مریضوں کی رہنمائی کیلئے بھرتی شدہ ،گائیڈ مین ہسپتالوں کے ’’سپر میں ‘‘بن گئے

مریضوں کی رہنمائی کیلئے بھرتی شدہ ،گائیڈ مین ہسپتالوں کے ’’سپر میں ‘‘بن ...

لاہور(جاوید اقبال) سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی راہنمائی اورانہیں معلومات فراہم کرنے کیلئے بھرتی کیے گئے’’گائیڈ مین) ہسپتالوں میں گم ہو گئے ہیں۔ان گائیڈ مینوں کو مختلف ہسپتالوں میں مختلف اوقات میں بھرتی کیا اورانہیں ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز ،ایمرجنسی ،مین ایڈمن بلاک سمیت کئی اہم مقامات پر تعینات کیا گیا ۔ یہ پلان سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اورموجودہ وزیر اعظم نے دیا تھاجس کا مقصد ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو ان کی مطلوبہ معلومات اورراہنمائی فراہم کرنا تھا ۔ان گائیڈ مینوں کو ان کے بازوؤں پر ’’گائیڈمین ‘‘ کا سٹکر لگا کر ہسپتالوں کے داخلی گیٹوں پر ایک میز اورایک کرسی دے کر بٹھایا جاتاتھا۔اس کیلئے سروسز ہسپتال لاہور سمیت دیگر تمام ہسپتالوں میں گائیڈمین بھرتی کیے گئے مگر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ گائیڈمین ہسپتالوں کی انتظامیہ کے قریب ہوگئے اورایک مافیا کی شکل اختیار کر گئے ۔بعض نے خود کو ایم ایس صاحبان کا فرنٹ مین بنا لیا بعض ہسپتالوں کے اے ایم ایس ،ڈی ایم ایس اوربعض پروفیسرز کے پی اے بن گئے جس کے باعث سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو معلومات اورراہنمائی فراہم کرنے کا کلچر دم توڑ گیا ہے جن کو اس کام کیلئے بھرتی کیا گیا تھا وہ ’’پروٹوکول ‘‘ فراہم کرنے پر لگا دیے گئے ہیں۔اوربعض ’’کمائی ‘‘ والی سیٹوں پر خود کو تعینات کرا چکے ہیں ۔یہ سلسلہ اب ہسپتالوں نے ختم کردیا ہے اورگائیڈمینوں کو ان کی اصل ڈیوٹی سے ہٹاکر مختلف انتظامی امور کے افسروں کے ساتھ اسسٹنٹ ،پی اے لگا دیا ہے۔جس سے مریض مطلوبہ معلومات کیلئے راہنمائی حاصل کرنے کیلئے ہسپتالوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔اس حوالے سے سیکرٹری صحت جوادرفیق ملک کا کہنا ہے کہ ہر ہسپتال میں ’’گائیڈمینوں ‘‘ کی پوسٹیں موجود ہیں ان پر گائیڈمین بھی تعینات ہیں ۔اس حوالے سے ہر ہسپتال سے رپورٹ طلب کریں گے کہ گائیڈمین کو ان کی اصل ڈیوٹی سے کیوں ہٹایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ روزنامہ پاکستان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اہم مسئلہ پر میری توجہ مرکوز کرائی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1