لاپتہ بچہ جمورا کی واپسی

لاپتہ بچہ جمورا کی واپسی
لاپتہ بچہ جمورا کی واپسی

  


٭.... بچہ جمورا

٭.... جی مالک

٭.... ابے ہڈ حرامی چھوڑ اور دھندے پر نکل، انتخابات ہو گئے، حکومتیں بن گئیں، ہر عہدے پر نیا چہرہ آ گیا ، پر تیری ہڈ حرامی نہیں گئی، کب تک اس طرح چارپائی توڑے گا۔ مہنگائی دیکھ ہڈیاں توڑ رہی ہے۔

٭.... سرکار آپ نے تو سارا نزلہ مجھ پر گرا دیا، جیسے وزیراعظم نے خواجہ آصف کو وزیر دفاع کا چارج دے کر لاپتہ افراد کیس سے جان چھڑا لی، آپ بھی جان چھڑا رہے ہیں، حالانکہ آپ نے بھی چھ ماہ سے تنکا نہیں توڑا۔

٭.... ابے نا ہنجار اب تو میرا مقابلہ کرے گا۔ کبھی چیلے بھی گرو کا مقابلہ کرتے ہیں، کسی وزیر کو اپنے قائد کے سامنے کھڑے ہوتا دیکھا ہے۔ جی تو چاہتا ہے تجھے لمبا ڈالوں اور پھر تیری پولیس والوں کی طرح چھترول کروں۔

٭.... سرکار آپ چھترول جتنی مرضی کریں، مگر مجھے لاپتہ نہ ہونے دینا، پھر سپریم کورٹ بھی مجھے نہیں ڈھونڈ سکے گی۔

٭.... ابے چریے تجھے کون لاپتہ کرے گا۔ تیری شکل تو ویسے ہی یتیموں والی ہے، پھر اوپر سے تیری بزدلی، مرغی کو تو ذبح ہوتے دیکھ نہیں سکتا، تو کرے گا کیا۔

٭....کہتے تو آپ ٹھیک ہو مالک۔ ایک بات تو بتائیں، جب یہ افراد لاپتہ ہیں، تو پھر سپریم کورٹ یہ کیوں کہتی ہے کہ انہیں پیش کرو، یعنی جس کا پتہ نہیں اُسے پیش کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ کارنامہ خواجہ آصف کیسے سرانجام دیں۔ اُن کی ڈیوٹی تو بجلی چوروں کو پکڑنے کے لئے لگائی گئی تھی، اب انہیں لاپتہ افراد پیش کرنے کو کہا جا رہا ہے، جبکہ انہیں زعیم شیخ جیسے کسی جیمز بانڈ ڈی آئی جی کی خدمات بھی حاصل نہیں ہیں۔

٭.... زیادہ بُڑ بُڑ نہ کر، جن لوگوں نے لاپتہ افراد کو سنبھال رکھا ہے، وہ بہت سیانے ہیں انہوں نے یہ جان لیا ہے کہ تھوڑے سے دن رہ گئے ہیں، پھر کوئی نہیں پوچھے گا، بندے کہاں سے اُٹھائے اور کہاں گئے۔

٭.... کیوں سرکار کوئی آندھی طوفان آنے والا ہے؟

٭.... آندھی یا طوفان نہیں آ رہا، البتہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جا رہے ہیں، وہ گئے تو لاپتہ افراد کا کیس بھی لاپتہ ہو جائے گا، ممکن ہے سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس ایسا نہ ہونے دیں، تاہم لاپتہ افراد کی ترکیب ایجاد کرنے والوں کا اندازہ اور امید یہی ہے۔

٭.... مالک اگر آپ مجھے حکم دیں تو مَیں لاپتہ افراد کو ڈھونڈوں!

٭.... ابے کمبخت آہستہ بول، چیف جسٹس صاحب نے سُن لیا تو میری شامت آ جائے گی۔

٭.... آپ کی کیوں؟

٭.... ارے دیکھا نہیں، وہ اوپر والے کو پکڑتے ہیں۔ پھر نیچے والے خودبخود پکڑے جاتے ہیں، اچھا تو یہ بحث چھوڑ اور چل دھندے پر چلیں۔

٭.... کون سا دھندہ مالک

٭.... تو اب پٹے گا میرے ہاتھوں سے یہ بھی بھول گیا

٭.... سرکار جہاں حکمران عوام سے کئے گئے وعدے بھول جاتے ہوں، جہاں عوامی نمائندے اپنے ہی ووٹرز کی شکلیں پہچاننے سے انکار کر دیتے ہوں، وہاں مَیں اگر اپنا دھندہ بھول گیا ہوں، تو آپ اتنے حیران کیوں ہیں۔

٭.... ابے وہ کچھ بھولتے ہیں تو اُن کا دھندہ چلتا ہے، ہم بھول گئے، تو بھوکوں مریں گے اس لئے سیدھی طرح دھندے پر نکل ورنہ تیرا بندوبست کرنا مجھے آتا ہے۔

٭.... نہ مالک نہ میرا بندوبست نہ کرنا، جس کا بندوبست ہو جائے، سُنا ہے وہ ڈرون حملے کی زد میں آ جاتا ہے، مَیں ابھی مرنا نہیں چاہتا۔ آپ حکم کریں سرکار غلام حاضر ہے!

٭.... بچہ جمورا تو پھر گھوم جا

٭.... گھوم گیا سرکار

٭.... کیا دیکھتا ہے؟

٭.... پنجاب یونیورسٹی لاہور کے باہر کھڑا ہوں مالک

٭.... یہاں کیا ہے؟

٭.... مجھے تو لگتا ہے یونیورسٹی میں پولیس والوں کی کلاسیں لگی ہوئی ہیں۔

٭.... ابے گھامڑ پولیس والے پڑھنے کے لئے یہاں نہیں آئے، طلبہ کو پڑھانے کا پُرامن ماحول دینے آئے ہیں۔

٭.... پولیس کی نگرانی میں پُرامن ماحول؟ مالک آپ بھی مذاق کرنے کے بادشاہ ہیں۔

٭.... یونیورسٹی کے وائس چانسلر بہت دبنگ آدمی ہیں، انہوں نے طاقت کے زور پر ہاسٹل خالی کراکر طالبات کو دے دیا ہے۔

٭.... مالک کیا ایسے مسائل مذاکرات سے حل نہیں ہو سکتے، کیا ان کے لئے طاقت کی زبان ہی ضروری ہوتی ہے۔

٭.... چریے لگتا ہے طالبان سے مذاکرات کی باتیں سُن سُن کر تجھے بھی مذاکرات کا دورہ پڑ گیا ہے۔

٭ .... مالک میں تو صرف یہ کہہ رہاہوں کہ اس پولیس ایکشن کے بعد یونیورسٹی کا تدریسی امن کیسے برقرار رہ سکے گا، اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کی ایک بڑی حقیقت ہے۔

٭ .... ارے تو یہاں کیوں وقت ضائع کر رہا ہے، کہیں اور چل اور گھوم جا۔

٭ .... گھوم گیا مالک

٭ .... کیا دیکھتا ہے

٭ .... سینیٹ کے سامنے کھڑا ہوں مالک، سینیٹرز نادرا کے چیئرمین کی برطرفی پر لال پیلے ہو رہے ہیں، جیسے وہی اس قوم کا نجات دہندہ تھا، مالک طارق ملک کو چیئرمین کس نے لگایا تھا۔

٭ .... آصف علی زرداری نے

٭ .... ہٹایا کس نے ہے؟

٭ .... محمد نواز شریف نے

٭ .... تو پھر احتجاج کا حق تو زرداری صاحب کو ہے۔ یہ باقی لوگ کیوں شور مچا رہے ہیں عجیب ملک ہے مالک، یہاں لوگ غربت، مہنگائی اور فاقوں سے مر رہے ہیں، دو وقت کی روٹی خواب بن چکی ہے، بڑے بڑے مسائل مُنہ کھولے کھڑے ہیں، مگر سینٹرز ہوں یا ارکانِ اسمبلی انہیں عوام کے حق میں ایک لفظ کہنے کی توفیق نہیں ہوتی، مگر ایک شخص کے لئے سب اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

٭ .... اگر وہ اسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں، تو کیا تو ماما لگتا ہے کہ انہیں روکے، چل آگے چل اور گھوم جا۔

٭ .... اچھا مالک جو آپ کا حکم، گھوم گیا

٭ .... کیا دیکھتا ہے

٭ .... ایک سستے بازار میں کھڑا ہوں، جہاں انسانوں کے سوا سب کچھ مہنگا ہے۔

٭ .... ابے کیا بک رہا ہے، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے تو کہا ہے مہینوں یا ہفتوں میں نہیں، دِنوں میں ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کو عبرت کا نشانہ بنا دوں گا۔

٭ .... ہاں مالک کہا تو ہے، مگر سرکاری کارندوں اور ذخیرہ اندوزوں کے درمیان جو گٹھ جوڑ ہے، اسے وزیراعلیٰ وڈیو کانفرنسوں کے ذریعے نہیں توڑ سکتے، کمرے اور میدان میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ جب شہباز شریف تن تنہا نکل کھڑے ہوتے تھے ،تو سرکاری افسران بھی چوکس تھے، اب وہ ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔

٭ .... لگتا ہے تو نے محمود الرشید کا جھوٹا پی لیا ہے۔ نا ہنجار واپس آ اور اوٹ پٹانگ باتوں سے میرا سر نہ کھا۔     ٭

مزید : کالم


loading...