امام محمد بن عبدالواحد بن محمد دقاقؒ

امام محمد بن عبدالواحد بن محمد دقاقؒ

محمد اشرف جاوید

آپ کا نام محمد بن عبدالواحد بن محمد تھا۔ کنیت ابوعبداللہ اور لقب دقاق تھا۔

امام دقاق کی ولادت محلہ جرو آن میں 435ھ میں ہوئی جو اصبہان کا بہت بڑا محلہ ہے۔

حضرت الامام نے طلب حدیث کے لیے دور دراز کے ملکوں کے سفر کیے۔ ان میں سے نیشاپور‘ طوس‘ سرخس‘ ہرات‘ مرو‘ جرجان‘ بخارا‘ سمرقند‘ کرمان‘ بلخ بلکہ امام ذہبیؒ نے ایک سو بیس گنے ہیں۔ پہلا سفر 66 سال کی عمر میں کیا۔ جن لوگوں سے اصبہان میں حدیث لکھی‘ ایک ہزار سے زیادہ اور جن سے سفر میں استفادہ کیا ان کا شمار بھی ایک ہزار سے زیادہ ہے۔

آپ عبداللہ بن شبیب ضبی‘ احجمد بن فضل الباطرقانی‘ سعید العیار‘ ابی الفضل عبدالرحمن بن احمد الرازی۔ اصحاب ابن المقری اور شیخنا ابی القاسم بن مندہ‘ ان کے علاوہ ابن المقری کے چھ تلامذہ سے بھی مستفید ہوئے اور ہرات نیشاپور میں 70 مشائخ سے سماع کیا۔ ان سے سماع 47 سال کی عمر میں کیا۔ کثرت سفر کے باوجود بیت اللہ کی سعادت سے بھی محروم رہے۔

امام صاحب کا اپنا بیان ہے کہ میں نے پہلے پہل سرخس میں 474ھ میں حدیث املاء کرانا شروع کی اور مجھ سے امام ابوعبداللہ عمری نے سماع کیا تھا اور ابوطاہر سلفی‘ ابوسعد محمد بن عبدالواحد‘ ابوموسیٰ مدینی‘ خلیل بن بدر اور ایک جماعت نے حدیث کی تعلیم کی اور دوسری جماعت محدثہ کریمہ کو بھی آپ سے سماع حاصل تھا۔ (تذکرہ: 842۔ سیر اعلام 19/475۔ تاریخ اسلام

امام ذہبی نے لکھا ہے کہ [الحافظ الاوحد المفید الرحال] اصبہان کے رہنے والے بلند پایہ حافظ حدیث تھے۔

ان کی تعریف میں لکھا گیا:

[وعنی بہذا الفن وکتب عمن دب ودرج وکان محدثا أثریا]

امام صاحب نے اس فن کے ساتھ التزام کیا انہوں نے زندہ اور وفات پانے والے لوگوں سے حدیث کو لیا۔ امام صاحب اہل حدیث محدث تھے۔

بلکہ امام ذہبی نے تاریخ اسلام میں ان کی مدح میں الفاظ نقل کیے ہیں:

کان صالحا محدثا سنیا اثریا دینا قانعا

اور امام ذہبی اپنا تاثر یوں بیان کرتے ہیں:

قلت کان الدقاق محدثا مکثرا اثریا متبعا۔ امام صاحب میں یہ صفت بھی نمایاں تھی کہ [فقیرا متعففا] امام دقاق صالح‘ فقیر اور عفیف تھے۔ (سیر اعلام 19/475۔ تذکرہ: 843)

امام ذہبیؒ کا بیان ہے کہ سنت کی اتباع آپ کا طرہ امتیاز تھا اور اشعریوں کے سخت خلاف تھے‘ کیونکہ امام دقاق سلفی محدث تھے۔ ہر وہ کام جو سنت کے خلاف تھا اس کی تردید کرتے تھے۔

بقول امام عبداللہ بن مبارکؒ ‘ سند دین میں سے ہے:

[عن عبداللہ بن المبارک یقول: الاسناد من الدین ولولا الاسناد لقال من شاء ما شاء۔]

’’اسناد‘‘ دین میں داخل ہیں اور اگر اسناد نہ ہوتیں تو ہر شخص جو چاہتا کہہ ڈالتا اور اپنی بات چلا دیتا۔

محدثین کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے حدیث کے بیان میں سند کو بہت اہمیت دی ہے۔ تو امام دقاق غریب احادیث واسانید کو خوب جانتے تھے۔ جیسا کہ امام ذہبیؒ نے لکھا ہے امام سلفی کہتے ہیں کہ میں نے حافظ اسماعیل بن محمد سے کہتے ہوئے سنا ہے: میرے علم میں ایسا کوئی شخص نہیں جو غریب احادیث اور غریب اسانید کو ابوعبداللہ دقاق سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔

امام صاحب میں یہ بھی ایک اچھا وصف تھا کہ قلیل علم والے (محدث) اصحاب کی طرف بھی رجوع کر لیا کرتے تھے۔

امام موصوف زیادہ دولت مند نہ تھے‘ تاریخ اسلام نے لکھا ہے کہ آپ کی زندگی ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ تو نہیں گذری لیکن متوسط قسم کے انسان تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کرتے رہے اور آپ مجاہد قسم کے انسان تھے۔

امام ذہبیؒ تحریر کرتے ہیں‘ ان کا اپنا بیان ہے کہ محدثین میں اپنے دوست ابوعلی دقاق کی وجہ سے دقاق مشہور تھے۔ وہ مجھ سے پوچھتے تھے کہ ہم کس نام سے تمہارے سماع کا تذکرہ کریں؟ میں نے کہا: دقاق کے نام سے۔

علم ہدایت کا یہ چراغ شوال 516ھ کو ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔

مزید : ایڈیشن 1