دوران ملازمت وفات پا نے والے سرکاری ملازمین کے ورثاءکے امدادی پیکیج میں 300 فیصد اضافہ کر دیا گیا

دوران ملازمت وفات پا نے والے سرکاری ملازمین کے ورثاءکے امدادی پیکیج میں 300 ...
 دوران ملازمت وفات پا نے والے سرکاری ملازمین کے ورثاءکے امدادی پیکیج میں 300 فیصد اضافہ کر دیا گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد نواز شریف نے دوران ملازمت وفات پا جانے والے سرکاری ملازمین کے ورثاءکے لئے نظرثانی شدہ امدادی پیکیج کی منظوری دے دی جو 9 فروری 2015ءسے نافذ العمل ہوگی۔ سرکاری علامیہ کے مطابق دوران ملازمت وفات پا جانے والے سول ملازمین کے لئے 2006ءکے پیکیج میں 300 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافہ شدہ پیکیج کے تحت دوران ملازمت وفات پا جانے والے گریڈ 1 سے 4 کے ملازمین کے ورثاءکو 6 لاکھ روپے، اسکیل 5 سے 10 کے ورثاءکو 9 لاکھ روپے، 11 سے 15 اسکیل کے ورثاءکو 12 لاکھ روپے، اسکیل 16 سے 17 کے ملازمین کے ورثاءکو 15 لاکھ روپے، گریڈ 18 سے 19 کے ملازمین کے ورثاءکو 24 لاکھ روپے اور گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ملازمین کے ورثاءکو 30 لاکھ روپے کی کی یکمشت گرانٹ ملے گی۔ سیکورٹی سے متعلق اموات کی صورت میں گریڈ 1 سے 16 کیلئے 30 لاکھ روپے، گریڈ 17 کے لئے 50 لاکھ روپے، گریڈ 18 اور 19 کےلئے 90 لاکھ روپے اور گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ملازمین کے لئے یکمشت گرانٹ ایک کروڑ روپے دی جائے گی جبکہ مقابلوں، بم دھماکوں، فساد، فرض کی ادائیگی یا دہشت گردی کی کارروائی کے نتیجے میں زخمی ہونے کی بناءپر معذور ہونے اور ملازمت سے ریٹائر ہونے والے افسران/اہلکاروں کو 70 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ مذکورہ بالا صورت میں حادثات میں زخمی ہونے کے نتیجے میں معذور ہونے والے افسروں اور اہلکاروں جو محکمہ میں بدستور خدمات انجام دے رہے ہوں، کو 50 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ دوران ملازمت وفات اور سیکورٹی سے متعلق اموات دونوں صورت میں سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کو ان کی سروس اور آخری تنخواہ کے مطابق 100 فیصد پنشن دی جائے گی۔ 10 سال سے کم سروس کی صورت میں کم از کم 10 سال کی سروس کی شرح سے پنشن لاگو ہوگی۔ ورثاءکو سرکاری مکان یا ریٹائرمنٹ کی مدت تک مکان کا کرایہ حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس پیکیج کے تحت متوفی سرکاری ملازمین کے تمام بچوں کو کسی بھی پبلک/سرکاری تعلیمی ادارے میں گریجویشن تک مفت تعلیم کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس میں ٹیوشن فیس، کتب سے متعلقہ مواد اور گذارہ الاﺅنس وغیرہ شامل ہیں۔ پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لئے 2 فیصد کوٹہ کی اہلیت ختم کرتے ہوئے ماضی میں کوئی پلاٹ الاٹ نہ ہونے کی صورت میں پلاٹ کے بدلے گریڈ 1 سے 8 کے ملازمین کو 20 لاکھ روپے، گریڈ 9 سے 16 کو 50 لاکھ روپے اور گریڈ 17 سے اوپر کے ملازمین کو 70 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ امدادی پیکیج میں دوران ملازمت وفات پا جانے والے ملازمین کے بچوں کو گریڈ 1 سے 15 کی اسامیوں پر اشتہار کے بغیر دو سالہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمت دی جائے گی۔ دوران ملازمت وفات پا جانے والے ملازمین کے اہل خانہ کو ایک بیٹی کی شادی کے لئے 8 لاکھ روپے کی گرانٹ دی جائے گی۔ سروس کے دوران اہلیت کے مطابق حاصل مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اے جی پی آر یا صوبائی اے جی آفس کی طرف سے منظور شدہ تنخواہوں پر ایڈوانس کی صورت میں غیر ادا شدہ رقم معاف کر دی جائے گی۔ گریڈ 17 یا گریڈ 18 کے کسی بھی افسر کو ہر وزارت/ڈویژن/محکمے کی طرف سے کونسل کے طور پر نامزد کیا جا سکے گا جو دوران ملازمت وفات پا جانے والے سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کو پیکیج کے تحت دی جانے والی تمام سہولیات کو ایک ماہ کے اندر حتمی شکل دینے اور ان کی فراہمی کا ذمہ دار ہوگا۔ سیکورٹی سے متعلق اموات کی صورت میں بینولینٹ فنڈ سے 2 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کی خصوصی یکمشت ادائیگی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔وزیراعظم نے اس بات کی بھی منظوری دی ہے کہ کوئی موت ”سیکورٹی سے متعلق موت“ تصور کی جائے گی اگر یہ دہشت گردی کی کارروائی یا دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے واقع ہو، قطع نظر اس امر کہ جاں بحق ہونے والا فرد قانون نافذ کرنے والے ادارے کا رکن یا سول ملازم ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کسی رکن کی موت اگر دہشت گردی کی کارروائی کے سوا کسی اور سبب سے واقع ہو تو وہ ”دوران ملازمت موت“ تصور کی جائے گی۔

مزید : قومی /Headlines