قاری محمد گل شیر مرحوم (دوسری و آخری قسط)

قاری محمد گل شیر مرحوم (دوسری و آخری قسط)

قاری صاحب کے آبائی علاقے ضلع اٹک میں عمومی طورپرمذہبی حلقوں کے عوام کارجحان’’ جمعیت اشاعت التوحیدوالسنہ ‘‘کی طرف ہے۔ اسی طرح گجرات میں بھی حضرت سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ ، کے مدارس ومساجد کا ایک وسیع سلسلہ ہے۔ مولاناغلام اللہ خانؒ ، سیدعنایت اللہ شاہ بخاریؒ وغیرہ کا قاری صاحب کے آبائی علاقے چکوال، اٹک اور رہایشی علاقے گجرات دونوں میں خاصاحلقۂ اثرہے۔ آپ کے اساتذہ وشیوخ کافطری جھکاؤبھی اسی طرف تھا۔ اکثر دیوبندی(مماتی) اساتذہ سے پڑھنے کی وجہ سے مسلکی شدت آپ کے ہاں بھی بہت پائی جاتی تھی۔ اس سوچ وفکر کے حامل مدارس میں اس دور میں جومودودیؒ مخالف جذبات کی شدت تھی وہ فطری طورپر مرحوم کے دل ودماغ میں سرایت کیے ہوئے تھی۔ وہ خودفرماتے ہیں کہ ’’میں مولانا مودودی محترم کا نام دیکھ کرکوئی توہین آمیز الفاظ لکھنا اوربددعائیں دینا عبادت سمجھتاتھا۔ یہ قاری صاحب ہی کا مسئلہ نہ تھا، ان مدارس کے اکثر طلبہ اور اساتذہ کی یہی سوچ تھی، مگر ان میں سے ایک اچھی خاصی تعداد جنھوں نے سیدمودودیؒ کی تحریریں پڑھنے کی زحمت کی یا یوں کہیے کہ سعادت حاصل کی، ان کی زندگی میں انقلاب آگیا۔

جماعت کی طرف مائل ہونے کا تذکرہ یوں فرماتے تھے: گجرات میں آنے کے بعد ایک دن گزرتے گزرتے کابلی گیٹ میں موجودجماعت اسلامی گجرات شہرکے دفتراوردارالمطالعہ کے بورڈ پرنظرپڑی اورمیں اندرچلاگیا۔ وہاں موجودساتھیوں نے تپاک اور احترام سے ہاتھ ملایااورچائے پلائی۔ واپس آتے ہوئے’’ ترجمان القرآن ‘‘کاتازہ شمارہ ان کی اجازت سے بغرض مطالعہ لے آیا۔ ان دنوں ’’تفہیم القرآن‘‘ قسط وار ’’ترجمان‘‘میں چھپ رہی تھی جسے پڑھا۔ اسی طرح مولاناکے لٹریچرکے دوسرے اقتسابات بھی پڑھے تواندازتحریردل کوبھاگیااوردل چسپی بڑھنے لگی۔ دوبارہ گیا تو مزید لٹریچر مطالعے کے لئے لے آیا اور اس طرح بتدریج ذوق مطالعہ کی آبیاری ہوئی۔یوں کہیے کہ دل ودماغ روشن ہوئے اور مخالفت کی گردچھٹنے لگی۔ شدیدنفرت ،پہلے اعتدال میں بدلی، پھرمانوسیت واپنائیت نے اس کی جگہ لے لی جوعقیدت میں ڈھلتی چلی گئی۔

ترجمان کے صفحات میں تفہیم کا مطالعہ بہت دل چسپی اور شوق سے کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعد’’ترجمان‘‘میں اشتہارپڑھا کہ تفہیم القرآن کی چوتھی جلدچھپ گئی ہے۔ مدرسے کے ایک ہمسائے، آرمی میں میجرتھے، ان سے کچھ رقم ادھارلے کرلاہورچلاگیا اورتفہیم القرآن کی دستیاب تمام جلدیں خریدیں۔ مرحوم فرماتے تھے کہ مجھے جاتے ہوئے معلوم نہیں تھاکہ جہاں جارہاہوں، وہاں صاحب تفہیم القرآن بھی تشریف فرماہیں۔ لیکن انجانے میں ان پرنظرپڑی۔ ہوا یوں کہ میں 5۔ اے ذیلدار پارک اچھرہ کے اندر بیٹھا تھا۔ باہر کے لان میں مولانا کی تشریف آوری پر موجود لوگوں کی حرکات وسکنات ،ادب واحترم کی کیفیت دیکھ کرذہن میں یہ توآیاکہ یہ کوئی مشہور شخصیت ہیں مگریہ ذہن وگمان میں بھی نہ تھاکہ یہی ’’صاحب تفہیم القرآن ‘‘ہیں۔ نمازعصرکے بعدلوگوں کے ساتھ ملاقات اورسوال وجواب کی نشست ہوئی تووہ شخصیت دل میں گھرکرگئی۔ خوب صورت ووجیہہ چہرہ ، لہجے کاوقار، شخصیت کا بانکپن، اجلانکھرالباس، غرض پورا سراپابہت متاثرکن تھا۔ نشست ختم ہوئی توقریب بیٹھے ایک نوجوان سے پوچھاکہ یہ محترم شخصیت کون ہیں؟ اس نے حیرت واستعجاب سے میری طرف دیکھااورپھربتایا کہ یہ مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ ہیں۔ تب میں نے گم صم ہوکران کے پرنورچہرے پر پھر نظریں گاڑدیں۔ نمازمغرب ان کی امامت میں اداکی تواس نماز کابے پناہ لطف آیا۔ نمازکے بعددوسروں کی طرح میں نے بھی ہاتھ ملایااورتعارف کروایا تومولانا نے گجرات کے دو،تین جماعتی ساتھیوں کی بابت دریافت فرمایا اور دعا دی۔ اورمیں وہاں سے پرانے تصورات، جوذہن میں قائم تھے، کوچھوڑکرمولانا کی اجلی شخصیت کا سراپادل ودماغ میں بساکرگجرات واپس آیا۔ اس وقت تک دستیاب لٹریچرکاخوب مطالعہ کیا ، پھرجماعت اوراس کی دعوت میراعشق بن گیا۔

آپ کے رفقا کار آپ کی جدائی پرشدیدغمزدہ تھے۔ میں نے جنازہ پڑھانے سے قبل مرحوم کے متعلق اپنی چند یادوں کا تذکرہ کیا تو حاضرین کو زاروقطار روتے دیکھ کر میرے اوپر بھی عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ میں نے سب سے عرض کیا کہ ’’اس عظیم استاد اور مربی کے عظیم مشن کوجاری رکھنے کے لئے مکمل طور پر اس جیسا عزم اختیار کرنا ضروری ہے اور یہی ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ سب دوستوں کے علم میں ہے کہ 1970ء کی دہائی کے اواخرمیں جب مدرسہ میں طلبہ کی تعدادبڑھی توآپ نے اپنے عم زادامیرزمان صاحب کے بیٹے قاری محمداسلم صاحب کواپنے پاس بلالیا جو غم میں ڈوبے ہوئے اس وقت میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کی معاونت سے کام میں مزیدبہتری ہوئی ، قاری اسلم صاحب کاشمارآپ کے معتمدتریں رفقا میں ہوتاہے۔ 1990ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں آپ کے بھتیجے قاری محمدطیب صاحب جواعلیٰ پائے کے مدرس ،انتہائی پختہ حافظ اورجیدقاری ہیں، نے بھی آپ کے ہاں تدریس کی ذمہ داری سنبھالی اورآپ کی زندگی میں بطورناظم اعلیٰ ادارے میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ہم سب ان کے لئے دعاگو ہیں کہ یہ مرحوم کا مشن بحسن وخوبی جاری رکھ سکیں۔ قاری گل شیر صاحب کی رحلت کے بعدقاری محمداسلم صاحب اور قاری محمدطیب صاحب کونائب مہتمم کی ذمہ داری جامعہ کی شوریٰ نے سونپ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھانے اور اپنے عظیم پیش رو کی تابندہ روایات کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!‘‘

آپ کے تلامذہ کی تعدادبلاشبہ ہزاروں میں ہے۔ ان میں حفاظ ، علما اورقراء کی کثیرتعدادہے۔ بلکہ ہرشعبہ زندگی میں مثلاً ڈاکٹرز،وکلاء، انجینئرز، صحافی ، مقامی سیاست دان اوردیگرطبقات زندگی میں آپ کے شاگرداورفیض یافتگان موجود ہیں، مگرخصوصی طورپرآپ کے خاندان اورقریبی اعزہ واقربا نے آپ کی شفقت اورمحبت کاوافرحصہ پایاہے۔ آپ کے بھانجے ،بھتیجے اورکزنوں کے بچے ،برادران وخواہرانِ نسبتی کی اورلادیں اورپورے پورے گھرانے آپ کے سایہ شفقت میں آئے۔ حفظ وتجویداورقرأت سیکھی ، عصری علوم سیکھے اورآج اپنے اپنے شعبے میں بھرپورطریقے سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ سب آپ کے جانشین اور آپ کے لئے صدقہ جاریہ اورذخیرۂ آخرت ہیں۔ خاندان کے ان حفاظ کی تعدادسینکڑوں میں ہے اورہرگھرمیں چارچار،پانچ پانچ حفاظ موجودہیں۔ حافظ محمدسعیدجوآپ کی خواہرنسبتی کے بیٹے ہیں،بچپن سے آپ کے پاس مقیم رہے۔حفظ کیااورتجویدپڑھی ،صرف ونحواورتحریروتقریرآپ کے زیرسایہ اوررہنمائی میں رہ کرسیکھی۔ عصری تعلیم ایف۔اے تک دلوائی اورپھرانہیں جامعہ عربیہ گوجرانوالہ میں داخل کروایا، ہرقدم پررہنمائی فرمائی اور ان کی تربیت کی بدولت موصوف جمعیت طلبہ عربیہ کی مرکزی اورصوبائی مختلف ذمہ داریوں پرفائض رہے۔ دروہ حدیث جامعہ منصورہ سے کیااورکافی عرصے تک سے جامعہ کے مالیاتی امورکی ذمہ داری ہے۔ ابھی گزشتہ دس سال سے برمنگھم میں مقیم ہیں۔ حضرت کی بہت زیادہ شفقت اورمحبت بھی پائی۔ ان کے چھوٹے تین بھائی بھی حافظ وعالم ہیں۔ غرض یہ شخص ایک سایہ دار وثمربار تھا۔ اپنے اور پرائے سبھی نے اس سے فیض حاصل کیا۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی یادیں تو ہم کبھی نہیں بھلا سکتے۔ اللہ رب العالمین اپنے اس مخلص بندے، بے لوث عالم دین اور ان تھک داعئ حق کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے اور جملہ پسماندگان، بالخصوص ان کی بیوہ محترمہ کو صبر جمیل اور اجرجزیل سے مالا مال فرمائے۔

مزید : کالم