ایل پی جی کوٹہ کیس: سپریم کورٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور جے جے وی ایل کے درمیان معاہدہ کالعدم قراردیدیا، ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم

ایل پی جی کوٹہ کیس: سپریم کورٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور جے جے وی ایل کے ...
ایل پی جی کوٹہ کیس: سپریم کورٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور جے جے وی ایل کے درمیان معاہدہ کالعدم قراردیدیا، ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ایل پی جی کوٹہ کیس کا 22اکتوبرکو محفوظ کیاگیافیصلہ سنادیاہے اور سوئی سدرن گیس کمپنی اور جے جے وی ایل کے درمیان ہونیوالا معاہدہ غیرقانونی قراردیتے ہوئے شروع دن سے کالعدم قراردے دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں معاہدے کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ جے جے وی ایل کو خزانے سے غیرقانونی طورپر مالی فائدہ پہنچایاگیا، ایف آئی اے تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنماءاور موجودہ وزیرپانی وبجلی خواجہ آصف نے جامشوروجوائنٹ وینچر لمیٹڈ سے معاہدے کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے 22اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں قراردیاہے کہ معاہدہ غیرشفاف اور غیرقانونی ہے ، 18مئی 2003ءسے کالعدم قراردیاجاتاہے ۔ عدالت عظمیٰ نے تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جے جے وی ایل اور فائدہ اُٹھانے والوں سے قومی خزانہ کو ہونیوالانقصان وصول کیاجائے اور تحقیقات کی رپورٹ 30دن میں پیش کریں ۔ٹی وی رپورٹ کے مطابق معاہدے سے فائدہ اُٹھانیوالوں میں اعتزازاحسن کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز کا نام بھی سامنے آیاتھا۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایاکہ معاہدے میں نامی گرامی سیاستدان اور جنریل شامل ہیں ، معاہدے سے قومی خزانے کواربوں روپے کا نقصان ہوا۔اُن کاکہناتھاکہ کمپنی میں نمایاں کردار اقبال زیڈ کاہے ، مشرف دور سے بہت سے لوگوں کے مفادات وابستہ تھے اور آج سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے معاہدہ کالعدم قراردیا۔

مزید : بزنس /اہم خبریں


loading...