عالم اسلام داعش کے وجود کا ذمہ دار نہیں

عالم اسلام داعش کے وجود کا ذمہ دار نہیں
عالم اسلام داعش کے وجود کا ذمہ دار نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جس طرح سانحہ پیرس کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں، اسی طرح اب اس واقعہ کے بعد لگتا ہے کہ بہت کچھ ہونے والا ہے۔ فرانسیسی صدر اولاند نے بڑے واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ دہشت گردوں کی اس کارروائی کا نہایت بے رحمی سے جواب دیا جائے گا۔ اب چونکہ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے تو ظاہر ہے کہ شام اور عراق کے ان علاقوں پر حملے کئے جائیں گے جو اس دہشت گرد تنظیم کے قبضے میں ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے بھی مسائل بڑھیں گے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ داعش ایک مضبوط تنظیم بن چکی ہے، وہ اتنی آسانی سے پسپا نہیں ہو گی، جتنی آسانی سے افغان طالبان اکتوبر 2001ء کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کے بعد پسپا ہو گئے تھے ،بالفرض یورپی اتحادی داعش کو وقتی طور پر شکست دینے میں کامیاب ہو بھی گئے تو اس تنظیم کی جانب سے تادیر مزاحمت کی جاتی رہے گی۔ اس طرح مشرق وسطیٰ میں ویسے ہی حالات پیدا ہو جائیں گے، جن کا سامنا افغانستان اور پاکستان کے عوام گزشتہ چودہ برسوں سے کررہے ہیں۔

پیرس حملوں کا دوسرا اثر یہ ظاہر ہوگا کہ یورپ میں پناہ لینے والے شامی، عراقی اور افغان باشندوں کو نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ وہاں اس واقعہ سے پہلے ہی ایک تحریک چل رہی تھی کہ ان پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا جائے اور یورپی یونین کے رکن ممالک کی کھلی سرحدوں کو سیل یا بند کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اب ان مطالبات کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا اور فرانسیسی حکومت کو مطالبات کرنے والوں کو مطمئن کرنے کے لئے بہرحال کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ پناہ گزین شامیوں اور عراقیوں کو یورپی یونین کی سرحدوں سے باہر دھکیل دیا جائے ،اگر ایسا نہ ہوا تو یہ اقدام ضرور کیا جائے گا کہ مزید پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ اس حقیقت سے تو سبھی آگاہ ہیں کہ چند ماہ پہلے جب شامی اور عراقی باشندوں نے مشرق وسطیٰ کے دگرگوں حالات سے تنگ آکر یورپ کے دروازے پر پناہ کے لئے دستک دی تھی تو یورپی ممالک نے انہیں قبول کرنے میں بے حد پس و پیش سے کام لیا تھا۔ اب جبکہ ایک بڑا اور خوفناک سانحہ پیش آ چکا ہے تو یہ ممکن نہیں رہا کہ مزید لوگوں کو یورپی ممالک میں پناہ ملے۔

اس سانحہ کا تیسرا اثر یورپی ممالک میں مدتوں سے رہنے والے مسلمانوں پر پڑے گا اور انہیں اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس طرح کے مسائل کا سامنا انہوں نے نائن الیون کے سانحہ کے بعد امریکہ میں کیا تھا۔نائن الیون کے بعد انہیں امریکی اور برطانوی امیگریشن کے حوالے سے پابندیوں اور سیکیورٹی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ،ایئرپورٹوں پر ان کی مکمل اور تفصیلی تلاشی لی جاتی تھی اور انتظار کرایا جاتا تھا۔ اب انہیں یورپی ممالک میں بھی ایسی ہی سختیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔۔۔سوال یہ ہے کہ ان حالات میں یورپ میں بسنے والی مسلم آبادی کو کیا کرنا چاہیے کہ اسے زیادہ مسائل اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ یورپی باشندوں سے بات چیت میں داعش کے بارے میں نفرت کا اظہار کریں اور یہ کہیں کہ ان کے خلاف فوری طور پر مسلح کارروائی کی جانی چاہیے۔مسلم ممالک کی حکومتوں کو بھی غیر ممالک میں رہنے والے اپنے عوام کے حقوق کی پاسداری کے لئے یورپی ممالک کی حکومتوں کے ساتھ بات کرنی چاہیے ،جبکہ سب سے اہم یہ کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

یہی بہترین وقت ہے کہ داعش کے مسئلے کا ٹھوس حل تلاش کیا جائے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ داعش کو پیدا کرنے میں امریکہ کی عراق اور مشرق وسطیٰ میں نائن الیون کے بعد کی پالیسیوں کا بڑا عمل دخل ہے۔ معروف امریکی دانشور نوم چومسکی نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ داعش کا عفریت کھڑا کرنے میں امریکہ نے کلیدی کردار ادا کیا، چنانچہ اب اگر یہ عفریت مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ یورپ کے لئے بھی مسئلہ بنتا جا رہا ہے تو اس کی تباہ کاریوں کے بارے میں بھی امریکہ سے ہی باز پُرس کی جانی چاہیے اور اوباما انتظامیہ سے کہا جانا چاہیے کہ وہ داعش کے خاتمے میں بھی کردار ادا کرے، کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ اگر اس مسئلے کا فوری حل تلاش نہ کیا گیا تو مستقبل میں پیرس کی طرز کے مزید سانحات رونما ہو سکتے ہیں اور یہ صورت حال تیسری عالمی جنگ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں اقوام متحدہ کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم اس سلسلے میں آگے بڑھتے ہوئے ایک بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ داعش کے خلاف اقدامات کی آڑ میں عالم اسلام کو ہدف نہ بنایا جائے، کیونکہ نہ تو داعش بنانے کا عالم اسلام ذمہ دار ہے اور نہ اسے مسلح کرنے کا کام مسلم ممالک نے سرانجام دیا ہے، بلکہ وہ تو مسلسل داعش کی کارروائیوں کی مذمت کررہے ہیں۔ داعش اور عالمی اسلام دو الگ معاملات ہیں اور ان کو ایک دوسرے سے الگ ہی رکھا جانا چاہیے۔

مزید : کالم