لاپتہ افراد اور پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی

لاپتہ افراد اور پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی

سپریم کورٹ نے ایک بار پھر لاپتہ افراد کو پیش کرنے کے لئے مہلت دیتے ہوئے حکومت کو 5دسمبر کو تمام افراد کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ لاپتہ 35افراد میں سے دوران حراست دو افراد انتقال کر چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے دوران حراست ہلاکت کو قتل قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ مقدمات درج کر کے ایف آئی آر کی کاپی پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ عدالت نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی استدعا پر لاپتہ افراد کو پیش کرنے کے لئے ایک روز کی مہلت دی پھر منگل کو تاریخ سماعت 5 دسمبر مقرر کردی، جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی ایجنسی کے زیر حراست موت قتل ہے۔ صورت حال بہت سنگین ہو گئی ہے لاپتہ لوگ اب مرنا شروع ہو گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کو پیش نہ کیا گیا توقانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔آئین کو نافذ کرنے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ دوران تفتیش ہلاکتیں ماورائے آئین ہیں، اگر لوگوں کو اس طرح مارنا ہے تو تفتیشی مراکز بند کر دیئے جائیں۔ اس پر وزیر دفاع نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ معاملہ وزیراعظم کے سامنے اُٹھائیں گے اور لاپتہ افراد کو پیش کریں گے ۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کیس سے الگ کرنے سے متعلق خط لکھنے والے لیگل ڈائریکٹر کو ہٹانے کا حکم بھی دیا۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ جس قدر طول پکڑ گیا ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے جس قدر سخت موقف اختیار کیا ہے اور اسے آئین سے تجاوز اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، یہ ہماری عدالتوں کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کے لئے کی جانے والی جدوجہد کی ایک روشن مثال بن چکی ہے۔ ایجنسیوں اور خود کو قانون اور آئین سے بالا تر سمجھنے والے اداروں اور حکومت کی طرف سے لا پتہ افراد کو پیش کئے جانے میں پس و پیش سے کام لینے کے باوجود عدالت نے اس سلسلے میں بھرپور کارروائی کی اور مسلسل صبر اور حوصلے سے کام لیا ہے۔ اس ساری کارروائی کا مقصد ایک طرف لاپتہ ہوجانے والے افراد کے غمزد ہ لواحقین کے اطمینان کا انتظام کرنا ہے تو دوسری طرف آئین ، قانون کی سربلندی اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری بھی ہے۔ قانون اور آئین کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کی پروا کرنے والا ہر انسان اس حقیقت سے افسردہ ہے کہ معاشرے کے ہنستے بستے گھروں سے مختلف ملکی ایجنسیوں کے افراد جس شخص کو جب چاہیں اُٹھا کر لے جاتے ہیں، ایسے افراد کو کسی مقدمے کے بغیر حراست میں رکھا جاتا ہے اور ان کے لواحقین کو بھی ان کے کسی قصور سے آگاہ نہیں کیا جاتا، اس طرح ملکی قوانین اور آئین کا مُنہ چڑایا جاتا ہے ۔ لواحقین کی طرف سے ان کی غیرقانونی حراست سے رہائی پر زور دیا جائے تو ان پر ملک سے غداری کے مقدمات بنا دیئے جاتے ہیں،یا ان کے ہلاک ہونے کی خبر دے دی جاتی ہے ۔ ہمارے تفتیشی ادارے جس طرح تفتیش کرتے ہیں وہ ایک کھلا راز ہے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کسی طرح کی غیر قانونی یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت مل جائیں تو اس صورت میں اسے گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے، لیکن محض شک کی بنا پر لوگوں کو اُٹھا لینا اور کسی بھی ثبوت کی عدم موجودگی میں تفتیش کے دوران اس پر تشدد کر کے اس سے کوئی ثبوت اگلوانے کی کوشش کرنا کسی بھی انسانی ضابطے اور قانون اور اخلاق کے مطابق جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تفتیش کے دوران تشدد اور اذیتیں دینے کا راستہ محض تفتیشی افراد کی نااہلی اور تن آسانی کی وجہ سے اختیار کیا جاتا ہے اور ایسا اس صورت میں کیا جاتا ہے،جبکہ تفتیش کرنے والوں کے پاس ان کے خلاف کسی جرم کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا ۔ ثبوت نہ ہونے کی صورت میں کسی کو پکڑے جانے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں۔ جب قانونی طور پر کوئی شخص مجرم نہیں ہے تو اس پر تشدد بھی بلا جواز ہی قرار پائے گا۔

 سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایجنسیوں کی طرف سے شہریوںپر کوئی فرد جرم عائد کئے بغیر انہیں گھروں سے اُٹھا لینے کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس بات پر مسلسل زور دیا ہے کہ اُٹھائے جانے والے پاکستانی شہریوں کو عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو ان کے خلاف مقدمات درج کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔موجودہ حالات میں جب کہ بلوچستان کے فراری کیمپوں میں بیٹھے ہوئے لوگ اس بات کو بہت ہوا دے رہے ہیں اور اس سے ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں کی حمایت کا پہلو بھی نکال رہے ہیں، یہ سلسلہ ہر صورت میں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی اور فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو معاف نہیں کیا جانا چاہئے، لیکن دہشت گردوں سے تعلق یا دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث ہونے کے شبے میں لوگوں کو اٹھا لینا کسی طور پر قابل قبول فعل نہیں، اس کو کم از کم سیکیورٹی اداروں کی ناکامی یا بندر کی بلا طویلے کے سر کرنے والی بات کہا جائے گا۔ اس وقت دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے بھی ہماری اپنی آبادیوں اور شہروں میں چھپے ہوئے ہیں، ان سے عام میل ملاقات رکھنے والے سب لوگوں کو ان کے سیاہ کرتوتوں کا علم بھی نہیں ہے۔ اکثر اوقات گھر کے لوگوں کو بھی اپنے بچے کے ایسے خفیہ کاموں کا علم نہیں ہوتا، علم ہو بھی تو بہت سے لوگ والدین کے سمجھانے کے باوجود غلط اور نامعلوم راستوں پر چلتے رہتے ہیں۔ اس طرح کسی جاننے والے کے قصور کا ذمہ دار کسی دوسرے کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تفتیش کے بہانے نہتے شہریوں کو اُٹھا کر ان پر تشدد اور ہلاکت کی تائید معاشرے کا کوئی بھی قانون پسند شہری نہیں کر سکتا۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے، جس سے جرائم اور دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے ایسی کارروائیوں کے صد مے سے معاشرے کے ہزاروں لاکھوں افراد کے ذہن پلٹ جاتے ہیں، جس کے بعد وہ انتقام لینے کے لئے گھناﺅنے جرائم اور دہشت گردی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

 آج پوری قوم لاپتہ افراد اور ان کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کر رہی ہے ۔ قانون اور انصاف کے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ کی طرف سے لا پتہ افراد کی بازیابی کے لئے بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ کچھ لوگ خود کو ہر طرح کے قانون اور اخلاقیات سے بالا تر سمجھ رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے احکامات کی پروا کئے بغیر اُٹھائے گئے افراد کو عدالت میں پیش کرنے کو تیار نہیں۔ یہ صورت حال اداروں کی سخت بدنامی کا باعث بن رہی ہے اور ملک میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا تاثر قائم کر رہی ہے۔کسی ایک شخص یا چند افراد کو قوم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ ملک کے بے حد اہم اداروں کی بدنامی اور قوم کی مجموعی مایوسی کا باعث بنیں۔ یہ صورت حال اداروں کے ٹکراﺅ کا بھی باعث ہے۔ اگر قوم کے محافظ اداروں اور ایجنسیوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے بھی ڈھٹائی کا رویہ اختیار کرنا ہے تو پھر ان سے کس کے احترام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ہوس اقتدار میں گرفتاربعض جنرل ماضی میں قوم کی منتخب پارلیمنٹ کا تقدس پامال کرتے رہے ہیں اور گزشتہ فوجی آمر کی حکومت عدالت عظمیٰ کا تقدس پامال کرنے کی کوشش میں ذلتیں سمیٹ چکی ہے۔

”ایکسپریس“ کراچی کے دفاتر پر افسوسناک حملہ

کراچی میں پیر کی شام دہشت گردوں کے ایک گروپ نے ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر پر بم برسائے اور فائرنگ کی، جس سے سیکیورٹی گارڈ سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ ایکسپریس میڈیا گروپ پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ پہلا تین ماہ 17روز قبل ہوا، جس کے ملزموں کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔

خبر کے مطابق شام سوا سات بجے موٹر سائیکلوں پر سوار دہشت گردوں نے پہلے کے پی ٹی انٹر چینج کے اوپر سے بے دریغ فائرنگ کی اور اس کے بعد دو دستی بم پھینکے اور فرار ہو گئے، اس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر پر اِس حملے کی تمام طبقات فکر کی طرف سے مذمت کی گئی، صحافتی تنظیموں اے پی این ایس، سی پی این ای، پی پی اے اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے زبردست احتجاج کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور میڈیا کے دفاتر کی سیکیورٹی بہتر بنائی جائے۔ یہ زیادہ افسوسناک بات ہے کہ ایکسپریس کے دفاتر کے باہر جو پولیس موبائل حفاظتی انتظامات کے طور پر متعین تھی اُسے چار روز قبل ہٹا لیا گیا تھا۔ یہ انتظامی غفلت اور لاپرواہی کی مثال ہے۔

آج میڈیا کا دور کہلاتا اور پریس آزاد ہے۔ یہ آزادی کسی کی دین نہیں۔ یہ کا رکنوں کی قربانیوں اور طویل صحافتی جدوجہد سے حا صل ہوئی ہے۔ اِس سلسلے میں بیسیوں صحافی شہادت کا درجہ بھی حاصل کر چکے ہوئے ہیں، اس کے باوجود حفاظتی انتظامات کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔

ایکسپریس کے دفاتر پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے اور کیا دہشت گرد ایک آواز کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ ارادہ ہے تو وہ بھول میں ہیں۔ اب میڈیا والے یہ نہیں ہونے دیں گے۔ کراچی پولیس اور انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ غفلت کے مرتکب افراد سے پوچھ گچھ کرے۔ واردات کے ملزموں کوگرفتار کیا جائے اور حفاظتی انتظامات بہتر بنائے جائیں۔

بجلی صارفین کو رعایت!

نیپرا نے بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر وصول کی جانے والی رقم اقساط میں واپس کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر کیا گیا ہے اور جولائی2012ءسے مئی2013ءتک وصول کئے گئے چارجز ماہ بہ ماہ اقساط ہی میں واپس کئے جائیں گے۔ رواں ماہ میں جولائی2012ءکے مجموعی یونٹوں پر ایک روپیہ44پیسے کے حساب سے رقم بل سے منہا کر دی جائے گی اور اِسی طرح بتدریج ایک روپیہ55پیسے،42پیسے، 2روپے 39پیسے فی یونٹ جنوری، فروری اور مارچ کے بلوں میں کم کئے جائیں گے اور اِسی طرح بتدریج 11ماہ میں صارفین کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر43ارب روپے واپس ہوں گے، جو وصول کئے گئے تھے۔ اس کا اطلاق کے ای ایس سی پر نہیں ہوتا کہ یہ کمپنی نجی شعبہ کے پاس ہے۔

حکومت کی ہدایت پر رقوم واپس کرنے کا یہ فیصلہ اچھی نظر سے دیکھا جائے گا اور قابل تعریف ہے۔ آج کے دور میں جب بجلی کے نرخ بڑھا دیئے گئے اور عوام چیخ و پکار کر رہے ہیں، اتنی ریلیف بھی اُن کے لئے سکھ کا سانس لینے کے مترادف ہو گی۔       ٭

مزید : اداریہ


loading...