مَیں کیسے اعتبارِ انقلاب آسماں کر لوں!

مَیں کیسے اعتبارِ انقلاب آسماں کر لوں!
مَیں کیسے اعتبارِ انقلاب آسماں کر لوں!

  


ہر وہ پارٹی جو ایوان اقتدار تک پہنچتی ہے، اس نے عوام سے کئی طرح کے وعدے کئے ہوتے ہیں۔پچھلے چند عشروں سے جو وعدے تسلسل کے ساتھ کئے گئے ان میں مہنگائی، بے روزگاری،جہالت، کرپشن اور امن و امان کے مسائل کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔انتخاب سے پہلے صوبے یا مرکز میں جس پارٹی کی حکومت قائم ہوتی ہے اس کے خلاف کافی دھواں دھار بیانات دیئے جاتے ہیں۔پچھلے دور میں مسلم لیگ(ن) نے پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں پر بے شمار الزامات لگائے،حتیٰ کہ صدر مملکت کے لئے لٹیرا، ڈاکو وغیرہ کے الفاظ بھی بے دریغ استعمال کئے۔ایسے بیانات دینے میں پنجاب کے موجودہ اور اس وقت کے وزیراعلیٰ جناب شہباز شریف کا لب و لہجہ اس حد تک بگڑ جاتا تھا کہ حیرت ہوتی تھی کہ وہ ایک صوبے کے سربراہ ہوتے ہوئے صدر کے خلاف ایسے بیانات کس طرح دے سکتے ہیں۔چاہے جو بھی ہو صدربہرحال وفاق کی علامت ہوتا ہے اور اس کو باقی تمام مناصب کے مقابلے میں نسبتاً کچھ زیادہ احترام حاصل ہوتا ہے۔ جناب شہباز شریف اکثر کہتے تھے کہ ہم ایک ایک پائی کا حساب طلب کریں گے، لیکن جوں ہی ن لیگ نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی، سب کچھ بھول گئی۔اسی ”ملزم“ صدر مملکت کو نہایت احترام سے رخصت کیا گیا اور اس دور کے کرپٹ عناصر کے کیس داخل دفتر ہو گئے۔

ن لیگ جب سے برسراقتدار آئی ہے، بلاشبہ اس کے بعض وزراءبہت فعال ہیں۔ اپنے اپنے محکموں کے معاملات درست کرنے کے لئے کام بھی کر رہے ہیں، لیکن جس بنیادی مسئلے کی طرف سے ان سب نے آنکھیں پھیرلی ہیں وہ احتساب کا مسئلہ ہے۔گزشتہ یا گزشتہ سے پیوستہ دور میں کیا کچھ نہیں ہوا۔بہت کچھ تو دیکھتی آنکھوں ہوا، بعض چہرے بہت جانے پہچانے ہیں، لیکن کسی سے پوچھ گچھ نہیں ہو رہی۔کسی کی فائل نہیں کھل رہی۔خاص طور سے احتساب کے اداروں کی فعالیت صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ عام آدمی یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ن لیگ کے سامنے کیا مصلحتیں ہیں؟وہ بدنام زمانہ عناصر پر بھی ہاتھ کیوں نہیں ڈالتی، اب اس کے وعدے اور دھمکیاں کہاں گئیں؟

مزید ستم کی بات یہ ہے کہ حزب اختلاف کا رویہ بھی مختلف نہیں۔یہ لوگ کبھی کبھی احتساب کے ضمن میں بے روح سے بیانات جاری کر دیتے ہیں ،لیکن کوئی موثر کارروائی نہیں کرتے۔ان کی کارروائی کا خاص میدان پارلیمنٹ ہے، لیکن وہاں یہ لوگ محض ذاتی الزام تراشیوں کے اور کچھ نہیں کرتے۔اول تو قومی اسمبلی ہو یا کوئی صوبائی اسمبلی، یہ سب عوام کے منتخب نمائندے مقررہ وقت سے دو دو گھنٹے دیر سے اجلاس میں پہنچتے ہیں۔ان کو اسمبلی کی رکنیت کی تنخواہ کے علاوہ کئی طرح کی مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی کوئی قابل ذکر کارکردگی سامنے نہیں آتی۔اخبارات روزانہ اسمبلی کے بحث مباحثے سے بھرے ہوتے ہیں، انہیں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قانون ساز نہیں، تھڑے باز ہیں، جن کے دل میں عوام کے دکھوں کا نہ درد ہے اور نہ انہیں حل کرنے کے لئے ذہن میں کوئی مصمم ارادہ!

پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عوام ان لوگوں کو جانتے پہچانتے ہوئے بھی انہیں ہی کیوں ووٹ دیتے اور ان کے جھوٹے سچے وعدوں پر ایمان لے آتے ہیں؟ آخر انہیں کیا چیز گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشنوں تک لے کر جاتی ہے؟

ہمارے نزدیک اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ حزب اقتداراور حزب اختلاف میں شامل عناصر قیام پاکستان سے لے کر آج تک اپنے کردار سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ان سب کے مفادات یکساں ہیں اور وہ ایک دوسرے کو پورا پورا تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔پہلے پہل ان میں ایک بڑی تعداد جاگیرداروں اور وڈیروں کی ہوتی تھی، ان کی جگہ اب بڑی حد تک کاروباری طبقے نے لے لی ہے۔ان میں سے شاید ہی کبھی کسی فرد نے ملکی، قومی اور بین الاقوامی مسائل پر سنجیدگی سے سوچا اور لکھا ہو۔یہی لوگ اپنے مفادات کے لئے پارٹیاں بھی بدلتے رہتے ہیں، کبھی مارشل لاءآ جائے تو بڑے اطمینان کے ساتھ وزارتوں اور سفارتوں کے لئے اس سے بھی تعاون کرنے پر فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔ایک صاحب کو تو مارشل لائی حکومت اتنا وارا کھاتی تھی کہ انہوں نے حاضر سروس جرنیل کو دس دفعہ صدر منتخب کرانے کا بھی عزم ظاہر کردیا تھا۔

آج کل حزب اختلاف کے رہنما بار بار حکمرانوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔مہنگائی،بے روزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال پر دہائی دے رہے ہیں، لیکن اندر سے وہ بھی جانتے ہیں کہ اگر باگ ڈور ان کے اپنے ہاتھوں میں آ جائے تو صورت حال اس سے کم کیا، بدتر ہوگی، کیونکہ مخالف جماعتوں کے پاس کبھی کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہوتا، جو انتخابی منشور وہ شائع کرتی ہیں ان کو اقتدار میں آکر بھول بھال جاتی ہیں۔

یہی جماعتیں کل بھی عدالتوں کا مذاق اُڑا رہی تھیں اور آج بھی ان کی وہی روش دیکھنے میں آرہی ہے۔جن لوگوں نے سینکڑوں شہریوں کو اٹھایا، غائب کیا، بلکہ کئیوں کو موت سے دوچار کردیا، انہیں نہ کل کوئی پوچھ سکتا تھا اور نہ آج پوچھ سکتا ہے۔گم شدہ افرادکی بازیابی کا مسئلہ آج کل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،عدالت بار بار ذمہ داران کو طلب کرتی ہے، وہ پیش ہی نہیں ہوتے، ان کے وکیل عدالتوں کے سامنے الٹے سیدھے بہانے پیش کرکے انہیں احتساب سے بچا لیتے ہیں۔عوام کو عدالت اور کرپٹ عناصر کے درمیان ایسے مکالمات دیکھتے اور سنتے کئی عشرے بیت گئے ہیں۔نہ کسی افسر کو ہتھ کڑی لگتی ہے اور نہ کسی سیاستدان کو اس کی خلاف قانون حرکت پر جیل جانا پڑتا ہے۔نتیجہ معلوم کہ قانون شکنی کا رجحان روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔مفاد پرست عناصر بڑی آسانی کے ساتھ تیل کی بڑھتی قیمت کے بہانے زندگی کی بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھاتے چلے جاتے ہیں، ان سے باز پُرس نہیں ہوتی۔جو ہوتی ہے وہ اتنی برائے نام ہوتی ہے کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ عوام پھر بھی ووٹ کیوں دیتے ہیں؟غور سے دیکھا جائے تو یہی مفاد پرست طبقات عوام کو مختلف حربوں کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں پر لے آتے ہیں۔انتخابی ماحول بنوانے میں اسٹیبلشمنٹ بھی اپنے مفاد میں اندر خانے ایک کردار ادا کرتی ہے، جو عموماً عام آدمی کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔الیکشن کے موقع پر سیاسی لوگ کروڑوں اربوں روپے پروپیگنڈہ مہم پر خرچ کر دیتے ہیں، جس سے عوام ہر دفعہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اب کہ وہ پہلے سے بہتر لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچائیں گے ، لیکن ان کی سوچ کے علی الرغم وہی بدنام عناصر یا ان کے بھتیجے بھانجے دوبارہ بلکہ سہ بارہ منتخب ہو جاتے ہیں۔پروپیگنڈہ کرنے میں دنیا دار جماعتیں تو رہیں ایک طرف دینی جماعتیں بھی پیچھے نہیں رہتیں۔ابھی کل کی بات ہے، ایک الیکشن کے موقع پر جماعت اسلامی نے ”قاضی آرہا ہے“ کے جو اشتہارات اخبارات میں چھپوائے، اس سے حالات پر کوئی اثر نہ پڑا تھا۔ طاقت کے اصل سرچشمے بھی وہیں قائم رہے اور ان کے حامیوں کا اثرورسوخ بھی کم نہیں ہوا۔

بلدیاتی انتخابات جلد منعقد کروانے کے لئے حزب اختلاف کی جماعتیں مسلسل مطالبہ کررہی ہیں، لیکن ن لیگ مختلف حیلوں بہانوں سے ٹالتی جا رہی ہے۔شاید وہ کچھ ایسے اقدامات کرلینا چاہتی ہے جس سے اس کے بارے میں رائے عامہ کچھ بہتر ہو جائے۔ریلوے اور بجلی کی ترسیل کا نظام قدرے درست ہو گیا ہے۔مختلف سرکاری شعبوں میں بھرتی کے منصوبے بھی تکمیلی مراحل میں ہیں اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی بہتری کے آثار نمودار ہو رہے ہیں، لیکن مہنگائی کا مسئلہ سب سے بنیادی مسئلہ ہے، اس کے باوجود حکمران جماعت بلدیاتی انتخابات کروا بھی لے گی اور اپنے حامیوں کی جیت کے لئے کچھ نہ کچھ اقدامات بھی کرلے گی۔لوگ پھر پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچیں گے، اس امید کے ساتھ کہ شاید ہمارے مقامی مسائل کا بوجھ کچھ کم ہو جائے اور آبرومندی کی زندگی کے آثار پیدا ہوجائیں۔بقولِ شاعر:

نہ تم بدلے ،نہ ہم بدلے، نہ دل کی آرزو بدلی

میں کیسے اعتبارِ انقلابِ آسماں کرلوں

مزید : کالم


loading...