توکل کیا ہے۔۔۔؟ فوزان الٰہی خانب

توکل کیا ہے۔۔۔؟ فوزان الٰہی خانب

ہم توکل میں جب تک امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کی پیروی نہیں کریں گے، ہم شاید اس وقت تک دُنیا اور آخرت میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، لیکن سوال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کا توکل تھا کیا؟ ان کے توکل کی بے شمار مثالیں ہیں، مثلاً توکل ہجرت بھی تھی۔ جب دیکھا مکہ میں رہنا مشکل ہے،کفار اہل ایمان کو بے مقصد لڑائیوں میں اُلجھا رہے ہیں، یہ لڑائیاں وقت اور توانائی کا ضیاع ہیں تو ایک ایسے شہر مدینہ کی طرف ہجرت فرما لی، جو جغرافیائی اور تجارتی لحاظ سے اہم تھا۔

*۔۔۔ توکل غزوۂ بدر بھی تھا، 2ہجری میں مکہ کے کفار نے مدینہ پر حملے کا فیصلہ کیا۔ ایک ہزار کا لشکر تیار ہوا،مدینہ میں اطلاع ہوئی تو دو آپشن تھے،وہ لوگ مدین میں بیٹھ کر دُعا کرواتے، اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا۔ چنانچہ وہ دُعا فرماتے اور کفار کے لشکر میں وبا پھوٹ پڑتی، یا مکہ میں سیلاب آ جاتا اور کافر مصیبتوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے،لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتھی گنے۔ مدینہ میں 313 ایسے مرد نکلنے جو جنگ کے قابل تھے ،تلواریں گنیں، وہ8تھیں، سواریاں دیکھیں،70 اونٹ اور 2گھوڑے تھے اور زرہیں جمع کیں، یہ3یا6 تھیں۔ یہ سامان اور یہ مجاہد لئے اور بدر پہنچ گئے۔ میدان بدر میں دشمن سے پہلے پانی کے کنوئیں کا کنٹرول لے لیا، بہترین مقام پر خیمے لگائے اور ایسی جگہ صف آراء ہوئے جو جنگی نکتہ نظر سے بہترین تھی۔ ان تمام انتظامات کے بعد اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:یا باری تعالیٰ! میرے پاس صرف یہ لوگ ہیں، اگر آج یہ لوگ بھی شہید ہو گئے تو پھر دُنیا میں تمہارا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت بھجوا دی۔

*۔۔۔ توکل غزوۂ اُحد بھی تھا،آپ نے دیکھا، اُحد کی ایک چوٹی جنگی نکتہ نظر سے اہم ہے، اگر یہاں تیر انداز بٹھا دیئے جائیں تو جنگ جیت جائیں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں تیر انداز بٹھا دیئے اور ان کو حکم دیا، جنگ کی صورت حال کچھ بھی ہو، تم نے یہ جگہ نہیں چھوڑنی۔ مسلمان ابتدائی مرحلے میں جنگ جیت گئے، تیر اندازوں نے جذباتی ہو کر وہ مقام چھوڑ دیا اور پھر اس غلطی کا خمیازہ بھگتا؟ یہ14سو سال سے تاریخ کا حصہ ہے،70مسلمان اور آپؐ کے دندان مبارک شہید ہو گئے۔ غزوۂ اُحد نے مسلمانوں کو پیغام دیا، اللہ تعالیٰ کا منتخب کردہ اور مقدس ترین لشکر بھی اگر جنگ میں غلطی کرے گا، اگر یہ حکمت عملی کے دائرے سے باہر قدم رکھے گا تو یہ بھی نقصان اٹھائے گا۔

*۔۔۔ توکل غزوۂ خندق بھی تھا، کفار نے 5ہجری کو مسلمانوں پر فیصلہ کن حملے کا فیصلہ کیا۔ 5قبائل اکٹھے ہوئے،10ہزار جوان جمع ہوئے، لشکر کو کیل کانٹے سے لیس کیا گیا اور مدینہ پر حملہ آور ہو گئے۔ مسلمانوں نے محسوس کیا،ہمارے لئے کھلے میدان میں ان کا مقابلہ مشکل ہو گا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے احباب سے مشورہ کیا۔سیدنا سلمان فارسیؓ نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا، مشورہ پسند آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام صحابہؓ کو ساتھ لیا، جن کے روحانی مقام تک دُنیا کا کوئی ولی، صوفی، قطب، صاحب دعا اور متوکل آج تک نہیں پہنچ سکا، وہ سب اُٹھے اور مدینہ کے گرد خندق کھو دی، دشمن کا لشکر آیا، خندق کے سامنے پہنچ کر بے بس ہوا،اللہ کے نبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصرت دُعا کی اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے خیمے اکھاڑ دیئے۔

*۔۔۔ توکل تین عناصر کا مجموعہ ہوتا ہے، تیاری، حکمت اور دُعا۔ وہ جانتے تھے تیاری کے لئے علم چاہئے، حکمت کے لئے عمل درکار ہے اور دُعا کے لئے اللہ پر پختہ یقین چاہئے۔ یہ دُنیا حقائق کی دُنیا ہے، مشرق سے لے کر مغرب تک اور زمین کی ساتویں تہہ سے لے کر ساتویں آسمان تک حقائق ہی حقائق ہیں۔ ہم اگر اپنی سستی، اپنی کم علمی، اپنی کم فہمی اور اپنی نالائقی کو تصوف کا نام دے کر ان حقائق سے آنکھیں چرانا چاہیں تو الگ بات ہے، ورنہ یہ حقائق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں۔ اللہ کے زیادہ تر نبیوں کو جنگ کے میدان میں بھی اترنا پڑا، سکون اور امن کی تلاش میں ہجرتیں بھی کرنا پڑیں۔ سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ پر جب دشمنوں نے حملہ کیا تو یہ تمام تر روحانیت، تصوف اور توکل کے باوجود زخمی اور متاثر ہوئے۔ انہیں دوا اور حکیم کی ضرورت بھی پڑی، وہ دوائیں دنیاوی تھیں، وہ اس وقت بھی یونانی، ہندی اور چینی کہلاتی تھیں۔ وہ ہستیاں جب دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم کو تسلیم کرتی تھیں تو آج ہم دین اور دُنیا کے علم کو توکل کے خلاف کیوں قرار دے رہے ہیں؟

ہم مسلمانوں کو بہرحال یہ ماننا ہو گا، اللہ کی مدد مانگنے سے پہلے بدر میںآنا پڑتا ہے، پوری تیاری کرنا پڑتی ہے اور آپ اگر313ہیں تو آپ کو وہ 313 میدان میں لانے پڑتے ہیں۔ہمیں اس مغالطے سے بھی باہر آنا ہو گا کہ ہم پر دواء سے لے کر میزائل اور گاڑی سے لے کر جہاز تک مغرب کی تمام مصنوعات حلال ہیں، لیکن ان مصنوعات کی ایجاد حرام ہے۔ہمیں یہ طریقہ بھی ترک کرنا ہو گا، جس میں پیر صاحب،حضرت صاحب، امام صاحب اور مولانا صاحب پوری زندگی لوگوں کو تعویذ دیتے ہیں، ان کے پانی میں شفاء کی پھونک مارتے ہیں اور ان کے کندھے پر تھپکی دے کر انہیں توکل کے راستے پر روانہ کرتے ہیں، لیکن جب خود زکام میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہودی اور عیسائیوں کی دوائیں کھاتے دیر نہیں لگاتے۔ یہ لوگ اپنے لئے جرمن گاڑیاں پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو فاقہ مستی اور اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کا درس دیتے ہیں۔ہم کتنے بدنصیب ہیں کہ علم کے بغیر مچھر کو نہیں سمجھ سکتے؟ لیکن ہم جاہل رہ کر اللہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں؟ کیا ہمیں اب تضاد سے باہر نکلنا چاہئے؟

***

مزید : ایڈیشن 1