روس کی جذباتی پابندیوں کا جواب دینگے: ترک صدر

روس کی جذباتی پابندیوں کا جواب دینگے: ترک صدر

انقرہ(کے پی آئی)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کی عاید کردہ ''جذباتی'' پابندیوں کا جواب نہیں دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں مزید بگاڑ نہیں چاہتے ہیں۔گزشتہ روزصدر ایردوآن نے ترک صحافیوں کے ساتھ ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ ''روس ہمارا تزویراتی شراکت دار ہے،ہمیں انھیں خوراک سمیت اپنی مصنوعات کی درآمدات کا سلسلہ جاری رکھیں گے''۔ان کا کہنا ہے کہ ''روس کے اقدامات ریاستی وقار کے منافی ہیں۔ترکی اس ضمن میں اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ہم ان کی طرح کی زبان استعمال نہیں کررہے ہیں۔ہم ان سے (روسی قیادت سے) یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زبان کو تبدیل کریں''۔ترک صدر نے کہا کہ ماسکو نے طیارے کی تباہی کے واقعے کے ردعمل میں جذباتی انداز میں اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ ترکی میں مقیم روسی شہریوں کے خلاف کسی اقدام کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جوابی ردعمل قانون کی حدود ہی میں رہ کر ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ روس ترکی کو اس کی گیس کی ضروریات کا نصف فی صد سے زیادہ مہیا کرتا ہے لیکن صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ انھیں روس کی جانب سے گیس کی برآمدات کی بندش کے حوالے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''ہماری ساری زندگی قدرتی گیس کے سہارے تو زندہ نہیں رہے ہیں۔یہ قوم مشکلات جھیلنے کی عادی ہے اور ترکی کے پاس روس کے علاوہ بھی گیس کے برآمد کنندگان ہیں''۔ترک صدر نے انٹرویو میں کہا کہ ''روسی صدر ولادی میر پوتین ماضی میں میرے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔وہ مجھے حوصلہ مند اور دیانت دار سربراہ ریاست قرار دے چکے ہیں''۔ترک صدر کے اس مفاہمانہ طرز عمل کے جواب میں روس کی جانب سے آج یہ جواب آیا ہے کہ اس کی وزارت دفاع نے صدر ایردوآن اور ان کے خاندان پر سیدھے سبھا داعش کے ساتھ تیل کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ہونے کا سنگین الزام عاید کردیا ہے۔

مزید : عالمی منظر