پیرا میڈیکس ملازمین کی درینہ مطالبات کے حل کےلئے احتجاجی ریلی

پیرا میڈیکس ملازمین کی درینہ مطالبات کے حل کےلئے احتجاجی ریلی

لاہور(جنرل رپورٹر)پنجاب پیرامیڈیکس الائنس نے پیرا میڈیکس ملازمین کے درینہ مطالبات کے حل کےلئے PICکے سامنے احتجاجی ریلی اورمظاہرہ کیا۔احتجاجی ریلی کی قیادت صوبائی چیئرمین ملک منیر احمد نے کی۔ احتجاجی ریلی میں ضلع لاہور کے چیئرمین میاں خالد محمود ، ضلعی صدر عاشق غوث، ضلعی چیف آرگنائزر طلعت سجاد، ضلعی آرگنائزر / ترجمان شعیب انور چوہدری، ضلعی سیکرٹری جنرل احمد خان بلوچ، ضلعی فنانس سیکرٹری ساجد علی، ضلعی وائس چیئرمین قاری ارشاد الرحمٰن ، ضلعی نائب صدر عاشق گجر، PICکے صدر حافظ دلاور، سیکرٹری جنرل حافظ اکمل، سر گنگا رام ہسپتال کے آرگنائزر سید وسیم الحسن ، انفارمیشن سیکرٹری عباس احمد، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری فیصل جٹ، مینٹل ہسپتال کے آباد رمضان و دیگر PIC،سر گنگا رام ہسپتال ، مینٹل ہسپتال کے کثیر تعداد میں پیرا میڈیکس ملازمین گریڈ 1-17نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔ ریلی کے شرکا ءسے خطاب کرتے ہوئے صوبائی چیئرمین ملک منیر احمد کا کہنا تھا کہ PPAپنجاب بارہا دفعہ پیرا میڈیکس ملازمین کے درینہ مطالبات کےلئے احتجاج اوردھرنے دے چکی ہے۔ لیکن ابھی تک ان ملازمین کے مسائل جوں کے توں ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے 10جون 2012ءکے مینار پاکستان کیمپ آفس میں کیے گئے وعدے کے باوجود ابھی تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی اے لاہور کے ترجمان شعیب انور چوہدری نے کہا کہ بے حسی کی انتہا ہے کہ بیوروکریسی اور حکومت وقت ہسپتالوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ملازمین کو سڑکوں پر آنے کےلئے مجبور کررہے ہیں۔ ہمارے مطالبات بورڈ آف مینجمنٹ، ڈیلی ویجز، ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کے فی الفور مستقلی، درجہ چہارم کا سروس سٹرکچر، فی الفور منظور کرکے جاری کیا جائے، گریڈ 5-17کے ملازمین کےلئے رسک الاﺅنس جاری کیا جائے، اورگریڈ 5-17کاپہلے سے منظور شدہ 4درجاتی سروس سٹرکچر پورے پنجاب میں مکمل نافذ العمل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیرا میڈیکس کونسل کا قیام یقینی بنایا جائے اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکس ملازمین گریڈ 1-17سے غیر امتیازی سلوک بند کیا جائے۔ یہ سب مسائل جب تک حل نہیں ہوتے تب تک PPAپنجاب اپنا احتجاج جاری رکھے گا۔ اب ہم کمیٹیوں اور میٹینگوں کے چکروں میں نہیں آئے گے جب تک ان مطالبات کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتے، تب تک ہمارے احتجاجی سلسلے جاری رہیں گے۔ ہم حکومت وقت اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں ورنہ یہ احتجاج پورے صوبہ بھر میں پھیل جائے گا، اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد ملازمین سڑکوں پر ہوں گے۔ ہم مریضوں کو تکلیف دینا نہیں چاہتے، لیکن حکومتی نمائندے ہمیں مجبور کررہے ہیں کہ ہم غریب مریضوں کی خدمت کو چھوڑ کر احتجاج کا راستہ اپنائیں۔حکومت پنجاب کو چاہیے کہ مریضوں کو بلاتعطل اور احسن طریقے سے علاج معالجے کی سہولت پہنچانے کےلئے جن لوگوں کا کردار سب سے اہم ہے ان کے مسائل جلد ازجلد حل کریں۔

احتجاجی ریلی

مزید : کلچر


loading...