سندھ میں ایپکس کمیٹی کے اہم فیصلے

سندھ میں ایپکس کمیٹی کے اہم فیصلے

ایپکس کمیٹی سندھ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا، سندھ میں انسدادِ دہشت گردی کی30مزید عدالتیں قائم کی جائیں گی، اور عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات کی موثر انداز میں پیروی کے لئے دو سو نئے پبلک پراسیکیوٹر اور اتنی ہی تعداد میں پولیس کے تفتیشی افسروں کا بھی تقرر کیا جائے گا، پولیس میں مزید آٹھ ہزار اہلکار بھرتی کئے جائیں گے،اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال اور جاری ٹارگٹڈ آپریشن کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے،کارروائی کے آغاز میں کراچی میں ملٹری پولیس کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے اور اس کے نتیجے میں دو اہلکاروں کی شہادت پر انتہائی افسوس ظاہر کیا گیا اور شہدا کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی،اجلاس میں یہ بات محسوس کی گئی کہ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تیزی آنے کے بعد دہشت گرد اب اندرونِ سندھ جا کر چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ان کا وہاں تعاقب کیا جائے گا اور اُنہیں کسی جگہ پناہ لینے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بسا اوقات دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگ بھی دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں، فیصلہ کیا گیا کہ سندھ سے ملنے والی دوسرے صوبوں کی سرحدوں پر پہلے سے موجود حفاظتی انتظامات کو اور زیادہ موثر کیا جائے گا۔

کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اگرچہ جاری ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ دہشت گردی کی وارداتیں بھی ہو رہی ہیں۔گزشتہ روز ملٹری پولیس کی گاڑی پر حملہ کر کے دو اہلکاروں کو شہید کر دیا گیا، اس سے چند روز قبل رینجرز کی موبائل پر حملہ کر کے چار اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو بھی فائرنگ کر کے شہید کرنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد ابھی سرگرم عمل ہیں،انہوں نے اپنی روش ترک نہیں کی اور اُنہیں جہاں کہیں موقع ملتا ہے وہ واردات کر گزرتے ہیں، ملٹری پولیس کی گاڑی پر جس انداز میں ٹارگٹڈ حملہ کیا گیا اور جو ہتھیار استعمال کئے گئے وہ تربیت یافتہ دہشت گردوں کا کام لگتا ہے اور ایسی تربیت عموماً بیرونِ مُلک ہی دستیاب ہوتی ہے، اِس لئے عام خیال یہ ہے کہ جن دہشت گردوں نے یہ واردات کی انہوں نے خصوصی طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کو جس انداز میں نشانہ بنایا وہ مہارت کا کام ہے، عام لوگوں کو ٹارگٹ کرنا اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر واردات کرنا دو مختلف نوعیت کے کام ہیں اور ان سے زیادہ سنسنی پھیلتی ہے، بظاہر اِن واقعات کا مقصد فورسز کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے روکنا اور اُن کا مورال پست کرنا ہے، لیکن دہشت گردوں کو شاید معلوم نہیں کہ اِس طرح فورسز کا مورال ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا،اس لئے ایپکس کمیٹی میں آپریشن تیز کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ بہت ہی بروقت ہے۔ اندرون سندھ تک توسیع دینے کا فیصلہ بھی درست ہے۔

اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لئے سندھ میں مزید عدالتیں قائم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ بھی مفید نتائج دے گا‘ پبلک پراسیکیوٹرز اور تفتیشی افسروں کی تعداد بڑھانے کی بھی ضرورت تھی۔ دہشت گردی کی تفتیش کا عمل ایک پیچیدہ کام ہے۔ مُلزم واردات کے بعد فرار ہو جاتے ہیں اور ایسی اندھی وارداتوں کا سراغ لگانا خصوصی مہارت کا کام ہوتا ہے۔ یہ دقیق اور مشقت طلب کام کرنے میں کافی وقت بھی لگتا ہے اس لئے تفتیش کاروں کی تعداد بڑھانا بہت ضروری تھا، تفتیش کا کام مکمل کرنے کے بعد مقدمات عدالتوں کے سپرد کر کے اُن کی پیروی کرنا بہت اہم ہے۔ پراسیکیوٹروں کی تعداد بڑھانے کے بعد یہ ممکن ہو گا کہ جو مقدمات عدالتوں کے سپرد کئے جائیں اُن کے بارے میں شواہد جلد از جلد عدالتی افسروں کے سامنے رکھے جائیں تاکہ وہ دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر مقدمات کے جلد فیصلے کر سکیں، عدالتوں میں زیر سماعت مقدموں کی سماعت مبں بعض اوقات تاخیر بھی اِس لئے ہو جاتی ہے کہ پیروی کرنے کے لئے پبلک پراسیکیوٹر دستیاب نہیں ہوتے،اس طرح مقدمات کا فیصلہ تاخیر سے ہوتا ہے، پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ مقدمے میں استغاثے کے حق میں کافی شواہد بھی عدالتوں کے سامنے نہیں رکھے جاتے، جنہوں نے فیصلہ بہرحال گواہوں اور دستیاب ثبوتوں کی بنا پر ہی کرنا ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات میں گواہ اول تو دستیاب نہیں ہوتے اور اگر ہو جائیں تو بسا اوقات ان کی شہادتوں کو ناکافی تصور کیا جاتا ہے اسی طرح دستاویزی ثبوت بھی اگر ٹھوس نہ ہوں تو عدالتوں سے ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص نے واقعی جرم تو کیا ہو، لیکن شہادتیں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ بری ہو جائے اس لئے صرف گرفتاریاں کافی نہیں بلکہ تفتیش اور پراسیکیوشن کا یہ کام ملزموں کی گرفتاری کی طرح توجہ کا محتاج ہے اور ایپکس کمیٹی میں بجا طور پر اس جانب توجہ دی گئی، یہ وقت کی ضرورت بھی تھی۔

سندھ پولیس میں جو آٹھ ہزار پولیس اہلکار بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ اپنی جگہ ہے لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ بھرتیاں میرٹ پر ہوں۔ سندھ پولیس کے بارے میں شکایت رہی ہے اور اب بھی ہے کہ چھوٹے درجے کے اہلکاروں کی بھرتیوں میں سفارش اور رشوت کا بہت عمل دخل ہے، سفارش بھی عموماً ارکانِ اسمبلی کی طرف سے آتی ہے وہ بھی اُن لوگوں کو پولیس میں بھرتی کرواتے ہیں جو مستقبل میں اُن کے کام آ سکیں،اس طرح جو لوگ پولیس فورس کا حصہ بنتے ہیں وہ ایک منظم فورس کے نظم و ضبط کو قبول کرنے سے زیادہ اپنے مفادات اور اپنے سرپرستوں کی ہدایت کا خیال رکھتے ہیں، اُنہیں اپنے فرائض سے بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی،جو لوگ رشوت دے کر بھرتی ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے وہ رقم رشوت لے کر پوری کرتے ہیں اور پھر خود بھی اس راستے پر چل پڑتے ہیں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کسی اصول اور ضابطے کے تحت پولیس کی نوکری کریں گے خیالِ خام ہے۔ وہ تو ذاتی مفادات پورے کرنے کیلئے قانون شکنی کے راستے پر ہی چلیں گے،ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگوں نے اپنے سفارشیوں کی ہدایت پر ہی کام کیا اور اُنہی کے مفادات کی نگرانی کی یہاں تک کہ اگر کسی جگہ آپریشن شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تو اس کی اطلاع پہلے سے مجرموں کو کر دی گئی، ایسی پولیس فورس نہ تو قانون کا کوئی خیال رکھ سکتی ہے اور نہ ہی اس سے ایسی کوئی امید رکھنی چاہئے جو آٹھ ہزار اہلکار بھرتی کئے جا رہے ہیں اگر وہ سو فیصد میرٹ پر بھرتی نہ ہوں گے تو پولیس فورس کی کوئی خدمت انجام نہ دے سکیں گے توقع ہے اس پہلو کو ملحوظ خاطر ر کھا جائے گا۔

مزید : اداریہ