وہ ملک جو سب کے دیکھتے دیکھتے دنیا کے نقشے سے غائب ہورہا ہے

وہ ملک جو سب کے دیکھتے دیکھتے دنیا کے نقشے سے غائب ہورہا ہے
وہ ملک جو سب کے دیکھتے دیکھتے دنیا کے نقشے سے غائب ہورہا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ماجورو (نیوز ڈیسک) براعظم آسٹریلیا سے پرے بحرالکال میں واقع جزائر پر مشتمل چھوٹا سا ملک مارشل آئی لینڈز ساری دنیا کے سامنے آہستہ آہستہ سمندر برد ہوتا جارہا ہے اور اس کے رہنما ترقی یافتہ دنیا کے سامنے دہائی دے رہے ہیں کہ ان کے ملک کو صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچایا جائے۔

مارشل آئی لینڈز کے وزیر خارجہ ٹونی ڈیبرم نے سمندر میں ڈوبتے اپنے ملک کی حالت زار لندن، نیویارک اور واشنگٹن جیسے دارالحکومتوں میں جا کر بار بار بیان کی ہے اور اب پیرس میں جاری بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس میں بھی ایک دفعہ پھر عالمی رہنماﺅں کے سامنے اپنی تباہ ہوتی سرزمین کی حالت زار کی تصویر کشی کی ہے۔ مارشل آئی لینڈز کے حکام کا کہنا ہے کہ آنے والی چند دہائیوں کے دوران ان کا ملک مکمل طور پر سمندر میں ڈوب جائے گا اور وہ اس تباہی کی ذمہ داری دنیا کے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک پر ڈالتے ہیں۔ بڑے صنعتی ممالک میں ایندھن کے انتہائی بڑے پیمانے پر استعمال اور اس کے نتیجے میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی وجہ سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ کو ہی مارشل آئی لینڈز کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔

مزید جانئے: دنیا کے وہ ممالک جہاں پاکستانی روپے خرچ کرتے وقت آپ خود کو بے حد امیر محسوس کریں گے

ٹونی ڈیبرم کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے سبب سطح سمندر میں ہونے والی بلندی کی وجہ سے ان کے ملک کے نشیبی علاقے پہلے ہی سمندر میں ڈوب چکے ہیں جبکہ مزید چند دہائیوں میں بلند ترین علاقے بھی پانی کے نیچے چلے جائیں گے۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لئے بھرپور عملی اقدامات کریں ورنہ ان کے ملک کے علاوہ بھی دنیا کے کئی ملک سمندر میں غرق ہوجائیں گے۔

مارشل آئی لینڈز نے امریکا کو بھی خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی معاہدے کے تحت مارشل آئی لینڈز میں آنے والی تباہی کے نتیجے میں اس کے عوام امریکا کی طرف نقل مکانی کا قانونی حق رکھتے ہیں، لہٰذا امریکا کو خاص طور پر یہ مسئلہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس