امریکہ میں دہشت گردی:قابلِ مذمت!

امریکہ میں دہشت گردی:قابلِ مذمت!

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے ابھی دو روز قبل کہا کہ امریکہ کو پاکستان میں دہشت گردی کے اڈے ہونے پر تشویش ہے اور پاکستان کو یہ اڈے ختم کرنا چاہئیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی پاک فوج کی کارروائیوں کی تعریف بھی کر دی، امریکی وزیر دفاع کے فرمان کی ابھی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ لاس اینجلس میں معذوروں کے ایک مرکز پر مسلح افراد نے فائرنگ کر دی اور12افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امریکی میڈیا کی خبروں کے مطابق حملہ آور فوجی وردی میں تھے اور ان کے پاس جدید بھاری اسلحہ تھا، خصوصی فورس کے جوانوں نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا کہ وہ ادارے کے ارکان کو یرغمال بھی بنائے ہوئے تھے،ابھی تک مکمل تفصیلات مہیا نہیں کی گئیں، تاہم موصولہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ مارے جانے والے حملہ آوروں میں ایک کی شناخت قاسم کے نام سے ہوئی، دوسرے معنوں میں حملہ آور مسلمان قرار دیئے گئے ہیں تاہم وہ امریکی ہیں۔امریکہ میں ہونے والی اس واردات کی بھی بھرپور اور پُر زور مذمت کی جانا چاہئے کہ کسی کو بھی کسی دوسرے کے قتل کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا اور جو بھی ملزم ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ جو عالمی تھانیدار ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عراق افغانستان اور شام تک کو تاراج کر چکا،اب اس کا وزیر دفاع پاکستان میں دہشت گردی کے اڈوں کا الزام دہرا رہا ہے کہ اس سلسلے میں امریکہ نے کبھی اپنے تحفظات کو نہیں چھپایا اور اب اگر امریکہ کی اپنی اہم ریاست میں دہشت گردی کی ایسی واردات ہو گئی ہے تو کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ میں بھی دہشت گردی کے اڈے موجود ہیں۔ کیا یہ بہتر عمل اور بیان تھا جو امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے دیا؟

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا، اس کی وجوہ اور ابتدا تلاش کی جائے تو بات دور تک جائے گی تاہم یہ امر بالکل روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ دہشت گردی کو برداشت نہیں کر سکتا اور پاکستان تو ایک مسلمان اور اسلامی مُلک ہونے کے باوجود مسلمان دہشت گردوں ہی کے ساتھ نبرد آزما ہے، بلکہ ان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ امریکہ کو تو اس جنگ میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے اور صرف زبانی نہیں، عملی طور پر تسلیم کرنا چاہئے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف پاک فوج نبرد آزما ہے۔ وزیرستان سے ان کا صفایا کیا جا چکا اب بھی ان کے خلاف جنگ جاری ہے۔ پاکستان دُنیا بھر کے تمام ممالک کی نسبت زیادہ نقصان اُٹھا چکا ہے اور اب بھی اُٹھا رہا ہے۔ ایسے میں جدوجہد کی تعریف اور اس میں معاونت ضروری ہے یا الزام تراشی؟لاس اینجلس میں ہونے والی دہشت گردی بری ہی نہیں بہت زیادہ بری اور قابلِ مذمت ہے، تاہم امریکہ کو دُنیا بھر میں یہ جواب تو دینا ہو گا کہ دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ جہاں جو ہو رہا ہے اسی کے مطابق عمل ہو یہ نہیں کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہو، دہشت گردوں سے حالت جنگ میں ہو، اس کے جوان شہید ہو رہے ہوں اور پھر یہ کہا جائے کہ دہشت گردی کے اڈے پاکستان میں ہیں، اس لئے بہتر عمل تو تعاون ہے جو سب کو اس برائی کو ختم کرنے کے لئے کرنا چاہئے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی وجوہات بھی دور کی جائیں اور جہاں جہاں ریاستی دہشت گردی ہو رہی ہے وہاں بھی کارروائی کی جائے۔اگر امریکہ جیسے ترقی یافتہ مُلک میں ایسی وارداتیں ہو سکتی ہیں تو پھر پاکستان پر الزام کیوں؟

مزید : اداریہ