او آئی سی سی آئی کا سروے‘ مثبت نتائج میں ریٹیل سیکٹرسرفہرست

او آئی سی سی آئی کا سروے‘ مثبت نتائج میں ریٹیل سیکٹرسرفہرست

کراچی(اکنامک رپورٹر) اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(OICCI)کی جانب سے قومی سطح پر کئے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے WAVE-11کے نتائج 22فیصد مثبت آئے ہیں جوکہ اپریل 2015ء میں کئے گئے سروے کے8 1فیصد مثبت نتائج کے مقابلے میں4فیصد زائد مثبت نتائج ہیں۔مثبت نتائج میں سرفہرست ریٹیل سیکٹر رہا جوکہ اپریل 2015ء کے 15فیصد مثبت کے مقابلے میں 10فیصد بڑھ کر 25فیصد رہا جبکہ سروسز سیکٹر اور مینو فیکچرنگ سیکٹر کے شعبے کے بالترتیب 3فیصد اور 2فیصد مثبت اضافی نتائج سامنے آئے۔ مجموعی مثبت اشاریوں کے باوجود او آئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں کے اسکورمیں 7فیصد کمی واقع ہوئی ہے جوکہ اپریل 2015ء کے سروے کے 48فیصد مثبت کے مقابلے میں 41فیصد مثبت رہے۔ او آئی سی سی آئی کے صدر عاطف باجوہ نے حکومت کی جانب سے 3سے 4فیصد کے سُپر ٹیکس کے نفاذ کے منفی اثرات اور ٹیکس ریفنڈز میں غیر ضروری اور طویل وقت لینے جیسے مسائل کو او آئی سی سی آئی ممبران کے اعتماد میں 7فیصد کمی کی بڑی وجوہات قرار دیا۔بزنس کانفیڈنس انڈیکس میں مختلف سیکٹرز نے مختلف نتائج دیئے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر، ٹوبیکو، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے شعبوں نے سب سے زیادہ مثبت اشارئیے دیئے جس کے بعد پٹرولیم، کیمیکل اور فنانشل سروسز کے شعبے رہے جبکہ ٹیکسٹائل اور سیمنٹ کے شعبوں نے خاطر خواہ مثبت اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔حالیہ سروے میں بڑے شہروں مثلاً کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، سکھر اور کوئٹہ کے سروے شرکاء نے زیادہ مثبت اعتماد کا اظہار کیا جبکہ فیصل آباد اور سیالکوٹ سے منفی نتائج ملے۔او آئی سی سی آئی کے صدر عاطف باجوہ نے حکومت کی جانب سے کراچی اور شمالی علاقہ جات میں سیکیوریٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے عزم اور عملی اقدامات کو بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے مجموعی مثبت نتائج کی اہم وجہ قراردیا۔

انہوں نے بتایاکہ سروے میں ریکارڈنچلے درجے کی گرانی، تاریخ کے کم ترین انٹرسٹ ریٹس، میڈیا میں پاک چائنہ اکنامک کاریڈور کی مثبت کوریج اورمستحکم سیاسی حالات نے لوگوں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ سروے میں شرکاء نے اگلے 6ماہ میں مثبت اقدامات کے اشارے دیئے۔ 42فیصد نے سیلز میں اضافے، 37فیصد نے منافع میں اضافے اور ایک تہائی شرکاء نے اپنے آپریشنز میں توسیع کی امید ظاہر کی۔ عاطف باجوہ نے کہاکہ حکومت ان مثبت نتائج کو آسانی سے نہ لے بلکہ اہم معاملات پر خصوصی توجہ دے تاکہ کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں اور بہتر گورننس ممکن ہوسکے۔ ورلڈ بینک کے ایز آف ڈوئنگ بزنس (Ease of doing business) رپورٹ میں پاکستان کی رینکنگ مزید نیچے جاچکی ہے جبکہ پچھلے کچھ سالوں میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی نچلی سطح پر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زوردیا کہ پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صوبائی اور وفاقی اداروں میں بہتر رابطوں، ٹیکس نظام کی خامیوں کی دوری اور طویل عرصے سے رکے ہوئے ٹیکس ریفنڈز کا مسئلہ فوری طورپر حل کیا جائے۔ اوآئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے ملک کے چاروں صوبوں کے کاروباری طبقہ سے کیا جاتا ہے جوکہ ملک کے کُل جی ڈ ی پی کے 80فیصد حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مزید : کامرس