سعودی عرب میں مطلقہ اور بیوہ خواتین کو اپنی خاندانی رجسٹریشن تبدیل کرنے کا حق مل گیا

سعودی عرب میں مطلقہ اور بیوہ خواتین کو اپنی خاندانی رجسٹریشن تبدیل کرنے کا ...

ریاض(کے پی آئی)سعودی عرب کی حکومت نے عائلی مسائل سے نمٹنے کے لیے چند نئے قوانین وضع کیے ہیں جن میں مطلقہ اور بیوہ عورتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کی ایک نئی اور منفرد کوشش کی گئی ہے۔ مطلقہ عورتوں اور بیواؤں کو اپنے سابقہ شوہروں کے خاندانوں سے الگ تھلگ اپنا 'سول اسٹیٹس' رکھنے، علیحدہ شناختی کارڈ بنوانے اور اپنی رجسٹریشن سابقہ خاندانوں سے ختم کرانے کا بھی حق دے دیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاض میں عائلی مسائل کے حوالے سے نئے قوانین کے نفاذ سے خاندانی تنازعات کے حل اور مطلقہ اور بیوہ خواتین کو ان کیحقوق فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔عرب ٹی وی کے مطابق کوئی طلاق یافتہ یا بیوہ خاتون اپنے خاندان کے ہاتھوں زیادتیوں سے بچنے کے لیے چاہے تو اپنا الگ شناختی کارڈ بنوا کر اس خاندان میں اپنی رجسٹریشن ختم کر سکتی ہے۔ اس نئے اصول کا مقصد خواتین بالخصوص طلاق یافتہ اور بیوہ عورتوں پر ان کے خاندانوں کی جانب سے ہونے والے بے جا ظلم و زیادتی کی روک تھام کرنا ہے۔وزارت داخلہ نے کسی بھی طلاق یافتہ خاتون کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر اور شوہر کی دوسری بیویوں کی اولاد سے علیحدہ اپنی رجسٹریشن کرا سکتی ہے۔

ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ کوئی خاتون اپنے سابقہ شوہر، سوتنوں یا سوتیلی بیٹوں کے ستم سے محفوظ رہے۔وزارت داخلہ نے نئے قوانین کے تحت بہ کثرت شادیاں رچانے والے مردوں کو بھی ایک سے چار تک خاندانوں کی رجسٹریشن کی اجازت دی ہے۔ شوہر اپنی تمام بیویوں اور ان سے ہونے والی اولاد کو ایک جگہ جمع کرنے کے بجائے ان کی الگ الگ رجسٹریشن کرا سکے گا۔

مزید : عالمی منظر