جامعہ پنجاب کا عذاب

جامعہ پنجاب کا عذاب
 جامعہ پنجاب کا عذاب

  


پنجاب یونیورسٹی .... میری مادر علمی.... جنوبی ایشیاءکی عظیم درس گاہ.... اک چھوٹے موٹے عذاب سے ہی تو دوچار ہے۔ اک طرف اساتذہ ہیں تو دوسری طرف طالب علموں کی ایک تنظیم۔ اساتذہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی اسی طرح چلے جس طرح دنیا بھر میں جامعات کو ان کی انتظامیہ چلاتی ہے اور طلبا تنظیم چاہتی ہے کہ عظیم ” نظریاتی“ مقاصد کی خاطران کا ہولڈ پوری طرح برقرار رہے۔ یہ جنگ شروع ہوئے اب تو عشرے ہونے کو آئے، مگر مجھے سب سے زیادہ دُکھ اس وقت ہوا جب زبانی کلامی گفتگو ہی نہیں، بلکہ سوشل کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اساتذہ پر شرم ناک الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی تذلیل شروع کر دی گئی۔ ان الزامات سے اندازہ ہوا کہ لفظ ”شرم ناک “اصل میں ہوتا کیا ہے، میں نے تو یہی جانا ہے کہ وہ جن نظریات کی بات کرتے ہیں ، ان نظریات کو دینے والے ہادی برحق نبی پاکﷺ نے فرمایا تھا کہ اساتذہ تمہارے والدین ہیں۔ کیا ہم اپنے والدین بارے ایسی باتیں کر سکتے ہیں؟

بات کو الجھایا جا رہا ہے، سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنی ذیلی تنظیموں کے ذریعے تعلیمی اداروں پر قبضوں کی روایت ماضی میں بھی تھی اور بدقسمتی سے چند سیاسی جماعتوں کی طرف سے آج بھی موجود ہے، مگر مَیں نے تویہی دیکھا ہے کہ مائیں ، اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لئے، کسی کو ڈاکٹر اور کسی کو انجینئر بنانے کے خواب کے ساتھ بھیجتی ہیں اور وہاں انہیں جمہوریت، آزادی اور اسلام کے نام پر کوئی انقلاب برپا کرنے کے لئے نہیں، سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیموں میں دوطرح کے نوجوانوں کی اکثریت شامل ہوتی ہے، ایک وہ جن کے گھر بہت دانے ہوتے ہیں، وہ گھر سے پڑھنے نہیں، بلکہ موج مستی کرنے آتے ہیں۔ چودھریوں کے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھی چودھراہٹ ہی درکار ہوتی ہے، لہٰذا اس کا سب سے بہترین شارٹ کٹ طلبا تنظیم ہی ہوتی ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ سرخ انقلاب کی بات کر رہی ہے یا سبز انقلاب کی۔ انہوں نے کیٹین سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ تک اپنی جاگیرداری قائم کرنا ہوتی ہے اور وہ کر لیتے ہیں۔ دوسری قسم ان بچوںکی ہوتی ہے، جن کے گھر میں کھانے کے لئے دانے بالکل ہی نہیں ہوتے، ایم اے او کالج میں طلبا سیاست کے عروج کے دنوں میں ایک پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ جب وہ کالج کے بڑے بڑے رہنماﺅں کے مقدمات میں ملوث ہونے کے بعد ان کے گھر چھاپہ مارنے جاتے ہیں تو ان کا دل کرتا ہے کہ ان کے ماں باپ کی کچھ مالی امداد کر کے واپس آئیں۔ ان کی طرف سے طلبا سیاست میں داخل ہونے کی وجہ نفسیاتی بھی ہوتی ہے۔ وہ اس معاشرے سے بغاوت کرنا چاہتے ہیں جن نے انہیں سکول ایج تک تومعاشی طورپر دبا کے رکھا، مگر کالج میں جوان خون کچھ کرنے کے لئے کھولتا ہے۔

مجھے افسوس تو اس بات پر ہوا کہ جھگڑا تو لاءکالج کی اس کینٹین کا تھا، جس کا ٹھیکیدار مختلف بلوں کی مد میں ایک لاکھ روپے کے قریب رقم کا ڈیفالٹر ہو چکا، اسے طلبا تنظیم کے عہدے داروں کی سپورٹ حاصل تھی۔ ٹھیکے دار کو بے دخل کیا گیا، تو کینٹین کمیٹی میں شامل پروفیسروں پر ہلہ بول دیا گیا، وہاں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کا پہلے رخ موڑا گیا اور اس کے بعد انہیں اتار ہی لیا گیا، مزید کام پکا کرنے کے لئے کنٹرول روم پر بھی حملہ ہوا اور جب ایشو ہائی لائٹ ہوا تو کہا گیا کہ اساتذہ کرام شام کے وقت وہاںلڑکیوں کے ساتھ موجود تھے اور لڑکے انہیں روکنے کے لئے گئے تھے ۔جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر کے خلاف بھی ایک کیس بہت شد و مد کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے، جس میں خجستہ نامی ایک خاتون ان کے خلاف عدالت میں چلی گئی۔ مَیں نے اس ایشو پر بہت زیادہ خبریں دیکھی ہیں اور سمجھتا ہوں کہ جنسی طور پر صرف خواتین ہی ہراساں نہیں ہوتیں، بلکہ بہت ساری جگہوں پر اس الزام کے ذریعے بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ یہی ہمارا معاشرہ ہے، جس میں کسی کو بھی کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ بات بہت حساس ہے، لہٰذا اس کو یہیں رہنے دیں، فرشتے تو وہ بھی نہیں جوجامعہ پنجاب میں کسی کینٹین ، کسی پارک، کسی لابی میں بیٹھ کر ”گناہ“ کرنے والوں کو پکڑ لیتے ہیں، لڑکوں کو مارا پیٹا جاتا ہے اور لڑکیوں کو وہ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یوں بھی جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ایک اضافی صنف ہے۔ اگر آپ کسی کی شخصیت سے متاثر اوراس کی طرف سے کی جانے والی پیش کش سے متفق ہیں تویہی حرکت محبت کے اعلیٰ ترین جذبے سے تعبیر ہو گی اور اگر نہیں، تو یہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سیدھا سادہ مقدمہ بنتا ہے۔

بات تو حضرت علی ؓ کے نام سے منسوب16 نمبر ہاسٹل کی تھی، جو طلبہ تنظیم کا ”دارالحکومت“ تھا۔ انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ جامعہ میںطالبات کی تعداد، طلباءکے مقابلے میں، بڑھتی چلی جا رہی ہے، مگر 26میںسے 16 ہاسٹلزلڑکوں کے ہیں جبکہ صرف دس لڑکیوں کے لئے مختص تھے۔ لڑکیاں کو ریڈورز اور ہالز میں بستر لگانے پر مجبور تھیں، ایسے میں ہال کونسل نے فیصلہ کیا کہ ایک ہاسٹل کے لڑکوں کو باقی ہاسٹلز میں شفٹ کر دیا جائے، جہاں پہلے ہی خالی جگہ موجود تھی۔ چئیرمین ہال کونسل کے مطابق تمام قانونی الاٹیز منتقل ہو گئے تو ان بائیس لوگوں نے ہنگامہ شروع کر دیا، جو وائس چانسلر کے مطابق نہ تو یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور نہ ہی ان کے پاس ہاسٹل کی الاٹمنٹ تھی۔ ایجوکیشن رپورٹرز کے مطابق ہنگامے شروع ہوئے تو پھر ان تعلیمی اداروں تک پھیل گئے جہاں اسلامی جمعیت طلبہ موجود ہے، سائنس کالج وحدت روڈ کے باہر بس جلاد ی گئی، کیمپس پل پر پبلک ٹرانسپورٹ ہی نہیں نجی گاڑیوں کے مالکان سے چابیاں چھین لی گئیں۔

احتجاج کرنے والے کہتے ہیں کہ جامعہ پنجاب بدانتظامی کا شکارہے، یہاں ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کی کمی ہے، جس کی وجہ سے ایک طالبہ چند روز قبل بس تلے کچلی گئی۔ میرے استفسار پر بتایا گیا کہ جامعہ کے پاس 60 کے قریب بسیں ہیں، اتنی بسیں تو کسی بھی تعلیمی ادارے کے پاس نہیں اور ہرسال ان میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ کہا گیا کہ جامعہ کی زمین پر شادی ہال قائم کر دیئے گئے، جواب میں علم ہوا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے گرانٹ میں کٹوتی کے بعد جامعہ کے انتظامات چلانے کے لئے فنڈز کی اشد ضرورت تھی، اب جامعہ طالب علموں سے پانچ کروڑ فیس لیتی ہے ،تو چھ کروڑ روپے کے سکالرشپ دے کر ان غریب طالب علموں کی امداد بھی کرتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ہاسٹلز کم ہیں اورنئے نہیں بنے، جواب ملا کہ دو تو ابھی حال ہی میں بنے ہیں اور یوں بھی 26 ہاسٹلز لاہور میں کسی بھی اور تعلیمی ادارے کے پاس نہیں، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پاس صرف تین ہاسٹلز ہیں، مگر وہاں کے طالب علم تو کبھی احتجاج نہیں کرتے اور اصل بات بھی یہی ہے کہ جن بچوں کے والدین انہیں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں وہ اس قسم کی سرگرمیوں میں کبھی ملوث بھی نہیں ہوتے۔ بالعموم یہی لالی پاپ دیا جاتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اگر طلبہ تنظیموں کے انتخابات نہیں کروائے جائیں گے تو وہاں سے قومی سیاست پر پڑھی لکھی قیادت کیسے سامنے آئے گی۔

دلائل میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے انگلیوں پر گنے جاسکنے والے رہنماﺅں کے نام بھی لے لئے جاتے ہیں، مگر کیا ان نوجوانوں کی تعداد بارے کسی نے جاننے کی کوشش کی، جو ان طلبا تنظیموں کے ہتھے چڑھ کے نہ صرف اپنی تعلیم کو مکمل نہیں کرسکے بلکہ ایسے نام بھی سینکڑوں ، ہزاروںمیں ہوں گے، جو جرائم کی دنیا کے باسی ہو گئے۔

جامعہ پنجاب ہمارا فخر ،ہمارا غرور ہے، اس کے نام کو محض سیاسی مقاصد کے لئے بٹہ نہیں لگایا جا نا چاہئے، سیاسی قائدین کو اپنی سیاست پر اتنا بھروسہ توہونا چاہئے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لئے آنے والے نوجوانوں کے ذہنوں کو مسمرائز کئے بغیرعوام کو اپنا ہم نوا بنا سکیں۔ آپ لاہور کے تعلیمی اداروں کو ہی دیکھ لیں،جی سی یواور ایف سی سے ایم اے او کالج تک جن اداروں میں اس وقت طلباسیاست کی بجائے صرف علمی سرگرمیاں ہوتی ہیں وہاں تعلیمی ریکارڈ بہتر سے بہترہوتا چلا جا رہا ہے ، رہ گئی بات جامعہ پنجاب کی، اس کے انتظامی فیصلے کسی طلبہ تنظیم کے حوالے کرنے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

مزید : کالم


loading...