داعش کو کافر قرار نہیں دے سکتے: ڈاکٹر احمد الطیب

داعش کو کافر قرار نہیں دے سکتے: ڈاکٹر احمد الطیب

قاہرہ(کے پی آئی)مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے ایک بار اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ شام اور عراق سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تنظیم دولت اسلامی 'داعش' کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔عرب ٹی وی کے مطابق گزشتہ روزجامعہ الازہر کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الازہر نے کہا" کہ ہر وہ شخص جو فرشتوں، کتاب اللہ(قرآن پاک)، دیگر آسمانی کتابوں تورات، انجیل کا انکار کرے وہ ایمان سے خارج سمجھا جائے گا اور جو شخص ایمانیات کے ان اجزا کو مانتا ہو تو اسے کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔"اس موقع پر ایک طالب علم نے ڈاکٹر احمد الطیب سے استفسار کیا کہ کوئی شخص کبائر کا ارتکاب کرے توہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے کیونکہ بہت سے ایسے مذاہب(مسالک)ہیں جن میں گناہ کبیرہ کے مرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ جو شخص گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے اور اس پر اصرار کرتے ہوئے موت سے ہمکنار ہوجائے تو اسے خارج از ایمان و اسلام نہیں سمجھا جائے گا، البتہ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔شیخ الازہر نے قرآن و سنت کی روشنی میں بتایا کہ" کسی گروپ کو کافر کیسے قرار دیا جاسکتا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج کیے جانے کے کون کون سے بنیادی عوامل ہیں۔داعش کے بارے میں انہوں نے اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ داعش 'فساد فی الارض' کی مرتکب ہو رہی ہے مگر ہم اسے کافر قرار نہیں دے سکتے۔اگر داعش سے وابستہ لوگ ایمانیات کی تمام بنیادی جزئیات کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ مسلمان ہیں مگر ظالم اور گناہ گار ہیں۔

مزید : عالمی منظر