عرس حضرت داتا گنج بخشؒ اورچہلم امام حسینؓ : حال اور ماضی!

عرس حضرت داتا گنج بخشؒ اورچہلم امام حسینؓ : حال اور ماضی!
عرس حضرت داتا گنج بخشؒ اورچہلم امام حسینؓ : حال اور ماضی!

  

یہ کوئی پہلی بار یا پہلے سال نہیں۔ ہر سال کی بات ہے کہ حضرت امام حسینؓ کا چہلم اور حضرت علی ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش ؒ کا عرس صفر کی 20 تاریخ کو بیک وقت ہوتے ہیں، یہ تو شہادت سیدالشہدا اور وفات حضرت علی ہجویری کی معینہ تاریخوں کے باعث ہے کہ چہلم اور عرس کی تاریخوں میں یکسانیت ہے۔ فرق البتہ اتنا ہے کہ آج یہ قابل احترام یوم بڑی گھٹن اور پابندیوں میں منائے جا رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ اس لئے عرس کے زائرین اور جلوس چہلم کے شرکاء کی بھی تلاشی لینا لازم ہوگیا ہے، جبکہ انتظامیہ کے لئے حفاظتی انتظامات بڑا مسئلہ بنتے ہیں۔

حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کا عرس تو سہ روزہ تقریبات کے تحت منایا جاتا ہے جس کا آغاز چادر پوشی اور مزار کو عرق گلاب سے غسل دے کر کیا جاتا ہے، جبکہ چہلم امام حسینؓ کا جلوس 20صفر کو نکلتا ہے کہ شہادت 10محرم الحرام کو ہوئی۔ یہ لاہور زندہ دلوں اور محبت کرنے والوں کا شہر ہے جسے عرف عام میں داتا کی نگری کہتے ہیں، کچھ زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا جب عرس کی تقریبات میں زائرین کی تعداد کو ہزاروں کی گنتی سے آگے گنا جاتا تھا اور یہاں عقیدت و جوش پایا جاتا، بازار سجتے اور دکانیں لگتی تھیں، میلے کا سماں ہوتا، پرانے لاہور والے روزانہ ٹولیوں کی شکل میں چادریں لیکر نکلتے اور درود و سلام اور نعتیں پڑھتے ہوئے مزارحضرت علی ہجویری پر آتے اور چادر چڑھا کر سلام عقیدت پیش کرتے۔اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے، پرانے شہر سے ہی نہیں شمالی لاہور سے بھی چادریں آتی ہیں، اس میں یہ بھی اضافہ کرلیں کہ چادر کے جلوس چلتے تو چادر کو کونوں سے پکڑ کر پھیلایا ہوتا، راستے میں بہت سے عقیدت مند جو مزار پر نہیں جا رہے ہوتے اس چادر میں اپنی طرف سے نقدی کی صورت میں نذرانہ ڈالتے جو بالآخر اس جلوس کے اختتام پر مزار پر چڑھا دیا جاتا، چادر اور رقم پیش کر دی جاتی ۔

لاہوریئے آج بھی یہ رسم نبھاتے ہیں، میلہ بھی لگتا اور درویش دھمال بھی ڈالتے ہیں، علماء کرام کا خطاب ہوتا تو قوالی اور نعت خوانی بھی ہوتی ہے۔ مزار کی جامع مسجد میں ہونے والی نماز فجر بڑی سحر انگیز اور فرحت بخش ہوتی ہے اور دعا میں تاثیر پائی جاتی ہے۔ یہ تو عرس کی بات ہے، اس مزار پر تو تہجد اور فجر کا درمیانی وقفہ عبادت گزاروں کے لئے بہت ہی پر اثر اور اطمینان بخش ہوتا ہے، ایسا سکون کہ دل و دماغ کو طمانیت ملتی ہے۔ بہت سے عقیدت مند ہیں جن کا یہ بھی معمول ہے کہ وہ نماز تہجد جامع مسجد میں ادا کرتے اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد واپس آتے ہیں جو مزہ اور سرور اس پہر میں ہے شاید ہی کبھی ملتا ہو، روزانہ آنے والے ہیں تو بعض عقیدت مند ہفتے یا مہینے میں کوئی ایک روز مقرر کر لیتے ہیں، مزار پر لنگر بھی جاری رہتا ہے۔ عقیدت مندوں کی پیش کردہ خوراک سے ہزاروں بھوکے بھوک مٹاتے ہیں۔

عرس کی ایک خاص بات دودھ کی سبیل ہے۔ جس کے بانی کا تو انتقال ہو چکا لیکن یہ روائت پختہ ہو چکی ہے۔ کہتے ہیں جس کسی کو کبھی خالص دودھ میسر نہ آیا ہو وہ عرس کے دنوں میں یہاں آکر سبیل سے دودھ پی لے اور پھر اسے ہضم کرکے دکھائے کہ ہمارے گوالے بھائی نہایت خلوص سے اپنی بھینسوں کا خالص ترین دودھ یہاں لا کر نذر کرتے ہیں، اسی حوالے سے یہ حقیقت بھی ہے کہ جب کوئی شہر کا مہمان گاؤں میں جائے اور اسے وہاں خالص دودھ اور دیسی گھی ملے تو اس کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے کہ بازار میں پیسے خرچ کرکے بھی خالص اشیاء کا حصول ناممکن ہے۔

مجھے یاد ہے کہ حضرت علی ہجویری کا عرس ہم لڑکوں اور نوجوانوں کے لئے بڑی گہری دلچسپی کا ذریعہ تھا اور ہم دوست مل کر جایا کرتے۔ ایک زمانہ تھا کہ عرس پر سرکلر باغات میں سرکس، تھیٹر اور اس کے باہر سڑک کے کنارے دکانیں لگتی تھیں، شہر والوں کو بھی دلچسپی ہوتی تو زائرین مزار پر حاضری کے ساتھ ساتھ ادھر بھی آ جاتے تھے۔ اب وہ صورت حال تو نہیں البتہ سرخ قتلمہ اور میٹھے پکوڑے ضرور مل جاتے ہیں، جو بڑے شوق سے کھائے جاتے ہین، کوئی خوف کوئی خطرہ اور کسی قسم کی ہنگامہ آرائی نہیں ہوتی تھی۔

دوسری طرف چوک نواب صاحب اندرون موچی / اکبری دروازہ ماتمی جلوسوں کے مرکز ہیں۔ یہیں سے دسویں محرم کو ذوالجناح اور صفر کی 20تاریخ کو چہلم کا جلوس نکلتا ہے ان کے روٹ متعین ہیں جو اندرون شہر ہی کے بازاروں کے ہیں اور اختتام کربلا گامے شاہ جو مزار داتا گنج بخشؒ کے قریب ترین ہے، آبادی کم اور خلوص زیادہ تھا اس لئے کوئی تنازعہ بھی نہیں تھا، محرم بھی مل کر منایا جاتا ہر کوئی ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتا تھا، اس لئے جلوس نکلتے تو کوئی خوف یا خطرہ نہیں ہوتا تھا، اب صورت حال مختلف ہے، یہ سب ایک غیرمرئی سے خوف کے سائے میں ہوتا ہے۔ عرس میں آنے والے زائرین اور چہلم کے جلوس میں شرکت کرنے والوں کی حفاظت اولین فرض بن جاتی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری تو بلائی جاتی ہے، جب سے مزار داتا گنج بخشؒ کے احاطے میں خودکش دھماکہ ہوا اور کربلا گامے شاہ کے باہر ماتمی جلوس میں دہشت گردی ہوئی تب سے اب تک حساس اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں کہ پرندہ بھی پر نہ مارے۔

یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ یہ تقریبات دین کے حوالے سے ہوتی ہیں تو حملہ آور بھی دین ہی کے حوالے سے اپنی کارروائیوں کا جواز تلاش کرتے ہیں، برین واشنگ کا عمل بھی ہوتا ہے۔ سب مانتے اور کہتے ہیں کہ مسلمان پر مسلمان کا قتل واجب نہیں، جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، لیکن عملی صورت حال مختلف ہے اب رواداری کا دور ہی نہیں، اب تو اپنے اپنے مسلکی تحفظات ہیں، ان کی وجہ سے شہریوں میں بے اطمینانی، بے چینی اور خوف کی ملی جلی کیفیت ہے تو انتظامیہ بھی سخت دباؤ میں رہتی ہے، تقریبات پرامن طور پر اختتام پذیر ہوں تو اللہ کا شکر بجا لایا جاتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ یہ حصرات خود مل کر حل تلاش کرلیں؟

مزید : کالم