پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامہ کا ذمہ دار کون؟

پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامہ کا ذمہ دار کون؟
پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامہ کا ذمہ دار کون؟

  


دو روز قبل پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ہاسٹل نمبر 16 کو خالی کرانے کیلئے صبح کے وقت پولیس کی مدد سے کارروائی کی۔ اس دوران طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے مزاحمت شروع کر دی اور بعدازاں پتھراﺅ کیا گیا جس پر پولیس نے تنظیم کے 13 کارکنوں کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کر دیا۔ انتظامیہ نے ہاسٹل خالی کرانے کے بعد یہ کمرے طالبات کو الاٹ کر دئیے۔ طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے شدید احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑیاں روک کر انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے بقول ایک کمرے سے جس پر جمعیت کے ناظم نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا تلاشی کے دوران شراب کی بوتلیں، گولیاں اور ممنوعہ سامان ملا ہے، دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبا نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے ہوتے ہوئے ہاسٹل سے شراب کی بوتلیں اورگولی ملنا باعث حیرت نہیں، شراب کی بوتلیں انتطامیہ نے ہنگامی طور پر منگوا ئیں، وی سی صاحب چاہتے تو راکٹ لانچر اور دستی بم بھی برآمد کروا سکتے تھے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ وی سی صاحب نے صرف ایک گولی اور شراب کی 3 خالی بوتلیں برآمد کروائیں۔ جمعیت پنجاب یونیورسٹی میں نئے ہاسٹلز کی تعمیر اور نئی بسوں کا مطالبہ کر رہی تھی کہ پنجاب یونیورسٹی میں فی الفور نئے ہاسٹلز تعمیر کئے جائیں ۔یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کے مطالبے پر غور کرنے کی بجائے جمعیت کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا۔ جن طالبات کو ہاسٹلزمیں شفٹ کیا گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انہیں آگاہ کیے بغیر ہی لڑکوں کے ہاسٹلز میں شفٹ کر دیا گیا ہے جہاں وہ خود کو غیر محفوظ خیال کرتی ہیں۔یہاں نہ رہنے والی طالبات کو ڈرایا ، دھماکایا جا رہا ہے اور یونیورسٹی سے خارج کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔

 وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران کایونیورسٹی میں پولیس بلا کر ہاسٹل خالی کرانا افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ وائس چانسلر اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اتر آئے ہیں جو ان کے منصب کے منافی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وائس چانسلر نے الیکٹرانک میڈیا پر بیان دیا ہے کہ وہ یونیورسٹی سے اسلامی جمعیت طلبا کو ختم کر کے دم لیں گے۔کیا انہیں اس کام کےلئے وائس چانسلر بنایا گیا تھا؟

 امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر اور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے پنجاب یونیورسٹی واقعہ پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران کو افہام و تفہیم سے کام لیتے ہوئے طلبا کو اعتماد میں لے کر جامعہ پنجاب میںہاسٹل کے مسئلے کو حل کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار شدہ طلبا کو فی الفور رہا کیا جائے۔میڈیا کو بھی چار گھنٹے تک جائے وقوعہ پر نہیں جانے دیا گیا ۔ لڑکوں کے ہاسٹلز میں طالبات کو شفٹ کرنے سے مسائل ختم نہیں ہوں گے بلکہ ان کا حل یہی ہے کہ نئے ہاسٹلز بنائے جائیں۔ یونیورسٹی کے پاس کروڑوں روپے جمع ہیں تو ان سے نئے ہاسٹلز تعمیر کیوں نہیں جا سکتے۔

 وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان سے بھی درخواست ہے کہ وہ واقعہ کا نوٹس لےتے ہوئے یونیورسٹی کا پرامن ماحول برقرار رکھنے کےلئے ہر ممکن اقدام کریں۔     ٭

       

   

مزید : کالم


loading...