اینٹی کرپشن میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی سیٹ اضافی چارج کے تحت سونپی جانے لگی

اینٹی کرپشن میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی سیٹ اضافی چارج کے تحت سونپی جانے لگی

لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن میں ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن کی خالی سیٹ اضافی چارج کے تحت سونپی جانے لگی ،سینکڑوں درخواستیں ، مقدمات اورانکوائریاں التواء کا شکارہو گئیں،پراپیگنڈہ،سازش اور افواہ سازی کی فضانے اعلیٰ انتظامی افسران کو بھی فیصلہ لینے میں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ ڈیپوٹیشن سے اینٹی کرپشن میں تعیناتی کے لئے افسران کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے لیکن ڈیپوٹیشن سے اینٹی کرپشن میں تعینات یا بلوائے جانے والے آفیسروں کی جانب سے بھی مسلسل انکاری نے محکمہ اینٹی کرپشن ادارہ کی نیک نامی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ دیئے،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن میں ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن کی دو ماہ سے خالی سیٹ پرابھی تک کوئی تعیناتی کی جاسکی ہے،سابق ڈپٹی ڈائریکٹر انوسٹی گیشن لاہور کے پاس زیر سماعت انکوائریاں اور مقدمات بھی مسلسل التوارء کا شکار ہو کر محکمہ اینٹی کرپشن کی بے بسی کا منہ چڑھا رہی ہیں ، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر نور محمد اعوان کے پاس سرکاری اور پرائیویٹ اراضی کے اربوں روپے کی کرپشن کے کیسز کے علاوہ سینکڑوں انکوائریاں زیر سماعت تھیں جن کی سماعت ڈی جی اینٹی کرپشن کی ہدایات کے مطابق تیزی سے کی جارہی تھیں لیکن ان کے تبادلے کے بعد اس رفتار کو بھی بریک لگ گئی ہے،ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر میں بیٹھی ہوئی ایک مخصو ص لابی اپنے مفادات کو پورے کرنے والے افسر کی تعیناتی کے لئے دن رات کوشاں اور سرگرم ہے جس کے لئے سیاست کے ساتھ پراپیگنڈہ اور افواہ سازی کی مہم بھی زور شور سے جاری ہے ۔دوسری جانب اینٹی کرپشن حکام کا کہنا کہ آئندہ چند روز میں عارضی چارج کو ختم کرکے مستقل چارج پر افسر تعینات کر دیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1