سرمایہ کاری و ٹیکس ترغیبات: کچھ نیا کیوں نہیں؟

سرمایہ کاری و ٹیکس ترغیبات: کچھ نیا کیوں نہیں؟
سرمایہ کاری و ٹیکس ترغیبات: کچھ نیا کیوں نہیں؟

  


ہمارے ایک عزیز دوست تبدیلی کے لئے بے چین رہتے ہیں۔انتخابات میں انہوں نے اپنے تئیں تبدیلی کو ووٹ دیا اور ایک صوبے کی حد تک تبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔انجینئر ہیں اور ایم بی اے بھی، گزشتہ بیس سال ملک کے کئی نیم سرکاری اداروں کو مفید مشوروں سے نوازتے رہے ہیں، بلکہ گزشتہ دس سال سے عالمی بینک اور دیگر کئی اداروں کو اپنے ماہرانہ مشوروں سے مستفید کرتے رہتے ہیں۔ان کا نان و نفقہ بھی اسی مشاورت سے چلتا ہے اورعالمی اداروں کی بہت ساری فائلوں کا پیٹ بھی ان کی رپورٹوں سے بھر جاتا ہے۔

مشاورت سے جب کبھی انہیں فرصت ملتی ہے، وہ فیس بک پر تبدیلی کے لئے اپنی جدوجہد کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔اس کوشش میں وہ اب تک آنے والی تبدیلیوں کے نشان اور امکان کو مختلف سمعی اور بصری رپورٹوں، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اجاگر کرتے ہیں۔اس دوران وہ حکومت وقت جو بقول ان کے اسلام آباد میں براجمان ہے اور تبدیلی کے خوش کن تصور سے آشنا بھی نہیں ہے پر بھی حسبِ توفیق عنایت کرتے رہتے ہیں۔ان کی ایک حالیہ فیس بک پوسٹ میں ایک ادھیڑ عمر شخص کو حیران پریشان بازار میں کھڑے دکھایا گیا ہے۔ہر طرف مہنگائی کی یلغار میں یہ محنت کش روہانسا کھڑا ہے۔اس تصویر پر ان کا تبصرہ یہ تھا.... اب روﺅ ان کی جان کو ،جنہیں ووٹ دیا تھا۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اقتدار کی اسٹیج پر کانٹوں کی موجودگی اور تعداد کا انہیں خوب علم تھا۔حلف لینے سے قبل سرمایہ کاروں کے ساتھ دھڑا دھڑ اجلاس ہوئے، مشاورت ہوئی اور قوم کو بتایا گیا کہ ہوم ورک کرلیا گیا ہے، فرق 100دنوں میں نظر آ جائے گا۔اسحاق ڈار جن کے حصے میں مسلم لیگ(ن) نے وزارت خزانہ مختص کر رکھی ہے، نے بھی قوم کو آگاہ کیا، گو خزانہ خالی ہے ،مگر وہ اور ان کے قائد نوازشریف خالی ہاتھ اور خالی ذہن نہیں۔ان کے ہاتھوں میں معاشی معاملات کے سدھار کے لئے کئی نادر منصوبے ہیں، مضبوط ٹیم کی ہمراہی ہے اور ذہن میں کئی منفرد منصوبے کلبلا رہے ہیں۔ماضی کے کئی خوشگوار تجربے عوام کو یقین دلانے میں معاون رہے کہ اب کی بار بھی کچھ اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔

حکومت کے سو دن پورے ہوئے، بلکہ اگلے سو دن بھی قریب آ لگے ہیں۔معاشی معاملات میں سدھار کے جو بھی منصوبے اور خیالات برآمد ہوئے ہیں۔ان کا حال کچھ ایسا ہی ہے ،جیسے بقول شاعر....وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی! باقی اقدامات کو ایک لمحے کے لئے نظر انداز کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے وزیراعظم کے اعلان کردہ سرمایہ کاری اور ٹیکس کے ترغیبی پیکیج کو دیکھ لیں۔نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری پر سرمایہ کاروں سے ان کے ذرائع کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔اب تک ٹیکس چھپانے اور اس پر کسی حساب کتاب کا معاملہ بھی نہیں اٹھایا جائے گا ۔ لکڑ ہضم ،پتھرہضم، بسی اتنی تکلیف ان کے سرمایہ کاروں اور نئے ٹیکس گزاروں کو کرنا ہے کہ اب گزشتہ سال کی نسبت مخصوص شرح سے زائد ٹیکس ادا کردیں۔ان کی رات گئی، ہماری بات گئی، شب باشی کی بوسیدہ شکنوں کو اب آسودہ کرنے سے کیا حاصل، نئے ٹیکس گزار اور ٹیکس چھپانے والے سرمایہ کار اپنے آپ کو دودھ کا دھلا سمجھیں اور ٹیکس گزاری کا حکومتی تجویز کردہ نسخہ استعمال کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔وزیراعظم نے نئے معاشی زون بھی بنانے کا اعلان کیا ہے۔حکومت اور کاروباری حلقوں میں مسلسل رابطے اور مشاورت کے لئے دو مشاورتی گروپ بھی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ایک کاروباری طبقے کے لئے اور دوسرا زرعی طبقے کے لئے۔سرمایہ کاری اور ٹیکس کی ترغیبات میں رنگ بھرنے کے لئے وزیراعظم نے 400سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں کو وی آئی پی درجہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ائرپورٹ ہوں یا چند دیگر جگہیں، انہیں وی آئی پی پروٹوکول کی صورت میں سراہا جائے گا۔ان اقدامات کا اعلان ملک بھر کے چیدہ چیدہ سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی موجودگی میں کیا گیا،لہٰذا خوب تالیاں بجیں اور میڈیا نے شہ سرخیوں سے اس پیکیج کو اجاگر کیا۔

وزیراعظم کی آواز مکے مدینے ، ان کے اقدامات سے ہمیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ والا محاورہ یاد آ رہا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ شاید یہ نہیں کہ ٹیکس دہندگان کو وی آئی پی سٹیٹس نہ ملنے کا غم کھائے جا رہا ہے یا ٹیکس چھپا کر جمع کی گئی دولت کو پاﺅں پسارنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ غیر دستاویزی معیشت میں بلیک اکانومی کا حجم روایتی اکانومی سے بھی زائد ہے اور خوب پھل پھول رہا ہے، لہٰذا سرمایہ کاری میں یہ دونوں دُکھ مزاحم نہیں ہیں۔معیشت، صنعت اور کاروبار کو بجلی کی قلت نے ادھ موا کر رکھا ہے۔روپے کی شرح مبادلہ برف کی طرح پگھل رہی ہے۔افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لئے اسٹیٹ بنک نے زری پالیسی میں سختی کا راستہ اپنا رکھا ہے۔امن و امان کی گردن پر بھتہ خوری اور دہشت گردی نے پنچے گاڑ رکھے ہیں۔صنعت اور کاروبار کو ان مسائل سے چھٹکارے کی ضرورت ہے۔گزشتہ سو دن اور گزرتے ہوئے سو دن ان معاملات کے بارے میں تذبذب کو مہمیز ضرور کررہے ہیں، حل کی جانب قدم اٹھتے کم ہی نظر آتے ہیں۔

ٹیکس اور سرمایہ کاری کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ نہ کرنے کا حربہ اب فرسودہ ہو چکا۔ان پھسپھسے اقدامات سے ماضی میں کوئی معجزہ رونما ہوا نہ اب ہونے کی توقع ہے۔ہمیں حیرت ہے کہ 80ءاور90ءکی دہائی میں آزمائے ہوئے انہی اقدامات کو پھر سے نافذ کرکے حکومت نے ”خود فریبی“ کا سامان کیاہے یا سرمایہ کاروں کو رُجھایا ہے۔ جان کی امان ہوگی تو سرمایہ خود بخود چلا آئے گا۔بجلی میسر ہوگی تو مشینیں بھی چلیں گی۔روپے کی قدر کی توقیر ہوگی تو سرمایہ خود کار طریقے سے اپنی قدر نہیں کھوئے گا۔وی آئی پی کلچر سے جان چھڑانے کے دعوﺅں کی بازگشت ابھی ہوا میں تھی کہ ٹیکس گزاروں کو بھی اس نعمت میں شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔ٹیکس گزاری ایک فرض ہے، احسان نہیں۔دنیا بھر میں یہی تصور رائج ہیں، لیکن جہاں ہمارے ہاں اور بہت سی چیزیں دنیا سے منفرد ہیں، یہ تصور بھی ان میں ایک ہے۔

وزیراعظم کے سرمایہ کاری اورٹیکس پیکیج میں کتنا تیل ہے؟ اس کا اندازہ لگانا کیا مشکل ہے۔وہ بات جس کا ذکر زمانے بھر میں ہے،وزیراعظم نے اس بات کو حالات کے آسرے پر چھوڑ دیا ہے، یعنی یقینی امن و امان، دہشت گردی سے گلو خلاصی۔ایسے میں یہ پیکیج بھی چند مہینوں میں سیاسی عجائب گری میں شامل ہو کر محو ہو جائے گا، لیکن زمینی حقائق پر بکھرے کانٹے جوں کے توں رہنے کا اندیشہ ہے۔

ہم نے اپنے دوست کی تبدیلی لانے کی فیس بک کوششوں کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔لیکن حکومت کے پے درپے اقدامات نے جس تیزی سے امیدوں کو دھندلایا ہے، اس سے ہمیں اپنے دوست کی اس حالیہ فیس بک پوسٹ سے عدم اتفاق میں بڑی دقت آ رہی ہے کہ ”اب روﺅ ان کی جان کو، جنہیں ووٹ دیا تھا“۔ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں اب بھی امید قائم ہے کہ مصلحت کی چادر جلد یا بدیر اتارکر مسلم لیگ(ن) گھسے پٹے فارمولوں کی بجائے فیصلہ کن ضروری اقدامات اٹھائے گی۔مسلم لیگ(ن) کا مسئلہ یہ ہے کہ اس بار وہ کارکردگی نہ دکھا سکی تو ”میری جان قیامت ہوگی“....عوام کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے ”تو بھی میری جان قیامت ہوگی“.... ٭

مزید : کالم


loading...