساتھ ہی ساتھ انہوںنے صحت مندا قدار زیست، شعرو ادب کے مثبت میلانات اور فکر وفن کے شاداب جزیروں کو بھی محفوظ ضرور رکھا ہے ۔ ان کے مشاہدات و شعر محبوب ورقیب کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے نہیں بلکہ تجربات حیات کے عکاس ہیں۔ اس لیے ناقدین ان کا شمار صرف شعراءمیں نہیں اچھے شعراءمیں کرتے ہیں جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔

آخر میں سخن گسترانہ کے طور پر عرض ہے کہ ان کے ہاں مضامین کے تنوع میںکمی نظر آئی ہے اور نئے استعاروں اور تراکیب کی تخلیق بھی نا پید ہے ۔کئی غزلوں میں یکسانیت اور معدودیت بھی قارئین کو کھٹکتی ہے۔ اس کے باوجود ”محبت زمانہ ساز نہیں“ شعراءکی صف میں بھاری بھر کم اضافہ ہے ۔ اکرم کنجاہی جیسے مثبت سوچ اور معقول رویے کے شعراءغنیمت ہیں ان کی موجودگی بڑی حد تک ہماری تہذیبی اور شعری روایت کے تسلسل کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ قوی اُمید ہے کہ وہ جلد نئے مجموعہ کلام کے ذریعے ہمیں تازگی اظہار سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیں گے۔    ٭

مزید : کالم


loading...