ٹیکسلاکابلدیاتی الیکشن چوہدری نثاربمقابلہ غلام سرورخان

ٹیکسلاکابلدیاتی الیکشن چوہدری نثاربمقابلہ غلام سرورخان

پانچ دسمبرکوٹیکسلامیں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں بلدیہ ٹیکسلاکی 22وارڈزجبکہ دیہی سرکل کی 8یونین کونسلوں میں کانٹے دارمقابلے ہونے کاقوی امکان ہے جبکہ متعددپولنگ اسٹیشن کوبھی حساس قراردیاجاچکاہے۔ ٹیکسلاشہرکی 22وارڈز کی حالیہ سیاسی فضائیں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ بلدیہ ٹیکسلاکی تمام وارڈزمیں حکمران جماعت مسلم لیگ ن اورپاکستان تحریک انصاف کے نامزدامیدواروں کے مابین انتہائی کانٹے دار مقابلے ہوں گے جبکہ۔ پیپلزپارٹی نے بھی ایک وارڈمیں اپنا امیدوار نامزدکرکے ’’اُنگلی کٹا کر شہید وں میں نام‘‘ لکھوادیاہے اوربلاشبہ بلدیہ ٹیکسلامیں پیپلزپارٹی کاواحدنامزدامیدوارحسنین شاہ ہے جون لیگ اورپی ٹی آئی کے امیدواروں سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ ہے ۔ٹیکسلاشہرکی 22وارڈزمیں پی ٹی آئی اورن لیگ کے متعددامیدوارایسے بھی ہیں جوجیتنے کی پوزیشن میں ہیں جن میں ملک پرویزاعوان (ن لیگ)،ملک مشتاق (پی ٹی آئی )،شیخ ساجدمحمود(ن لیگ)،ملک پرویز ٹھیکیدار (ن لیگ) ، عترت حسین شاہ (پی ٹی آئی)،سیدمہتاب حسین شاہ (پی ٹی آئی)شامل ہیں ۔ٹیکسلاکی سیاست کااگرجائزہ لیاجائے تو بلاشبہ ٹیکسلاکی سیاست ممبرقومی اسمبلی وتحریک انصاف کے مرکزی رہنماغلام سرورخان اوران کے روایتی سیاسی حریف وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکے گرد گھومتی ہے جبکہ پانچ دسمبرکوہونے والے بلدیاتی الیکشن میں بھی اصل مقابلہ ایم این اے غلام سرورخان اوروفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے مابین ہی ہوگا۔چوہدری نثار علی خان کے امیدواروں کوحکومتی امیدوارہونے کافائدہ مل رہاہے جبکہ غلام سرورخان کاسیاسی دھڑا بھی گذشتہ کافی عرصہ سے ہرسیاسی محاذپرناقابل شکست چلاآرہاہے۔ اگرماضی قریب میں ہونے والے ٹیکسلااورواہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج دیکھیں جائیں تو ٹیکسلا واہ کینٹ واحدشہرہیں جہاں سے پی ٹی آئی کے نامزدامیدوارنہ صرف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے بلکہ ٹیکسلاکینٹ سے توپی ٹی آئی نے کلین سویپ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کوعبرتناک شکست سے دوچارکیاتھا ۔اسی طرح اگر مزید تھوڑاماضی میں جاتے ہوئے 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج دیکھیں توٹیکسلا کی ایک قومی اوردوصوبائی اسمبلی کی نشستو ں پر پی ٹی آئی کے غلام سرورخان ایم این اے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی محمدصدیق خان ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جبکہ دونوں نشستوں پردونوں بھائیوں نے چوہدری نثار علی خان جیسے مضبوط امیدوارکوشکست سے دوچار کردیاتھا حتیٰ کہ ٹیکسلاسے صوبائی اسمبلی کی دوسری نشست پر بھی پی ٹی آئی کے ملک تیمورمسعودکامیاب قرار پائے تھے ۔تواس طرح اگرماضی کے تناظرمیں ٹیکسلا میں پانچ دسمبرکوہونے والے بلدیاتی الیکشن کو دیکھا جائے تو یہ کہاجاسکتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مزیدسرپرائزبھی دے سکتی ہے اوریہ بات بھی ہمیں مدنظررکھناہوگی کہ ممبرقومی اسمبلی غلام سرورخان اوران کے چھوٹے بھائی ایم پی اے محمدصدیق خان کی ٹیکسلا میں سیاست میں گرفت کافی مضبوط ہے اور ان کاسیاسی دھڑا غلام سرور خان کی قیادت میں متحد ہے ۔اسی طرح چوہدری نثارعلی خان کے سیاسی رفقاء بھی اپنے قائدکی ہدایات پرعمل پیراہوتے ہوئے انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے رہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹیکسلاشہرکی تمام وارڈزمیں کلین سویپ کریں گے ۔اگرحقائق سامنے رکھتے ہوئے ٹیکسلا کی بلدیاتی سیاست کوپرکھاجائے تومشرف دورمیں غلام سرورخان کاگروپ بلدیاتی سیاست پرکچھ اس طرح حاوی رہاکہ سرورخان کے چھوٹے بھائی موجودہ ممبرصوبائی اسمبلی محمدصدیق خان یہاں سے دوبارتحصیل ناظم منتخب ہوچکے ہیں اوریہ بھی یادرہے کہ اُس وقت ٹیکسلا کی دس میں سے 9یونین کونسلوں میں غلام سرورخان گروپ کامیاب ہواتھا ۔ اس لئے پانچ دسمبر کوہونے والے بلدیاتی الیکشن میں بھی حکومتی جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں کو غلام سرورخان کے حمایت یافتہ امیدواروں سے نبردآزماہوناپڑے گا اوراگریہ کہا جائے کہ اس بلدیاتی الیکشن میں ٹیکسلاکی ہروارڈمیں اصل مقابلہ چوہدری نثارعلی خان اور غلام سرور خان کے مابین ہوگاتوغلط نہ ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 2