وزارت تجارت میںتھنک ٹینک کے قیام کا مقصد برآمدات بڑھاناہے

وزارت تجارت میںتھنک ٹینک کے قیام کا مقصد برآمدات بڑھاناہے

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزارتِ تجارت کے زیرِ انتظام تھنک ٹینک کے قیام کا مقصد ملک بھر میں صنعت و تجارت کی ترقی کے لئے راہ ہموار کرنے کے علاوہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعہ نئے دور کے تقاضوں سے نمٹنے کے لئے تجاویز مرتب کرنا ہے تاکہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ بڑھائی جا سکے ۔ GSPپلس کا درجہ ملنے سے عالمی منڈیوں تک رسائی اور ایکسپورٹ کے قوانین میں ملنے والی سہولیات سے پاکستان فائدہ اُٹھا سکے۔ اس سے ملکی معیشت بھی بہتر ہوگی اور ورکرز کو روزگار بھی ملے گا۔حکومت کی کوشش ہے کہ بالخصوص ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو مسائل کے گرداب سے نکالا جائے تاکہ ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی ایکسپورٹ میں مزید اضافہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر پاکستان انسٹیٹیو ٹ آف ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ منسٹری آف کامرس کے ڈائریکٹر سید کوثر علی زیدی نے اپٹپما ہاﺅس میں آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسینگ ملز ایسوسی ایشن کے ارکان سے خطاب کے دوران کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اپٹپما کی جانب سے جن اُمور پر توجہ دلائی گئی ہے انہیں ممکن حد تک حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انرجی جیسے بعض مسائل ایسے ہیں جو موجودہ حکومت کو ورثہ میں ملے ، ان کے حل کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے

، انرجی بُحران کے خاتمہ کے لئے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کے لئے منصوبے شروع ہو چُکے ہیں۔ ایل این جی کی درآمد شروع ہونے پر سوئی گیس بُحران میں کمی ہو جائے گی۔ جہاں تک ایران سے گیس سپلائی کا تعلق ہے تو یہ معاملہ امریکہ کی وجہ سے کھٹائی میں پڑا دکھائی دیتا ہے۔ ڈائریکٹر (PITAD) نے گیس کے متبادل کوئلہ کے کثیر استعمال پر اسے بڑی تعداد میں زیرو ڈیوٹی کے ساتھ امپورٹ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی اور کہا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری سیلز ٹیکس مینو فیکچرنگ کی نوعیت پر ادا کرے گی جبکہ پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے اس انڈسٹری کو سروسز پر سیلز ٹیکس کے لئے نوٹس جاری کرنا سراسر غلط ہے۔ قبل ازیں اپٹپما کے قائمقام ریجنل چئیرمین میاں آفتاب احمد نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ پچھلی دہائی میں پاکستان کی کُل ایکسپورٹ کا 70فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل تھا ، انرجی بُحران کی وجہ سے وہ کم ہو کر 40فیصد رہ گیا ہے ، حکومتی ترغیب پر ٹیکسٹائل پروسیسنگ کے شعبہ میں صنعتکاروں نے جدید مشینری لگائی اور ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کی مشینری خاص گیس پر ہی ڈیزائن ہے جس کی ساخت کو پاکستان میں تبدیل کرنا ناممکن ہے۔ اب کچھ سالوں سے گیس بُحران شروع ہوا تو یہ مشینری بھی ناکارہ ہو رہی ہے، ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کے لئے گیس لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیرِ پٹرولیم کی جانب سے حالیہ دسمبر تا فروری تین ماہ کے لئے گیس بند ش کے اعلان نے صنعتکاروں کا دن کا سکون اور رات کی نیندیں چُرا لی ہیں، کیونکہ یورپی ممالک میں کرسمس کے لئے جو آرڈرز موجود ہیں ان کی سپلائی بروقت نہیں ہو سکے گی، ٹیکسٹائل کے شعبہ کو ترقی کے لئے حوصلہ افزاءاقدامات کی بجائے حکومت کی جانب سے حوصلہ شکن رویہ قابلِ افسوس ہے ۔ ہائیڈروکلورک ایسڈ جیسے کیمیکل پر پابندی نے مزید مسائل کھڑے کر دئیے ہیں، کیونکہ یہ کیمیکل پروسیسنگ انڈسٹری میں بکثرت استعمال ہوتا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے حکومت خود ہی ملکی انڈسٹری کو تباہ کر نا چاہتی ہو، مگر یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ صنعتی شعبہ ترقی کرے گا تو ملک ترقی کرے گا۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب اگر ملک سے مینوفیکچرنگ ختم کر دی گئی تو پاکستان صرف ٹریڈ کنٹری کی صف میں شامل ہو کر ایک بار پھر وہی کھڑا ہو گا جہاں قیام کے وقت تھا۔ میاں آفتاب احمد نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں PITAD کے ڈائریکٹر کو ٹیکسٹائل پروسیسنگ کے شعبہ کو درپیش مذکورہ مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا۔

مزید : کامرس


loading...