میر سید علی ہمدانی بین الاقوامی کانفرنس 14دسمبر کو شروع ہو گی

میر سید علی ہمدانی بین الاقوامی کانفرنس 14دسمبر کو شروع ہو گی

لاہور(خبر نگار خصوصی)پاکستان کی قدیم ترین جامعہ، پنجاب یونیورسٹی لاھور کے شعبہ فارسی، شعبہ فلسفہ اور فردوسی ریسرچ چیئر کے زیراہتمام خانۂ فرھنگ اسلامی جمہوریہ ایران لاہور کے تعاون سے برصغیر کے عظیم صوفی، شاعر اور ادیب میر سید علی ھمدانی پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس 14اور15کوہورہی ہے ۔کانفرنس کا افتتاحی اجلاس پنجاب یونیورسٹی کے قائد اعظم کیمپس میں الرزای ہال میں منعقدہو گا، جس میں پاکستان بھر کی مختلف جامعات کے علاوہ غیرملکی مندوبیں بھی شرکت کریں گے ، امید کی جارہی ہے کہ کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران، افغانستان، تاجکستان، بھارت اور بنگلا دیش سے بھی نامور محقیقین اپنے مقالات پیش کریں گے ۔۔میر سید علی ھمدانی کا تعلق ایران کے قدیم شہرہمدان سے تھا، وہ1314ء میں مدان میں پیدا ہوئے ، زندگی کا بیشتر حصہ سیر و سفر، کسب علم و دانش اور سلوک کی منازل طے کرتے ہوئے گزارا، اور بالآخر1384 کو افغانستان کے علاقے کنڑ میں داعی اجل کو لبیک کہا، اور موجودہ تاجکستان کے علاقے ختلان میں سپرد خاک ہوئے ۔میر سید علی ھمدانی کا تعلق تصوف کے معروف سلسلے کبرویہ سے تھا، انھوں نے برصغیر پاک و ھند میں بالعموم اور کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان میں بالخصوص دین اسلام کے فروغ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی ترویج میں غیرمعمولی خدمات انجام دیں، کشمیر میں انھیں شاہ ھمدان کے نام سے پکارا جاتا ھے ۔ ان سے منسوب کتب کی تعداد ۱۱۰ تک جا پہنچتی ھے ، جن میں رسالہ نوریہ، رسالہ مکتوبات، در معرفت صورت و سیرت انسان بھی شامل ھیں۔مفکر پاکستان علامہ اقبال بھی میر سید علی ھمدانی کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1