جھنگ کے بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے دھڑوں کی باہمی معرکہ آرائی

جھنگ کے بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے دھڑوں کی باہمی ...

پنجاب دیگر 12اضلاع کی طرح ضلع جھنگ میں بھی بلدیاتی انتخابات 5 دسمبر کو منعقد ہو رہے ہیں جس کے لیے میدان سج گیا ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک طرف الیکشن کمیشن پاکستان اپنی انتخابی ضابط اخلاق کا ڈھنڈوراپیٹنے میں مصروف ہیں مگر دوسری جانب جھنگ میں با اثر ارکان اسمبلی اور حکومتی پارٹی کی اہم شخصیات سمیت ان کے کارندوں کی جانب سے ضابط اخلاق کی کھلے عام دھجیاں بکھیری جارہی ہیں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلیوں کو کروڑوں روپے کی خصوصی گرانٹس جاری کی گئیں ہیں اور وہ ان رقوم سے اپنے من پسند بلدیاتی امیدواروں کے حلقوں میں راتوں رات تعمیراتی و ترقیاتی کام کروا رہے ہیں جن میں بد ترین کرپشن بھی جاری ہے نیز ارکان اسمبلی خود گھر گھر جاکر اپنے امیدوروں کے حق میں ووٹ مانگ رہے ہیں تاہم مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے مقامی ممبر قومی اسمبلی اور ممبر صوبائی اسمبلی سمیت سابق شہری ایم پی اے کے درمیان کھل کر اختلافات سامنے آ چکے ہیں لیکن اہم ترین امر یہ ہے کہ شیخ برادری سے تعلق رکھنے والے ان دونوں ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں نے زیادہ تر حلقوں سے شیخ برادی کے امیدواروں کو ترجیح دی ہے جس سے شہر میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ ایک سازش کے تحت جھنگ کی قومی وصوبائی اسمبلی کی شہری نشست پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد اب میونسپل کمیٹی جھنگ کو بھی مذکورہ شیخ خاندان کی جاگیر میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس پردیگر گروپ یکجا ہو گئے ہیں اس طرح جھنگ میں صورت حال انتہائی دلچسپ رخ اختیار کر رہی ہے یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہ ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موجود مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی نے اپنی پسند کے تعینات کر وائے گئے بیورو کریٹس کے ذریعے ایسی حلقہ بندیاں کروائی ہے کہ جس سے ان کے بیٹوں، بھتیجوں ،رشتہ داروں کی نشستوں کو مخفوظ بنا لیا گیا ہے اور یہ حلقے 3500سے 4000ووٹوں پر مشتمل کر لیے گئے ہیں مگر جن حلقوں میں مخالفین کے پوزیشن مضبوط ہے وہاں حلقے بڑے کر کے انہیں 6000سے 6500ووٹوں تک بڑھادیا گیا ہے تاکہ مخالفین کے لیے مشکلات پیدا کی جا سکے۔

ضلع کونسل کی چیرمین /وائس چیرمین کی91 سیٹوں جبکہ جنرل کونسلر کی 91وارڈ کونسلر546،نشیستوں پرمیدان لگے گا اس طرح ضلع جھنگ کی5میونسپل کمیٹیوں جھنگ، شورکوٹ،احمد پور سیال، گڑھ مہاراجہ، اٹھارہ ہزاری میں 109 کونسلرز کی نشستوں کے لیے بھی کانٹے دار مقابلے ہونگے الیکشن کمیشن آف پاکستان ضلع جھنگ کے ترجمان نے بتایا کہ قبل ازیں گیارہ مئی 2013کو ہونے والے عام انتخابات میں ضلع جھنگ کے ووٹرز کی کل تعداد1140293تھی مگر اس کے بعد حالیہ اڈھائی سالوں میں 100660نئے ووٹوں کا اندراج کروایا گیا ہے اس طرح اب 5دسمبر کو 1240953ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گئے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 710348 ہے اورخواتین ووٹرز کی تعداد530605ہے جن کے لیے1075 پولنگ اسٹیشن اور2918 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں ان میں مردوں کے لیے 101 خواتین کے لیے100 مشترکہ874 پولنگ اسٹیشن شامل ہیں انہوں نے بتایا کہ امن امان کی صورتحال کے حوالے سے پولنگ اسٹیشن کو مختلف کیٹگریزمیں تقسیم کیا گیا ہے اور 114پولنگ اسٹیشن اے کیٹگری کے انتہائی حساس ، 134بی کیٹگری کے کم حساس جبکہ باقی سی کیٹگری کے نارمل پولنگ اسٹیشن ڈکلیئر کیے گئے ہیں جہاں پولیس کے علاوہ رینجر،ز فوج ،ایلیٹ فورس ،گشتی پولیس ،ریزوو پولیس ،قومی رضاکاروں کے دستے تعینات کیے جائے گے۔ جھنگ کے 50شہری حلقوں کے لیے 3ریٹرنگ آفسران کا تقرر کیا گیا ہے جن میں اسسٹنٹ کمشنر جھنگ عمران عصمت پنوں ،ای ڈی او فنانس طارق لک،ای ڈی کمیونٹی ڈوپلمنٹ خالد راجو شامل ہیں 101 پریذائیڈنگ آفسران، 100خواتین پرزائیڈنگ آفسران 2935مردو خوتین پولنگ آفسران کا تقرر کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں ۔دوسری جانب مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف اور پاکستان راے حق پارٹی کے امیدوران اپنی اپنی کامیابی کے لیے پر سنجیدہ عوامی ،سیاسی ،سماجی،حلقوں نے جھنگ کے با شعور عوام سے اپیل کی ہے کہ جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کے لیے کوششں نہیں کریں گئے اس وقت تک شہر کی حالت نہیں بدل سکتی اور بلدیاتی انتخابات ان کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے اہل افراد کا چناؤ یقینی بنائیں تاکہ جھنگ کو پسماندگی کی دلدل سے نکالا جا سکے ۔

***

مزید : ایڈیشن 2