مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی - ضابطہ اخلاق تیار!

مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی - ضابطہ اخلاق تیار!

 تجزیہ : چودھری خادم حسین

جوبلی ہے، جیسے بھی ہوا، بہرحال ایک مثبت قدم ہے کہ صوبائی حکومت کے ایماءپر اہل سنت و الجماعت کے دونوں مسالک، اہل تشیع اور اہل حدیث کے علماءکرام پھر سے نونکاتی ضابطہ اخلاق پر متفق ہو گئے ہیں، جس کا مقصد ملک میں فرقہ واریت کو روکنا اور آپس میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی ہوتا چلا آیا ہے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ جب بھی ہمارے یہ مذہبی اور دینی قائدین کسی ایک فورم پر اکٹھے ہوتے ہیں تو آپس میں زبردست قسم کی یکجہتی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن عملی صورت یہ ہے کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں مقررین متفق نہیں ہوتے اور کہیں نہ کہیں روگردانی ہو جاتی ہے، بہرحا ل صوبائی وزیر اوقاف اور مذہبی امور میاں عطا مانیکا کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں جس نو نکاتی ضابطہ اخلاق پر اتفاق ہوا اس کے مطابق لاﺅڈ سپیکر کے استعمال کے حوالے سے لاﺅڈ پیکر آر ڈی ننس پر مکمل عمل ہو گا، اذان اور جمعتہ المبارک کے عربی خطبہ کے سوا اور کسی مقصد کے لئے لاﺅڈ سپیکر استعمال نہیں ہو گا۔

یہ لاﺅڈ سپیکر جسے ماضی میں حرام قرار دیا جاتا رہا آج کل فتنہ و فساد کی وجہ بنا ہوا ہے کہ اس پر ہونے والی متنازعہ تقریریں تنازعہ کا باعث بن جاتی ہیں، اب اس پر مکمل عملی فائدہ دے گا۔ باقی نکات میں تمام صحابہ و آئمہ اور اکابرین کا احترام شامل کیا گیا جبکہ اسلحہ کی نمائش کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ نو نکاتی ضابطہ اخلاق اسی اصول کے تحت مرتب کیا گیا کہ ”اپنا مسلک چھوڑو نہ اور کسی کے مسلک کو چھیڑو نہ“

مولانا طاہر اشرفی نے اس ضابطہ اخلاق کے حوالے سے یہ بتا کر مزید اطمینان دلایا کہ اس حوالے سے ضابطہ اخلاق کے مطابق قانون سازی بھی تجویز کی گئی ہے ، یہ ایک اچھا قدم ہے، ایک ایسے دور میں جب ”نامعلوم دشمن“ کی طرف سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، علماءکرام کا فساد سے لاتعلق ہونا اور احترام باہم پر رضا مند ہوناہی بڑی بات ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مولانا طاہر اشرفی ہمت کریں اور جمعیت علماءپاکستان، جماعت اہل سنت، جمعیت اور جماعت اہل حدیث اور مجلس وحدت المسلمین کے علاوہ تمام مسالک کی مستند اور نمائندہ تنظیموں کو بھی اعتماد میں لینے کا اہتمام کرائیں اور جو مرکزی درسگاہیں ہیں ان کی طرف سے تمام پیرو کار حضرات کو یہ پیغام دیا جائے کہ اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہو گا۔

جہاں تک زبان سے تلوار کا کام لینے کا معاملہ ہے وہ تو اس طرح نمٹ ہی جائے گا لیکن بڑا سوال متنازعہ لٹریچر کا بھی ہے اگرچہ ضابطہ اخلاق میں ایسی تحریروں پر بھی پابندی کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اصل حل یہ ہے کہ لوگ رضاکارانہ طور پر توہین آمیز اور متنازعہ لٹریچر کو شائع کر دیں اور پھر بھی اگر کوئی ارتکاب کرے تو اس کی نشاندہی کر دی جائے کہ ہمارا ملک ایسی ”جنگ“ کا متحمل نہیں ہو سکتا اس سلسلے میں ایک بار اکابرین ملک کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بلوچستان، کراچی، رحیم یار خان، مظفر گڑھ، گلگت اور حال ہی میں راولپنڈی میں ہونے والے سانحات کے حوالے سے تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کیا اور فرقہ واریت کے زہر سے گریز ہی کیا، یہ جذبہ کار فرما رہے تو کوئی شرارت تفرقہ پیدا نہیں کر سکتی ویسے تو ماضی میں مجلس عمل اور قومی یکجہتی کونسل جیسی تنظیموں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور آج ملک اس بلا سے محفوظ ہے مستقبل کے لئے ایسے ہی بالغ نظر فیصلوں کی ضرورت ہے۔

یہ تو مذہبی اور دینی افکار و خیالات والے رہبروں کا عمل ہے۔ آج کل جن حالات سے گذر رہا ہے۔ ان میں تو سیاسی ہم آہنگی کی بھی بہت ضرورت ہے۔ جتنے بھی اہم قومی فیصلے ہیں ان کے لئے تمام طبقات فکر کی حمایت اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بہتر عمل یہ ہے کہ مسلسل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور اگر کوئی اہم جماعت اتفاقاً پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں رکھتی تو اسے بھی ساتھ لیا جائے تاکہ مکمل یکجہتی کی فضا پیدا ہو۔

آج ہم خود بھی اپنے ہم پیشہ حضرات سے مکمل یکجہتی اور یگانگت کا اظہار کرتے ہیں، کراچی میں ایکسپریس یڈیا گروپ کے دفاتر پر فائرنگ اور بمبوں سے حملہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے زیادہ کرب والی بات یہ ہے کہ حملہ کے بارے میں دوسرے ہم عصر میڈیا والوں نے خبر نشر اور شائع کرنے سے اجتناب کیا ہے، یہ کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔ پیشہ صحافت سے تعلق رکھنے والی تمام تنظیمیں اگر وقوعہ کی مذمت کر سکتی ہیں تو خبر نشر کرنے اور شائع کرنے میں کون سا امر مانع تھا، یہ پرانی روش ہے کہ میڈیا والے خود اپنے سے زیادتی کرتے ہیں۔ ملک گیر پیمانے پر مذمت اور احتجاج بے معنی ہو جاتا ہے اگر کسی ایک ادارے پر حملہ ہو اور دوسرے اس کے لئے خبر سے اجتناب برتیں،اس سلسلے میں بھرپور احتجاج اور عملی یکجہتی کا مظاہرہ ضروری ہے۔ پاکستا ن فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ ساتھ اداروں کی بہبود کے لئے کام کیا اور اب بھی احتجاج کیا جا رہا ہے، اے پی این ایس اور سی این پی ای کے علاوہ پی پی اے نے بھی مذمت اور احتجاج کیا لیکن مظاہرے کی سعادت تو پی ایف یو جے ہی کو حاصل ہوئی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...