معاشی معاملات میں غیرسنجیدہ رویے سے برآمدت کم ہوئیں: چوہدری نواز

معاشی معاملات میں غیرسنجیدہ رویے سے برآمدت کم ہوئیں: چوہدری نواز

فیصل آباد (بیورورپورٹ) معاشی معاملات کے سلسلہ میں غیر سنجیدہ رویہ سے برآمدات میں کمی باعث تشویش ہے۔ حکومت کو فوری طور پر زمینی حقائق کے مطابق طویل المعیادبامعنی اور نتیجہ خیزپالیسیاں تشکیل دینی چاہیءں۔ یہ بات فیصل آبا د چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر چوہدری محمد نواز نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کراچی کے 18 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ابھی تک ہم اپنی اقتصادی ترجیحات کا واضح تعین نہیں کر سکے اور وسائل صنعت و تجارت کی بجائے دیگرمقاصد کے حصول پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد کا مختصر تعارف بھی پیش کیا اور بتایا کہ فیصل آباد چیمبر نے صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ شہریوں کے حقوق کیلئے بھی ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی ہے لیکن ابھی تک اس شہر کو اس کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی ڈھانچہ اور فنڈ مہیا نہیں کئے جا رہے۔ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے باوجود برآمدات میں کمی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر نائب صدر ایوان سید ضیاء علمدار حسین نے کہا کہ صنعتی منصنوعات کی تیاری میں بجلی کا حصہ 35 فیصد ہے جس کہ وجہ سے ہماری مصنوعات بہت زیادہ پیداواری لاگت کی وجہ سے نہ صرف اندرون ملک بلکہ علاقائی سطح پر بھی مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ توانائی بحران کے سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ فیسکو میں بہتر مینجمنٹ کے ذریعے لوڈشیڈنگ 6 سے کم ہو کر 4 گھنٹے رہ گئی جبکہ صنعتوں کیلئے اسے صفرکر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کے اداروں کے پاس 2000 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی اضافی استعداد موجود ہے جو گیس نہ ملنے کی وجہ سے بے کار پڑی ہے۔ اگر آج انہیں گیس مہیا کر دی جائے تو نہ صرف اضافی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ اس سے بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی آسکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے پہلے سال ویلیو ایڈڈ سیکٹر کی برآمدات میں 27 فیصد اضافہ ہوا ۔

مگر حکومت نے 27 فیصد گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ چارجز ڈال کر ایک بار پھر برآمدی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ کر دیا جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات قیمتوں کے حوالے سے مہنگی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب ایل این جی درآمد کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے اور توقع ہے کہ اس سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمہ میں مدد ملے گی تاہم اس کی تقسیم کے سلسلہ میں بھی حکومت کو صنعتوں کو ترجیح دینی چاہیئے۔ نائب صدر جمیل احمد نے غیر روائتی منڈیوں کی تلاش اور غیر روائتی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستانی تحقیقی اداروں نے جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے جن کی کمرشلائزیشن کی ضرورت ہے تا کہ ان سے مالی فوائد حاصل کئے جا سکیں۔ سابق صدر انجینئر رضوا ن اشرف نے توانائی بحران کے مستقل خاتمہ کیلئے انرجی ایکٹ پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان میں 50000 میگاواٹ سستی پن بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے جس سے فائدہ اٹھانے کیلئے طویل المعیاد پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کراچی کی محترمہ ثمینہ انتظار ایڈیشنل ڈائریکٹنگ سٹاف نے کہا کہ 18 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کے اس دورہ سے سینئر افسروں کو معاشی معاملات کو سمجھنے اور اس سلسلہ میں فیصلہ سازی میں کافی مدد ملے گی۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کی اس میٹنگ کو بامقصد بنانے پر چیمبر کے عہدیداروں اور ممبران کا شکریہ بھی ا دا کیا۔ سوال و جواب کی نشست میں فیصل آباد چیمبر کی مجلس عاملہ کے ارکان شیخ عبدالقیوم اور رانامحمد سکندر اعظم نے بھی حصہ لیا جبکہ آخر میں شیخ عبدالقیوم نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کراچی کی ایڈیشنل ڈائریکٹنگ سٹاف محترمہ ثمینہ انتظار کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔

مزید : کامرس