آئی جی کے احکامات ہوا میں اڑ گئے ، اہلکارو افسران نے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کروائیں

آئی جی کے احکامات ہوا میں اڑ گئے ، اہلکارو افسران نے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع ...

لاہور(شعیب بھٹی) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے حکم کے باوجود لاہور پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک کے کسی بھی افسر یا اہلکار نے تاحال اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات سی سی پی او آفس میں جمع نہیں کروائیں اور نہ ہی سالانہ خفیہ کارکردگی رپورٹ کو مکمل کیا ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے صوبے بھر کے تمام پولیس افسروں کو مراسلہ جاری کیا تھا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک تک کے مرد اور خواتین اہلکاروں کے تمام اثاثوں کی تفصیلات ان کے ضلعی پولیس آفس میں جمع کروائیں اورضلعی پولیس افسر اہلکاروں و افسروں کے اثاثہ جا ت کی تمام تفصیلات جمع کرکے آئی جی پنجاب کے آفس بھجوائیں تاکہ تمام اہلکاروں و افسروں کی جائیدادوں اوردیگر ملکیتی چیزوں کی تفصیلات معلوم ہو سکیں ۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے صوبے بھر کے تمام اعلیٰ افسروں کو جاری کر دیا گیا مگر کسی بھی ضلع کی جانب سے اس پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا ۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس کی جانب سے بھی لاہور پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک کے مرد و خاتون اہلکاروں و افسروں کو حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ وہ اپنے تمام اثاثہ جات کی تفصیلات فوری طور پر سی سی پی او آفس میں جمع کروائیں مگر تاحال کسی بھی افسر و اہلکار نے اثاثہ جات کی تفصیلات تاحال جمع نہیں کروائیں ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور کی جانب سے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم ملنے کے بعد افسروں و اہلکاروں نے ان کے نام پراپرٹی اور مکانات کو اپنے عزیز و اقارب کے ناموں پر منتقل کروانا شروع کر دیا ہے ۔ پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب نے تمام ضلعی پولیس افسروں کو ملازمین کے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کروانے کے حوالے سے ایک اور مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔دریں اثناء آئی جی پنجاب نے ترقی کے لئے ملازمین کی سالانہ خفیہ کارکردگی رپورٹ کو بھی مکمل کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ضرورت کے وقت کسی بھی ملازم کی سالانہ خفیہ کارکردگی رپورٹ نامکمل ہونے سے اس کی ترقی نہ رک سکے تاحال کسی بھی اہلکار کی سالانہ خفیہ کارکردگی رپورٹ مکمل نہ کی جا سکی ہے ۔ جس کی وجہ سے متعدد اہلکارو افسر ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے سے محروم ہو سکتے ہیں ۔

مزید : علاقائی