87کتابوں کے مصنف ڈاکٹر انور سدید آج87برس کے ہو گئے

87کتابوں کے مصنف ڈاکٹر انور سدید آج87برس کے ہو گئے

لاہور(ناصر بشیر) ممتاز ادیب، افسانہ نگار، محقق نقاداور87کتابوں کے مصنف ڈاکٹر انور سدید آج 4دسمبرکو87برس کے ہو گئے وہ اپنی سالگرہ کا کیک کاٹیں گے ڈاکٹر انور سدید 4دسمبر1928ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے، محکمہ آبپاشی میں ملازمت کی۔چیف انجینئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور پی ایچ ڈی کی۔ شعبہ صحافت اور ادب میں بچپن سے ہی دلچسپی تھی، مختلف اخبارات ، جرائد میں کالم لکھے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ کتابوں پر تبصرے اور فلیپ لکھے ان کی شخصیت پر انڈیا میں پی ایچ ڈی ہو چکی ہے۔ دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں ڈاکٹر انور سدید کی کتب پڑھائی جا رہی ہیں ڈاکٹر انور سدید کا بطور ریفرنس ایک ہزار سے زائد کتب میں ذکر موجود ہے۔ علامہ عبدالستار عاصم کی عالمی شہرت یافتہ کتاب ’’انسائیکلوپیڈیا جہان قائد‘‘ پر سب سے بہترین تبصرہ ڈاکٹر انور سدید نے کیا۔ یہ کتاب بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح پر لکھی جانے والی دنیا کی سب سے بڑی کتاب قرار پائی۔ ڈاکٹر انور سدید کی کئی کتب کا ترجمہ دنیا کی درجنوں زبانوں میں ہو چکا ہے ۔ آج4دسمبر بروز جمعتہ المبارک 174ستلج بلاک، علامہ اقبال ٹاؤن لاہو میں ڈاکٹر انور سدید کی 87ویں سالگرہ کا کیک معروف دانشور، ادیب ملک مقبول احمد، علامہ عبدالستار عاصم، مقصود احمد چغتائی، ریاض صحافی کاٹیں گے۔ ڈاکٹر انور سدید کے قریبی دوست پروفیسر جمیل آذر، جبار مرزا، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، افتخار مجاز، رانا عامر رحمٰن محمود، ڈاکٹر اجمل نیازی، سرفراز سید، صہیب مرغوب، شہزاد فراموش، خالد یزدانی، شعیب مرزا، ندیم اپل نے ڈاکٹر انور سدید کو87ویں سالگرہ پر مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی لازوال علمی و ادبی خدمات پر ان کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا جائے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4