’’طلسماتی منی بجٹ سے عام آدمی پھر محفوظ؟‘‘

’’طلسماتی منی بجٹ سے عام آدمی پھر محفوظ؟‘‘
’’طلسماتی منی بجٹ سے عام آدمی پھر محفوظ؟‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

موجودہ حکومت عوامی سروے میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور بلدیاتی انتخابات کے دو مرحلوں اور اسلام آباد میں تاریخ ساز کامیابی پرشاد یانے بجا رہی ہے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اڑھائی سال بعد بلدیاتی انتخاب میں تاریخ ساز اعتماد دینے پر عوام کو خوشیوں میں شریک کرتے ہوئے 40 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا اعلان کرتے ہوئے خوشخبری سنائی ہے 350 درآمدی اشیا ء پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی لگا رہے ہیں وزیر اعظم پاکستان محمد نوازشریف کے خصوصی احکامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے روز مرہ استعمال کی اشیاء اور عام آدمی کے استعمال کی اشیا پر ڈیوٹی نہیں لگا رہے۔

جناب اسحاق ڈار نے ودہولڈنگ ٹیکس کی رعائتی شرح انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں 31 دسمبر تک تو سیع کی بھی نوید سنائی اور کہا 40 ارب کے نئے ٹیکسز کے نفاذ سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا وزیر خزانہ وزیر اعظم کے قریبی رشتے دار ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت میں اہم مقام رکھتے ہیں وزیر خزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں دوسرا وزیر اعظم بھی سمجھا جاتا ہے پاکستانی عوام وزیر خزانہ کی تقریر سننے کے بعد حواس باختہ ہیں انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ وزیر خزانہ سے کیسے پوچھیں کہ اب پاکستانی عوام میں ایسا عام آدمی کہاں موجود ہے جو صابن استعمال نہیں کرتا جو مرغی نہیں کھاتا پھل نہیں کھاتا ، بسکٹ، جوس، مکھن نہیں کھاتا چائے نہیں پیتا ٹوتھ پیسٹ استعمال نہیں کرتا شیونگ کا سامان استعمال نہیں کرتا ایسے عام آدمی کہاں رہتے ہیں جن کے بچے بے بی سوٹ نہیں پہنتے ایسا عام آدمی کہاں پایا جاتا ہے جو پلاسٹک کی اشیا استعمال نہیں کرتا ایسے عام خاندان کہاں آباد ہیں جو گھروں میں فرنیچر رکھنا، پردے لگانا پسند نہیں کرتے ایسے عام آدمی کہاں ہیں جو اپنے کچن میں مائیکروویو اوون آرائشی بلب نہیں رکھتے ایسے عام خاندان کے افراد کہاں ہیں جن کی خواتین اور بچیاں میک اپ نہیں کرتیں ایسے خاندان کہاں آباد ہیں جو پیڈسٹل فین اور ایگزاسٹ فین لگانا پسند نہیں کرتے ایسا عام آدمی کہاں ہے جو دہی استعمال نہیں کرتا سگریٹ نہیں پیتا ایسا عام آدمی یا خاندان پاکستان کے کس کونے میں رہائش پذیر ہے جس کے گھر میں فریج نہیں ہے ایسا کون سا خاندان ہے جو ٹی وی اپنے گھر میں رکھنا نہیں چاہتا۔ وزیر خزانہ نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے 800 سی سی سے 1000 سی سی کی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں اضافہ نہیں کر رہے پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں کتنے عام آدمی ہیں جن کے پاس 1000 سی سی تک کی گاڑیاں موجود ہیں؟

وزیر خزانہ نے مٹی کا تیل 79 پیسے سستا کرنے اور لائیٹ ڈیزل 36 پیسے سستا کرنے کی بھی نوید سنائی۔ وزیر خزانہ کی منی بجٹ تقریر دلائل سے بھرپور تھی خوبصورت الفاظ کا چناؤ کیا گیا تھا اس میں شک نہیں کیا جا سکتا وفاقی بجٹ 2015ء کے صرف 5 ماہ بعد منی بجٹ کی صورت میں عوام پر گرائے گئے مہنگائی کے جان لیوا بم سے عام آدمی کیسے بچ پائے گا اس کے لئے وزیر خزانہ کی طرف سے کوئی دلائل سامنے نہیں آئے ورنہ وزیر خزانہ کا موقف بڑا وزنی ہے کہ عام آدمی کے استعمال کی اشیاء اور روز مرہ استعمال کی اشیاء پر کوئی ٹیکس نہیں لگا کسی کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا حالانکہ جناب اسحاق ڈار فرما سکتے تھے کہ ہماری حکومت پر مشکل وقت ہے ہم اپنے اخراجات میں کمی کر رہے ہیں ہم اپنے بیرونی دوروں کو مختصر کر رہے ہیں عوام اپنا حصہ ڈالیں اور ہمارے ساتھ مشکل وقت میں ساتھ دیں تو میرا ذاتی خیال ہے عوام تیار ہو جاتے مگر وزیر خزانہ کے جھوٹ اور حقائق کے منافی دلائل سے عوام کو تکلیف پہنچی ہے ضرب عضب کے اخراجات کو 40 ارب روپے کے ٹیکسز کے ساتھ جوڑنے سے بھی وزیر خزانہ کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا دہشت گردوں کے خلاف جاری ضرب عضب کے برآمد ہونے والے مثبت نتائج سے بھی عوام الناس پوری طرح آگاہ ہیں وزیر خزانہ اگر دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے 40 ارب روپے کے ٹیکسز کو آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول میں بڑی رکاوٹ قرار دے کر عوام سے درخواست کرتے تو عوام جیسے تیسے ٹیکسوں کے بوجھ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے مگر افسوس کہ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے شکنجے اور بلیک میلنگ کو ضرب عضب سے جوڑنے کی کوشش کی جو سراسر زیادتی آزاد میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کی طرف سے لمحہ لمحہ کی خبروں کے منظر عام پر آنے کی وجہ سے آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات ان کی طرف سے عائد کی گئی شرائط کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اس کے باوجود وزیر خزانہ نے ٹیکسوں کے اہداف حاصل نہ کرنے کا اعتراف کر نے کی بجائے 40 ارب کے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کو ضرب عضب کے اخراجات کے ساتھ منسوب کر کے زیادتی کی ہے کیا اچھا ہوتا وزیر خزانہ اعلان کرتے ہم اہل اقتدار آج سے دودھ ،دہی،مرغی، مچھلی، شہد، پھلوں، بسکٹوں کا استعمال ترک کر رہے ہیں عوام بھی اس میں شریک ہو جائیں افسوس کہ ہمارے حکمران عوام کو زندہ اور باشعور سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں وزیر خزانہ کی ایک خوبی سامنے آئی ہے کہ وہ دور اندیش ہیں جس بات کا تذکرہ نہ کرنا چاہیں اس کے قریب بھی نہیں جاتے مجھے یا دہے حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر انہوں نے ڈالر کی قیمت کم کرنے کا خوب ڈھونڈرا پیٹا تھا اور حکومت کی طرف سے ملکی معیشت کی مضبوطی کا عملی ثبوت قراردیا تھا کہ امریکی ڈالر 100 سے نیچے آ گیا ہے۔

پھر دو ماہ تک پاکستانی روپے کے استحکام کا رونا بھی خوب رویا تھا بے جان عوام کیا جانیں ان کو تو ایسے حکمرانوں کو ووٹ دینے کی سزا ضرور ملنا چاہئے مخصوص لابی کو فائدہ دینے کے لئے ایک ماہ سے ڈالر کی لگامیں کھلی چھوڑ دی گئی ہیں 107 روپے سے اوپر ہونے کے باوجود وزیر خزانہ اور دیگر ذمہ داران ڈالر کا نام لینے کے لئے تیار نہیں ڈالر 107 سے اوپر جانے کے بعد درہم او رریال بھی دو دو روپے مہنگا ہو گیاہے۔ مہنگائی بھی کئی گناخودبخود بڑھ گئی ہے کسمپرسی کی حالت میں زندہ عام آدمی متوسط طبقہ زندگی کے دن مشکل ترین حالات میں پورے کر رہا ہے کون دیکھے گا اس طرف آج میں اپنے کالم کا عنوان رکھنا چاہتا تھا کون سی جماعت ہے جو عام آدمی کے لئے دھرنا دے گی جو غریب آدمی اور متوسط طبقہ اور لاکھوں، بے روز گار نوجوانوں کی ترجمان بنے گی۔ انتخابی اصلاحات کے لئے 136 دن کا دھرنا دینے کا ریکارڈ بنانے والی پی ٹی آئی عوامی خدمت کا رونا رونے والی پیپلزپارٹی پاکستانی اور پوری دنیا کی امت مسلمہ کا درد رکھنے والی جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ایجنڈا کبھی مہنگائی، بے روز گاری، دہشت گردی کا شکار عوام بھی بنے گی ان کے لئے بھی کوئی دھرنا دے گا جلوس نکالے گا مظاہرے کرے گا۔

مزید : کالم