انوسٹی گیشن پولیس پنجاب 12ہزار مقدمات کا کوئی فیصلہ نہ کر سکی

انوسٹی گیشن پولیس پنجاب 12ہزار مقدمات کا کوئی فیصلہ نہ کر سکی

لاہور(زاہد علی خان) انوسٹی گیشن پولیس پنجاب 12ہزار مقدمات کا کوئی فیصلہ نہ کر سکی ، یہ کیس گزشتہ کئی سالوں سے زیر التوا پڑے ہیں اور اس کا فیصلہ نہ کیا جا سکا۔ ان مقدمات میں قتل، ڈکیتی قتل، اغواءبرائے تاوان اور اقدام قتل سمیت و دیگر مقدمات سرفہرست ہیں۔ یہ مقدمات تھانوں اور دیگر افسران کی ناقص تفتیش کے بعد آئی جی نے آخری تفتیش کے طور پر انوسٹی گیشن برانچ میں بھجوائے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران انوسٹی گیشن برانچ پنجاب کے افسران معطل، تبادلوں کی زد میں رہے۔نگران دور میں ایک درجن سے زائد اعلیٰ پولیس افسران کو تبدیل کر دیا گیا۔ جبکہ ماتحت افسران کے پے در پے تبادلوں کی وجہ سے بھی مقدمات کی تفتیش مکمل نہ ہو سکیں پورے پنجاب سے آنے والے مقدمات کی انوسٹی گیشن برانچ کے ایڈیشنل آئی جی کے روبرو پیش ہوئے اور دیگر افسران تک گواہ لانے کے لئے مدعی اور ملزم پارٹی بھی افسران کے دفاتر کے چکر لگاتے رہے۔ مگر ان کے مقدمات پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے، ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس امر کا نوٹس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ صرف اہم نوعیت کے مقدمات انوسٹی گیشن برانچ میں بھجوائے جائیں، انہوں نے آئی جی پولیس سے کہا کہ خود نگرانی کر کے مقدمات کو مقررہ مدت تک کے اندر اندر مکمل کیا جائے، لوگوں کی تکالیف کا خیال رکھا جائے۔

12ہزار مقدمات

مزید : صفحہ آخر


loading...