سیالکوٹ میں مسلم لیگ(ن) کے ناقابلِ تسخیر قلعے کو سر کرنے کے لئے تحریک انصاف پُرعزم

سیالکوٹ میں مسلم لیگ(ن) کے ناقابلِ تسخیر قلعے کو سر کرنے کے لئے تحریک انصاف ...

ضلع سیالکوٹ میں بلدیاتی الیکشن کا آخری مرحلہ آن پہنچا ہے۔جنرل الیکشن میں ضلع سیالکوٹ سے مسلم لیگ ن کی پانچ قومی اسمبلی اور گیارہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے مسلم لیگ ن نے کلین سویپ کیا تھا ۔اب بلدیاتی الیکشن میں بھی دلچسپ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ۔عوامی سروے ، پہلے دو مرحلوں کے الیکشن نتائج اور ضلع سیالکوٹ کے جنرل الیکشن کے مطابق تو مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدواروں کی تعداد زیادہ ہو گی تاہم مسلم لیگ ن کے ناقابل تسخیر قلعے کو سر کرنے کے لئے تحریک انصاف کا سونامی پر عزم ،تحریک انصاف مسلم لیگ ن کے مضبوط قلعے میں شگاف کرپائے گی فیصلہ کل5دسمبر کو ہوگا۔

ضلع سیالکوٹ کے بلدیاتی الیکشن میں کل 20لاکھ 11ہزار912ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 11لاکھ 65ہزار 351 مرد اور 8لاکھ 46 ہزار 561خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ضلع سیالکوٹ میں ضلع کونسل کی 124 اور میونسپل کارپوریشن سیالکوٹ کی 24یونین کونسلوں اور تین میونسپل کمیٹیوں جن میں تحصیل ڈسکہ ، پسرور اور سمبڑیال کی بالترتیب 30،26اور20وارڈوں میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے لئے فائنل پولنگ اسکیم جاری کی جاچکی ہے۔ ڈی سی او سیالکوٹ نے بتایاکہ انتخابات کے لئے 1544کل پولنگ اسٹیشن قائم کردیئے گئے ہیں جن میں331مردوں اور 331ہی عورتوں کے لئے پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں جبکہ 882 کمبائنڈ پولنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں ۔ ضلع سیالکوٹ میں ہونے واے انتخابات میں 4ہزار 333پولنگ بوتھ بنائے جائیں گئے جن میں 2446مردوں اور1887خواتین کیلئے پولنگ بوتھ مختص ہونگے ۔ ڈی پی او سیالکوٹ رائے اعجاز احمد نے بتایا کہ ضلع سیالکوٹ میں 85پولنگ اسٹیشن کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے اور ان کو اے پلس کیٹیگری میں رکھا گیا ہے اسی طرح 300حساس پولنگ اسٹیشنوں کو اے کیٹیگری اور 1159کوبی ۔کیٹیگری میں رکھا گیا ہے جہاں پر امن وامان کو برقرار رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ضلع سیالکوٹ میں پولنگ اسٹیشنوں اور انتخابات کے عمل کے پُر امن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے 5631پولیس کے جوانوں کے علاوہ پاک فوج کی 4 اور رینجرز کی ایک کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کیلئے ہمہ وقت موجود چوکس رہیں گے ۔

ادھر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ کہیں شیر دھاڑیں مار رہا ہے تو کہیں بلے کا دور دورہ ہے، آزادامیدواروں کی عوامی مقبولیت سے بھی انکار ممکن ہے نہ انحراف،پانچ دسمبر کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ پولنگ میں صرف چند گھنٹے باقی ہیں امیدواروں نے کمرکس لی ہے ۔ ہر طرف سڑکوں ، گلی محلوں اورچوکوں چوراہوں میں امیدواروں نے اپنے اپنے نشانات بالٹی ، ہیڑا ، بلا ، شیر اور دیگر کئی ایک نشانات کے ساتھ اپنی تصویریں لگا رکھی ہیں اور اپنی اپنی یونین کونسل میں ڈور ٹو ڈور اپنے نشانات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔امیدواروں کے حامیوں نے اپنی گاڑیوں ، گھروں ، دکانوں اور ڈھیروں کو مختلف انوکھے پارٹی نشانات کے نمونوں سے سجا رکھا ہے ۔ کہیں گاڑیوں کے اوپر بندھے ہوئے مصنوعی شیر، کہیں بلے کی یلغار اور کہیں بالٹی کی بھرمار نظر آرہی ہے تاہم رات کے اندھیروں میں جگمگاتے ہوئے ہیرے کے نشانات اور بالٹیوں میں رکھے ہوئے بلب خوبصورت سماں پیدا کئے ہوئے ہیں ۔آزاد امیدواروں کو اکثریت میں بالٹی اور ہیرے کے نشانات آلاٹ ہوئے ہیں جسکی وجہ سے بازار میں بالٹیاں نایاب ہو چکی ہے۔ایک سروے کے مطابق بالٹی کی قیمت میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بلا شبہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کی طرح حسب سابق اس مرحلے میں بھی بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی کامیاب ہونگے کیونکہ یونین کونسل کا الیکشن امیدوار کی ذاتی حیثیت میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بلدیاتی الیکشن میں عوام زیادہ تر اپنے گلی ، محلے اور علاقہ کے دوستوں اور ساتھیوں کو سیاسی جماعتوں پر ترجیح دیتے ہیں اور اکثر وبیشتر اپنا ووٹ جماعتوں کے حق میں نہیں بلکہ امیدواروں کے حق میں کاسٹ کرتے ہیں۔یونین کونسل کی سطح پر میدان مارنے کیلئے مظبوط سیاسی بیک گراؤنڈ اور خدمت خلق کے جذبہ سے سر شار امیدواروں کا ا پنا ذاتی ووٹ بنک ریڑ ھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔امیدوار اپنے اپنے ووٹروں اور اہل علاقہ کے عوام کو ووٹ کے لئے قائل کر رہے ہیں ۔ ہرامیدوار خود کو غریبوں کا ساتھی ، مزدوروں کا حامی ، ملک کا خادم، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محب وطن ظاہر کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے لیکن اب عوام باشعور ہو چکے ہیں اور اپنے پرائے ، کھرے کھوٹے کا فرق خوب جانتے ہیں ۔گلی محلے کی سطح پر عوام اور بالخصوص امیدوار وں کا جوش دیدنی ہے۔ بلدیاتی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اختیارات اپنی حد تک محدود ر نہیں رکھنے چا ہیے ۔ بلدیاتی حکومتوں کو قائم کرکے انہیں زیادہ با اختیار کیا جائے تاکہ عوام کے مسائل کا تدارک حقیقی معنوں میں نچلی کی سطح پر ہو سکے۔ بلدیاتی اداروں کے منتخب کونسلرز ،نائب ناظمین اور ناظمین کی موجودگی میں ماضی میں ہر گلی اور ہر محلے میں ہزاروں چھوٹے بڑے ترقیاتی کام ہوئے جس سے پتہ چلتا تھا کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی اتھارٹی موجود ہے اس لئے جب تک بلدیاتی الیکشنوں کے نتیجے میں بلدیاتی حکومتیں قائم نہیں ہوتی اس وقت تک گلی محلوں کے ترقیاتی کاموں میں عوام کے زہنی ودلی جذبات کی ترجمانی مشکل ہے ۔ ادھرضرورت اس امر کی ہے عوام ایسے لوگوں کو اپنے ووٹ کی قیمتی طاقت سے نوازیں ۔جن کے اندر مخلوق خدا کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو اور جو حقیقی معنوں میں عوام کے حقوق کی جنگ لڑ سکیں ۔ووٹ قوم کی مقدس امانت ہے اس کاا ستعمال بھی مقدس طریقے سے کرناچاہئے تاکہ ملک حقیقی معنوں میں ترقی وخوشخالی کی راہ پر گامزن ہو سکے ۔تمام مکاتب فکر کے افراد کو چاہئے کہ بلدیاتی الیکشن میں بھرپور حصہ لیں اپنا ووٹ کاسٹ کریں اور اسے پر امن بنانے کیلئے اپنا بھرپور مثبت وموثر کردار ادا کریں ۔

مزید : ایڈیشن 2