کالجز میں ضلعی انتظامیہ کی براہِ راست مداخلت سے تعلیمی عمل تعطل کا شکار ہوگا،زاہد شیخ

کالجز میں ضلعی انتظامیہ کی براہِ راست مداخلت سے تعلیمی عمل تعطل کا شکار ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر زاہد شیخ، سیکرٹری جنرل سید تنویرشاہ اور سینئر نائب صدر حنیف عباسی اور خاتون مرکزی نائب صدر آمنہ منٹو نے ضلع سیالکوٹ کے گرلز کالج اور بوائز کالجز میں ضلع انتظامیہ کی بے جا مداخلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے تعلیمی امن کو تباہ کرنے کی سازش قرار دیا ہے ۔ مرکز ی صدر ڈاکٹر زاہد شیخ نے کہا ہے کہ ہم پنجاب حکومت کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کوششوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کو باوقار بنانے کے لیے ایسوسی ایشن کی طرف سے کوڈ آف ایتھکس حکومت کو دے چکے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کالج ایجوکیشن کو واچ کرنے کے لیے ضلع سطح پر ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ، ڈویژنل سطح پر ڈویژنل ڈائریکٹر کالجزاورپنجاب کی سطح پر ڈی پی آئی کالجز اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب کا چار سطحی نظام موجود ہے ۔ ان سب کی موجودگی میں ضلعی انتظامیہ کی براہِ راست مداخلت سے تعلیمی عمل تعطل کا شکار ہوگا اور اساتذہ میں بددلی پھیلے گی ۔انہوں نے کہا کہ سخت سردی کے موسم میں عموماً اساتذہ سیدھے کلاسز میں چلے جاتے ہیں اور بعد میں حاضری لگالیتے ہیں ۔ اساتذہ کلاسز میں موجود تھے جس کی تصدیق تمام پرنسپلز بھی کر چکے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ضلعی افسر کی طرف سے بغیر کسی تعلیمی آفیسر کے محض رجسٹر حاضری کی بنیاد پر اساتذہ کو غیر حاضر قرار دے کر ان کا میڈیا ٹرائل کرنا اساتذہ کی توہین کے مترادف ہے جس سے بھرپور اور پر امن تعلیمی سیشن تعطل کا شکار ہوجائیگا۔ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنماﺅں نے سیکرٹری ہائرایجوکیشن پنجاب سے درخواست کی ہے کہ وہ خود معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیکر اور پرنسپلز اور اساتذہ کا مو¿قف سن کر تعلیمی امن کو خراب ہونے سے بچائیں۔

زاہد شیخ

مزید : صفحہ آخر


loading...