تھر میں تھر تھر کانپتے لوگ

تھر میں تھر تھر کانپتے لوگ
تھر میں تھر تھر کانپتے لوگ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

صحرائے تھر جہاں کبھی مور ناچتے تھے اب وہیں موت کا رقص پورے تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ تھر کے باسیوں کی طویل سے طویل تر ہوتی داستان الم کا اندازہ یہیں سے لگائیں کہ گزشتہ ایک سال میں غذائی قلت، مختلف بیماریوں،علاج معالجہ کی ناکافی سہولیات کے باعث500 سے زائد بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں، جبکہ صرف دو ماہ میں یہ تعداد سو سے تجاوز کر چکی ہے اور ان سطور کی اشاعت تک نجانے کہاں تک پہنچ جائے گی، خدا خیرکرے بات صرف بچوں کی حد تک نہیں ایک طرف تو تھر کے باسی قحط زدہ زندگی کے سامنے مکمل بے بس ہو کر تھر تھر کانپ رہے ہیں اور دوسری طرف ہماری اجتماعی بے حسی کمال عروج پر پہنچ چکی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سسک سک کر زندگی کی بھیک مانگنے والے ان بیچاروں کے سامنے ہم وہ سماجی جانور ہیں،جو انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں،جنہیں نہ کچھ سنائی دیتا ہے نہ دکھائی۔
یہاں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا وطن عزیز میں خدانخواستہ غذائی قلت ہے؟ کیا ہمارے ہاں علاج کی سہولیات کی کمی ہے؟کیا ہمارے پاس ماہر ڈاکٹرز نہیں؟ کیا تھر کسی ایسی جگہ پر ہے، جہاں تک رسائی ممکن نہیں؟کیا ہم وسائل کی کمی کا شکار ہیں؟اگر ان تمام باتوں کا جواب نفی میں ہے تو کیا وجہ ہے کہ آئے روز اتنے افراد لقم�ۂ اجل بن رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر مناسب اقدامات اٹھائے جائیں تو ان حالات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے، لیکن افسوس کہ سندھ میں اقتدار کی مسند پر بیٹھی حکمران جماعت اسے بلیم گیم کا نام دے کر جان چھڑا رہی ہے، بلکہ ’’سائیں‘‘ تویہاں تک کہتے ہیں کہ تھر میں پہلے بھی بچے مرتے تھے یہ کوئی نیا کام نہیں اب میڈیا آزاد ہے تو خبریں آرہی ہیں صرف میٹھے پانی کی کمی ہے تو سائیں جی وہی بندوبست کر دیں مخلوق خدا دعائیں دے گی۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو وہ قیامت کے دن جواب دہ ہوں گے، لیکن یہاں تو جیتے جاگتے انسان مر رہے ہیں ان کا جواب اس عدالت میں کون دے گا، جس میں بلاشبہ پورا پورا انصاف ہو گا۔
قارئین لگ بھگ 20ہزار مربع میل اور 15لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل تھر کا وجود دنیا بھر کے صحراؤں سے الگ نہیں کرۂ ارض پر موجود کئی ممالک تو ان وسیع و عریض اور لق ودق صحراؤں میں سیاحوں کی دلچسپی کا بندوبست کر کے کافی زرمبادلہ کما رہے ہیں،کیونکہ حسن کائنات میں صحرا کی بھی اپنی کشش ہے اور خصوصا چاندنی راتیں تو اس کی دلکشی میں اور بھی اضافہ کر دیتی ہیں شاید اسی لئے احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا:
ہر دیس کی اپنی اپنی بولی
صحرا کا سکوت بھی صدا ہے
خیر صرف یہی نہیں ترقی یافتہ ممالک تو ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے صحرا کی تپتی دھوپ سے بھی بھر پور استفادہ کر رہے ہیں، لیکن یہاں تو صرف اتنے اقدامات کر دیئے جائیں کہ زندگی باقی رہے۔اس کے ساتھ ساتھ انسانیت کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کے ہاں شائد ہی کوئی ایسی مثال سامنے آئی ہو کہ لوگ بھوکے مر رہے ہوں اور وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوں اگر وہاں ایک فرد کی زندگی کو خطرہ ہو تو پوری مشینری حرکت میں آجاتی ہے اور تو اور وہاں جانوروں کے حقوق میں کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے بدقسمتی سے انسان کو انسان سمجھا ہی نہیں جاتا۔ اس وقت صورت حا ل یہ ہے کہ سینکڑوں کنوئیں خشک ہو گئے ہیں، ہزاروں جانور مر چکے ہیں قحط، بیماریوں اور غذائی قلت سے لڑتے لڑتے تھروواسی رینگ رینگ کر زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔ صحرا کی جلتی بلتی تپتی دوپہروں کے بعد اب جاڑے کا موسم ان بیچاروں کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہا ہے، ان کے کمزور بدن ،سوکھے ڈھانچوں اورمرجھائے چہروں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ یہ افریقہ کے کسی دور دراز علاقے میں رہنے والے باشندے ہیں ان کی حالت زار اپنی زبان حال سے کہہ رہی ہے :
عصائے مرگ تھامے زندگانی
میری سانسوں کا ریوڑ ہانکتی ہے
بہرحال ہماری سندھ کی حکمران جماعت سے گزارش ہے کہ فی لفور ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ، جو انتہائی غیر جانبداری سے حالات کا جائزہ لیں کہ تھر میں اتنے بڑے پیمانے پر اموات کی وجوہات کیا ہیں؟ان اموات کوکم کیسے کیا جا سکتا ہے؟ عوام کی حالت کیسے بدلی جا سکتی ہے؟متاثرین تھر کو ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے؟تھر کے عوام اور بچوں کو صحت و تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے ؟وغیرہ وغیرہ۔۔۔ایک تجویز یہ بھی ہے کہ جن علاقوں میں زندگی کی گاڑی چلائی جا سکتی ہے، وہاں مناسب سہولتوں کا بندوبست کر دیا جائے اور کچھ علاقے جہاں زندگانی کا ریوڑ ہانکنا نہایت ہی مشکل ہے وہاں کے افراد کو سندھ کے دوسرے علاقوں میں شفٹ کر دیا جائے۔ہم یہاں یہ بھی عرض کریں گے کہ تھر کے مصیبت زدگان کی مدد حکومت سندھ کی ہی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں ۔

مزید :

کالم -