پولینڈ نے سی آئی اے سے تعاون کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ، یورپی عدالت

پولینڈ نے سی آئی اے سے تعاون کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ، یورپی عدالت

برسلز(آن لائن)انسانی حقوق سے متعلق یورپی عدالت نے یورپی یونین کے ایک رکن ملک پولینڈ کی حدود میں سی آئی اے کی طرف سے القاعدہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر پولینڈ کے خاموش رہنے اور بعد ازاں پولینڈ کی حدود سے القاعدہ ارکان کو گوانتانامو بے لے جانے کے حوالے سے مقدمے کی سما عت شرو ع کر دی ۔یورپی یونین کی اس عدالت برائَے انسانی حقوق کے سامنے یہ سوال یہ اٹھا یا جا رہا ہے کہ'' آیا سی آئی اے کو کھلی چھٹی دینے سے پولینڈ کی جانب سے یورپ کے انسانی حقوق کنونشن کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی ہے؟ اس سلسلے میں امکانی طور پر القاعدہ کے رکن 42 سالہ ابو زبیدہ اور سعودی شہری و القاعدہ کے رکن 48 سالہ عبدالرحیم النشیری کے وکلاءانسانی حقوق کی یورپی عدالت کے سامنے یورپی انسانی حقوق کنونشن کی خلاف ورزیوں کی تفصیل پیش کریں گے۔

القاعدہ کے مذکورہ دونوں ارکان کے دائر کردہ مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولینڈ کی حکومت نے سی آئی اے کو یہ اختیار دیا کہ پولینڈ کی حدود کو تشدد کیلیے استعمال کرے۔ جس کے نتیجے میں سنہ 2002 اور سنہ 2003 کے درمیان ابو زبیدہ کو پاکستان سے پولینڈ لاکر بار بار تشدد کانشانہ بنایا گیا، اس دوران ابوزبیدہ کو واٹر بورڈنگ کے غیر انسانی تشدد سے بھی گذارا گیا۔بعد ازاں سنہ 2003 میں پولینڈ کی حکوت نے سی آئی اے کو ان دونوں افراد کو بدنام زمانہ تشدد کے امریکی مرکز گوانتا نامو بے لے جانے کی اجازت دی۔ جہاں انہیں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ غیر انسانی ماحول کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ دس سال کے قریب عرصہ تک انہیں کسی عدالت میں پیش بھی نہیں کیا گیا۔القاعدہ ارکان کے وکلا ئاس لیے پولینڈ حکومت کو یورپی انسانی حقوق کنونشن کی خلاف ورزی کی مرتکب ہونے پر سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ ان الزامات کے حوالے سے عدالت برائے انسانی حقوق پولینڈ حکومت سے پوچھے گی کہ آیا اپنی حدود میں اس نے سی آئی اے کو کھلی چھٹی دیے رکھی۔واضح رہے سٹراس برگ میں قائم انسانی حقوق کی اس عدالت کو متوقع طور پر کئی ماہ کا عرصہ درکار ہو گا۔دوسری جانب پولینڈ نے اپنے ہاں سی آئی اے کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کیلیے 2008 میں کام شروع کیا تھا لیکن یہ کام ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس صورتحال پر اقوام متحدہ کی تشدد مخالف باڈی نے مذمت بھی کی ہے۔

مزید : کامرس


loading...