گندم کے وسیع ذخائر کی نکاسی کیلئے پالیسی نہیں بنائی گئی

گندم کے وسیع ذخائر کی نکاسی کیلئے پالیسی نہیں بنائی گئی

لاہور (کامرس رپورٹر)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئر مین محمد نعیم بٹ کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔جس میں چاروں صوبائی چےئرمینوں کے علاوہ فلور ملنگ انڈسٹری کے منتخب نمائندوں نے شرکت کی۔جن میں مرکزی رہنماعاصم رضا احمد، سامن مل،چوہدری محمد افتخار احمد مٹو،ملک افتخار احمد اعوان،سیّد محمد شریف آغا،میاں محمود حسن،ممتاز اے شیخ،حاجی محمد یوسف و دیگر مو جو د تھے ۔اجلاس میں ملک میں گندم اور آٹے کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اس وقت ملک میں گندم کے وسیع ذخائر موجود ہیں ، لیکن اس کی نکاسی کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ گوداموں میںُ پڑی ہوئی گندم دو سال پرانی ہے اور دن بدن اس کی حالت خراب ہورہی ہے۔ حکومت اربوں روپے سود کی مد میں ادا کررہی ہے۔ چند ماہ بعد گندم کی نئی فصل آنے والی ہے۔اگر ہی صورت حال رہی تو آئیندہ فصل پر کاشتکار مسائل کا شکار ہو گا۔عالمی مارکیٹ میں گندم کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے پاکستانی گندم کی مصنوعات کی ایکسپورٹ نہیں ہو پارہی۔ پاکستان کی گندم کی روائیتی مارکیٹ افغانستان پر بھارت اور روسی ریاستیں اپنا قبضہ جمانے کی کو شش کر رہی ہیں۔ حکومت نے ربیٹ کے تحت 12لاکھ ٹن گندم اور آٹے کی ایکسپورٹ کی اجازت دی۔ لیکں تاحال اس کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے اندیشہ ہے افغانستان کی مارکیٹ ہم سے چھن جائے گی۔جلاس مشترکہ رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہۂعالمی مارکیٹ میں پاکستان کی گندم اور گندم کی مصنوعات کی مستقل مارکیٹ بنانے ، اربوں روپے مالیت کی ملکی فلور ملنگ انڈسٹر ی کی معاشی بقأ کیلئے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق پنجاب اور سندھ سے 12لاکھ ٹن گندم اور اس کی مصنوعات کی ربیٹ کے تحت برآمد بلا تعطل جاری رکھی جائے۔

زمینی راستے سے میدہ سوجی اور فائن آٹا کی ایکسپورٹ کے تحت اجازت دی جائے۔اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر فلور ملنگ انڈسٹری کے معاشی تحفظ اور افغانستان کی مارکیٹ پر بھارتی اور روسی ریاستوںں کا قبضہ روکنے کی خاطر حکومت گندم کی ڈیوٹی فری امپورٹ اور اس کی مصنوعات کی ایکسپورٹ کی اجازت دے تاکہ ایکسپورٹ کا تسلسل برقرار رہ سکے ۔

 

مزید : کامرس